- فتوی نمبر: 32-127
- تاریخ: 27 جنوری 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
عن أبي موسى الأشعري قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وسلّم:«من أحب دنياه أضر بآخرته ومن أحب آخرته أضر بدنياه فآثروا ما يبقى على ما يفنى»
رسول الله ﷺ نے فرمایا:جو شخص دنیا کو اپنا محبوب و مطلوب بنائے گا وہ اپنی آخرت کا ضرور نقصان کرے گا اور جو کوئی آخرت کو محبوب بنائے گا وہ اپنی دنیا کا ضرور نقصان کرئے گا پس (جب دنیا وآخرت میں سے ایک کو محبوب بنانے سے دوسرے کا نقصان برداشت کرنا لازم اور ناگزیر ہے تو عقل ودانش کا تقاضا یہی ہے کہ ) فنا ہو جانے والی دنیا کے مقابلہ میں باقی رہ جانے والی آخرت کو اختیار کرو۔(شعب الایمان للبیہقی:9854 ،الزہد و قصر الامل)
یہ حدیث شئیر کی گئی تھی جو کہ کافی دل کو سکون اور تسلی دینے والی ہے اور یقیناً تحقیق کے ساتھ ادارے سے ارسال ہوئی ہوگی۔مگر کچھ احباب کے ساتھ اس پر تکرار تھا ۔جاننا یہ تھاکہ:
1۔ کیا یہ مستند ہے؟
2۔شعب الایمان للبیہقی کیا صحیح بخاری کی طرح احادیث کا مجموعہ ہے؟
3۔اعتراض اس پر یہ تھا کہ دنیا کی آسائش کے پیچھے دوڑتے لوگ کیا مسلمان نہیں ہیں یوں تو غار میں جا کر بیٹھ جائےاور بس نماز روزے میں ہی لگا رہے۔
4۔ اسی باب میں اگر کوئی اور حدیث بھی ہو جو اس میں کہی گئی بات کو تقویت دیتی ہو تو بتا دیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1)یہ حدیث مستند ہے ۔
مجمع الزوائد للہیثمی ، ت:۸۰۷ھ(10/313) میں ہے:
عن أبي موسى الأشعري: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من أحب دنياه أضر بآخرته، ومن أحب آخرته أضر بدنياه، فآثروا ما يبقى على ما يفنى».
رواه أحمد، والبزار، والطبراني، ورجالهم ثقات
(2)شعب الایمان للبیہقی،صحیح بخاری کی طرح تو نہیں ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ جو حدیث صحیح بخاری میں نہ ہو وہ غیر مستند ہو ۔
(3) اس حدیث میں یہ کہاں کہا گیا ہے کہ جو دنیا کی آسائش کے پیچھے دوڑ تے ہیں وہ مسلمان نہیں؟
اس میں تو صرف یہ کہا گیا ہے کہ جو دنیا سے محبت کرے گا وہ اپنی آخرت کا نقصان کرئے گا اور ظاہر ہے کہ جو جس سے محبت کرے گا اسی کو ترجیح دے گا اور جب دنیا کو آخرت پر ترجیح دے گا تو اپنی آخرت کا کچھ نہ کچھ نقصان کرے گا۔
فیض القدیر لعبد الرؤف المناوی (7/547) ميں ہے:
(من أحب دنياه أضر بآخرته) لأن من أحب دنياه عمل في كسب شهوتها وأكب على معاصيه فلم يتفرغ لعمل الآخرة فأضر بنفسه في آخرته ومن نظر إلى فناء الدنيا وحساب حلالها وعذاب حرامها وشاهد بنور إيمانه جمال الآخرة أضر بنفسه في دنياه يحمل مشقة العبادات وتجنب الشهوات فصبر قليلا وتنعم طويلا۔
(4)اول تو خود مذکورہ حدیث دیگر متعدد کتب حدیث میں بھی موجود ہےمثلا مسند احمد بن حنبل (ج:11، ص: 401،رقم الحدیث:19585)،مسند بزار(ج:8،ص:71،رقم الحدیث:3067)میں بھی موجود ہے اور دوسرے اس مضمون کی حدیث مصنف لابن ابی شیبہ،ت:۲۳۵ھ(ج:19،ص :160،رقم الحدیث: 35660)، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبہانی،ت:۴۳۰ (1/198)،معجم الکبیر للطبرانی ،ت:۳۶۰ (ج:9،ص151،رقم الحدیث:8757) ميں بھی موجود ہے وہ حدیث یہ ہے:
حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي قيس عن هزيل عن عبد اللَّه قال: من أراد الآخرة أضر بالدنيا، ومن أراد الدنيا أضر بالآخرة، يا قوم فأضروا بالفاني للباقي۔
ترجمہ:عبد اللہ ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص آخرت کا ارادہ کرتاہے وہ دنیا کا نقصا ن کرتا ہے اور جودنیا کا ارادہ کرتا ہے وہ آخرت کا نقصان کرتا ہے لہذا باقی رہنے والی چیز کے لیے فانی چیز کا نقصان برداشت کرلو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved