• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

مرزائیوں کےساتھ تعلق کا حکم

استفتاء

مفتی صاحب !

میرے خاندان میں چند رشتہ دار امی کی طر ف سے ، اور چند رشتہ دار ابو  کی طرف سے احمدی (مرزائی ) ہیں ، میرے امی ابوکا انتقال ہوچکا ہے ۔ اب ہم بھائی بہنیں   ان  تمام (مرزائی ) رشتہ داروں سے تعلق قطع کر نا چاہتے ہیں   جس کے لئے فتوی درکا ر ہے  ۔

برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔جزاک اللہ

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مرزائی رشتہ داروں  کے ساتھ تعلقات رکھنا جائز  نہیں  ۔

احکام  القرآن للجصاص(3/243) میں ہے :

(ولا تركنوآ الي الذين ظلموا فتمسكم النار) (سورة هود الآية113)

والركون الي الشي هو السكون اليه بالانس والمحبة ، فاقتضي ذالك النهي عن  مجالسة الظالمين ومؤانستهم والانصات اليهم وهو مثل قوله تعالي (فلاتقعد بعد الذكري مع القوم الظالمين )

ترجمہ: اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں  پھر تم کو لگے گی آگ (تفسير عثمانی)

رکون (عربی زبان میں )  انس ومحبت کے ساتھ کسی چیز کی  طرف  مائل  ہونے  کو کہتے ہے ،پس  اس  نہی  کا تقاضا یہ ہے کہ   ظالم لوگوں کے ساتھ نہ  بیٹھا جائے  اور نہ  ان سے انس ومحبت  رکھا جائے  اور نہ ان کی طرف متوجہ  ہواجائے  جیسے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا  🙁 نصیحت  کے بعد  ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھے )

کفایت المفتی ( 1/323) میں ہے :

قادیانیوں کےساتھ میل جول ، رشتہ ناتا ناجائز ہے ، ان سے قائم شدہ رشتوں کو ختم کرنا ضروری ہے ۔

کفایت المفتی (1/324) میں ہے :

قا دیانی فرقہ جمہور علمائے اسلام کےفتوئے کےموجب  دائرہ اسلام سےباہر ہے ۔ اس لئے اس فرقہ کے ساتھ میل جول  اور تعلقات رکھنا سخت مضر اور دین  کے لیے تباہ کن  ہے ،۔ اس  حکم میں قادیانی اور لاہوری دونوں برابر  ہیں ۔

فتاوی محمودیہ (2/129) میں ہے:

مرزائی لوگ بفتوی علمائے حق کافر ومرتد ہیں ، ان کے ساتھ رشتہ ،مناکحت قطعا ناجائز ہے ۔۔۔مرتد خدا کا دشمن  ہے  ان سے جس قدر کوئی محبت کا تعلق  رکھے گا اسی قدر وہ خدا  کی رحمت سے دور ہوگا ،  دنياوآخرت   ميں خدا كے دشمنوں  كا شريك  و رفيق سمجھا جائےگا  ۔ اور یہ گناہ ان گناہوں سے بڑھ کر ہے جن کا تعلق محض اپنے نفس  سے ہے ، کیونکہ ایسا شخص خدا کے باغیوں کا ہم پلہ ہے۔ ( والعیاذ باللہ)

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved