• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کیا توبہ کرنے سے گناہ کی نحوست بھی ختم ہوجاتی ہے؟

استفتاء

کیا توبہ کرنے سے گناہ کی نحوست  (جیسے رزق کی کمی وغیرہ )ختم ہوجاتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سچی توبہ کرنے سے جس طرح گناہ معاف ہوجاتا ہے اسی طرح گناہ کی نحوست بھی ختم ہوجاتی ہے۔تاہم اس کا طبعی اثر باقی رہ سکتا ہے مثلا اس گناہ کا قلق ،افسوس،شرمندگی،ندامت  وغیرہ باقی رہ سکتی ہے۔

فيض القدير شرح الجامع الصغیر للمناوی (6/ 436) میں ہے:

 (لا كبيرة مع الاستغفار) أي طلب مغفرة الذنب من الله والندم على ما فرط منه والمراد أن التوبة الصحيحة ‌تمحو ‌أثر الخطيئة وإن كانت كبيرة حتى كأنها لم تكن فيلتحق بمن لم يرتكبها. والثوب المغسول كالذي لم يتوسخ أصلا قال الغزالي: فالتوبة بشروطها مقبولة ماحية لا محالة

ایضا (2/ 371) میں ہے:

 (إن العبد) في رواية إن المؤمن (إذا أخطأ خطيئة) في رواية أذنب ذنبا (نكتت) بنون مضمومة وكاف مكسورة ومثناة فوقية مفتوحة (في قلبه) لأن القلب كالكف يقبض منه بكل ذنب أصبع ثم يطبع عليه (نكتة) أي أثر قليل كنقطة (سوداء) في صیقل كمرآة وسيف وأصل النكتة نقطة بياض في سواد وعكسه قال الحرالي: وفي إشعاره إعلام بأن الجزاء لا يتأخر عن الذنب وإنما يخفى لوقوعه في الباطن وتأخره عن معرفة ظهوره في الظاهر (فإن هو نزع) أي قلع عنه وتركه (واستغفر الله وتاب) إليه توبة صحيحة ونص على الإقلاع والاستغفار مع دخولهما في مسمى التوبة إذ هما من أركانهما اهتماما بشأنهما (صقل) وفي نسخة سقل بسين مهملة أي رفع الله تلك النكتة فينجلي (قلبه) بنوره كشمس خرجت عن كسوفها فتجلت.

… فمن أذنب ذنبا أثر ذلك في نفسه وأورث لها كدورة فإن تحقق قبحه وتاب عنه زال الأثر وصارت النفس صقيلة صافية وإن انهمك وأصر زاد الأثر وفشي في النفس واستعلى عليها فصار طبعا وهو الران

ملفوظات حکیم الامت (20/239) میں ہے:

کثرت اشغا ل کو تشویش قلب لازم ہے

فرمایا اس قسم کے کاموں میں تشویش قلب لازم ہے خواہ وہ دینی ہوں یا دنیوی گو دینی کاموں کو ضرورت کی وجہ سے کیا جاتا ہے ۔ اور وہ منافی بھی نہیں توجہ الی الحق کے لیکن پھر بھی توجہ بلاواسطہ کے برابر نہیں ۔ چنانچہ ایسے کام کرنے کے بعد ابھی اہل اللہ کے قلب میں ایک طبعی کدورت پیدا ہو جاتی ہے اور استغفار کرتے ہیں ۔ یہی معنی ہیں اس حدیث کے لیغان علی قلبی ۔ یعنی حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے قلب میں بھی کدورت پیدا ہوجاتی ہے اور میں دن میں ستر (70 ) مرتبہ استغفار کیا کرتا ہوں ۔

معارف الحدیث مولفہ مولانا منظور نعمانیؒ (5/202)میں ہے:

ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مومن بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے نتیجہ میں اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے ، پھر اگر اس نے اس گناہ سے توبہ کی اور اللہ تعالی کے حضور میں معافی اور بخشش کی التجاء و استدعا کی تو وہ سیاہ نقطہ زائل ہو کر قلب صاف ہو جاتا ہے اور اگر اس نے گناہ کے بعد توبہ واستغفار کے بجائے مزید گناہ کئے اور گناہوں کی وادی میں قدم بڑھائے تو دل کی وہ سیاہی اور بڑھ جاتی ہے یہاں تک کہ قلب پر چھاجاتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہی وہ زنگ اور سیاہی ہے جس کا اللہ تعالی نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے کلا بل ران على قلوبهم  ما كانوا يكسبون

تشریح: قرآن مجید میں ایک موقع پر بد انجام کافروں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے “کلا بل ران على قلوبهم ما كانوا يكسبون”  جس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی بد کرداریوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ اور سیاہی آگئی ہے۔ رسول اللہ ﷺکی مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوا کہ گناہوں اور بد کرداریوں کی وجہ سے صرف کافروں ہی کے دل سیاہ نہیں ہوتے بلکہ مسلمان بھی جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں بھی گناہ کی نحوست سے ظلمت پیدا ہوتی ہے لیکن اگر وہ سچے دل سے توبہ واستغفار کرے تو یہ سیاہی اور ظلمت ختم ہو جاتی ہے اور دل حسب سابق صاف اور نورانی ہو جاتا ہے لیکن اگر گناہ کے بعد توبہ و استغفار نہ کرے یا کہ معصیت و نافرمانی ہی کے راستہ پر آگے بڑھتار ہے تو پھر یہ ظلمت برابر بڑھتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ پورے دل پر چھا جاتی ہے اور کسی مسلمان کے لئے بلا شبہ یہ انتہائی بد بختی کی بات ہے کہ گناہوں کی ظلمت اس کے دل پر چھا جائے اور اس کے قلب میں اندھیرا ہی اندھیرا ہو جائے۔اعاذنا اللہ منہ

فضائل اعمال (127) میں ہے:

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ حضرت عائشہ  ؓ کے بھانجے تھے، اور وہ اُن سے بہت محبت فرماتی تھیں، اُنھوں نے ہی گویا بھانجے کوپالاتھا، حضرت عائشہؓ   کی اس فیاضی سے پریشان ہوکر کہ خود تکلیفیں اُٹھائیں اور جو آئے وہ فوراً خرچ کردیں۔  ایک دفعہ کہہ دیا کہ: خالہ کاہاتھ کسی طرح روکنا چاہیے، حضرت عائشہؓ       کوبھی یہ فقرہ پہنچ گیا، اس پرناراض ہوگئیں کہ میرا ہاتھ روکناچاہتا ہے، اوراُن سے نہ بولنے کی نذر کے طور پرقَسم کھائی، حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کو خالہ کی ناراضی کا بہت صدمہ ہوا، بہت سے لوگوں سے سفارش کرائی؛ مگر اُنھوں نے اپنی قَسم کاعذر فرمادیا،آخر جب حضرت عبداللہ بن زبیرؓ بہت ہی پریشان ہوئے تو حضورﷺ کی ننھیال کے دوحضرات کوسفارشی بناکر ساتھ لے گئے، وہ دونوں حضرات اجازت لے کر اندر گئے، یہ بھی چھپ کر ساتھ ہولیے، جب وہ دونوں پردے کے پیچھے بیٹھے اور حضرت عائشہ  ؓ پردے کے اندر بیٹھ کر بات چیت فرمانے لگیں، تویہ جلدی سے پردے میں چلے گئے، اورجاکر خالہ سے لِپٹ گئے، اوربہت روئے اور خوشامد کی، وہ دونوں حضرات بھی سفارش کرتے رہے، اورمسلمان سے بولنا چھوڑنے کے مُتعلِّق حضور کے ارشادات یاد دلاتے رہے، اور احادیث میں جو ممانعت اس کی آئی ہے وہ سناتے رہے، جس کی وجہ سے حضرت عائشہ  ؓ ان احادیث میں جوممانعت اورمسلمان سے بولنا چھوڑنے پر جو عتاب وارد ہواہے، اُس کی تاب نہ لاسکیں اور رونے لگیں، آخر معاف فرمادیا اور بولنے لگیں؛ لیکن اپنی اس قَسم کے کفارے میں بار بار غلام آزاد کرتی تھیں، حتیٰ کہ چالیس غلام آزاد کیے، اورجب بھی اِس قَسم کے توڑنے کاخیال آجاتا اتناروتیں کہ دوپٹہ تک آنسوؤں سے بھیگ جاتا۔

فائدہ: ہم لوگ صبح سے شام تک کتنی قَسمیں ایک سانس میں کھالیتے ہیں،پھر اُس کی کتنی پرواہ کرتے ہیں؟ اِس کاجواب اپنے ہی سوچنے کا ہے، دوسراشخص کون ہر وقت پاس رہتا ہے جو بتاوے؟؛ لیکن جن لوگوں کے یہاں اللہ کے نام کی وَقعت ہے، اوراللہ سے عہد کرلینے کے بعد پورا کرنا ضروری ہے، اُن سے پوچھو کہ، عَہد کے پورا نہ ہونے سے دل پر کیاگزرتی ہے؟ اسی وجہ سےحضرت عائشہؓ کوجب یہ واقعہ یاد آتاتھاتوبہت زیادہ روتی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved