• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

مکان، عورت اور گھوڑے میں نحوست

استفتاء

مجھے ایک حدیث کی تلاش ہے آپ بتا دیں۔ حدیث” مکان، عورت اور گھوڑے میں نحوست ہے”۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ حدیث صحاح ستہ  کی اکثر کتب میں الفاظ کے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ موجود ہے۔ اور اسکا مطلب یہ ہے کہ اگر نحوست ہوتی تو ان چیزوں میں ہوتی اور ان میں نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ کسی چیز میں نہیں ہے۔

صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب ما یتقی من شؤم المرأۃ،حدیث نمبر 5094 ہے:

"عن ابن عمر، قال: ذكروا الشؤم عند النبي ﷺ، فقال النبي ﷺ:إن كان الشؤم في شيء، ففي الدار والمراة والفرس”

(حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے نحوست کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر نحوست کسی چیز میں ہو تو گھر، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے)

صحیح بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب ما یذکر من شؤم الفرس، حدیث نمبر 2859 ہے:

"عن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه، ان رسول الله ﷺ، قال:” إن كان في شيء ففي المراة، والفرس، والمسكن”

(حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓنے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا نحوست اگر ہوتی تو وہ گھوڑے، عورت اور مکان میں ہوتی)

عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری (طبع : دار احیاء التراث العربی، بیروت) جلد نمبر 14 صفحہ نمبر 151 پر ہے:

"وهنا اسم كان مقدر تقديره إن كان الشؤم في شيء حاصلا فيكون في المرأة والفرس والمسكن فقوله إن كان في شيء إلى آخره إخبار أنه ليس فيهن فإذا لم يكن في هذه الثلاثة فلا يكون في شيء”

علامہ ابن حجرؒ اس حدیث کی شرح  میں فتح الباری (طبع: دار الفکر، بیروت)جلد نمبر 6 صفحہ نمبر 150 پر  فرماتے ہیں:

"قال ابن العربي معناه إن كان خلق الله الشؤم في شيء مما جرى من بعض العادة فإنما يخلقه في هذه الأشياء”

(ابن عربی ؒ نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر  اللہ کسی چیز میں نحوست پیدا کرتے جن میں عادت جاری ہے (نحوست کا گمان ہے) تو ان (مذکورہ ) چیزوں میں پیدا کرتے)

صحیح مسلم، کتاب السلام، باب الطیرۃوالفأل وما یکون فیہ الشؤم، حدیث نمبر 5807 ہے:

"عن ابن عمر ، عن النبي ﷺ، انه قال: إن يكن من الشؤم شيء حق، ففي الفرس والمراة والدار”

‏‏‏‏(حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں بد شگونی  حق ہو تو وہ  گھوڑے اور عورت اور گھر میں ہو)

مرقاة المفاتىح شرح مشكوة المصابيح ، کتاب الطب والرقی، باب الفأل والطیرۃ ، حدیث نمبر 4586 (طبع : مکتبہ رشیدیہ جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 351) ہے:

"۴۵۸۶۔ وعن سعد بن مالک رضی الله عنه، ان رسول الله ﷺ قال: لا هامة ولا عدوى ولاطیرۃ وان تكن الطيرة في شيئ ففي الدار والفرس والمرأة۔

شرح: والمقصود منه نفي صحة الطيرة على وجه المبالغة۔۔۔۔ وعليه كلام القاضي حيث قال ووجه تعقيب قوله ولا طيرة بهذه الشرطية أنها تدل على أن الشؤم أيضا منفي عنها والمعنى أن الشؤم لو كان له وجود في شيء لكان في هذه الأشياء فإنها أقبل الأشياء لها لكن لا وجود له فيها فلا وجود له أصلا اه كلامه۔”

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved