- فتوی نمبر: 36-325
- تاریخ: 06 اکتوبر 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
ایک واقعہ سننے میں آتا ہے کہ کسی موقع پر صحابہ کو دشمن پر فتح نہیں ہو رہی تھی تو انہوں نے سوچا کہ کیا وجہ ہے تو پتہ چلا کہ اس وقت کی سنت چھوٹ گئی ہے سب نے مسواک کی تو فتح ہو گئی ۔ سوال یہ ہے کہ:
1۔کیا یہ واقعہ ثابت ہے ؟
2۔اگر ثابت ہے تو یہ کہاں کا واقعہ ہے؟
3۔ اور کس حد تک ثابت ہے ؟
4۔کسی مستند کتاب سے ترجمہ بھیج دیں ۔
5۔ کیا اسے بیان کرنا چاہیے ؟
6۔ایک اشکال یہ آتا ہے کہ صحابہ اور تابعین کی کثیر جماعت نے اجتماعی طور پر ایک سنت چھوڑ دی یہ بات دل نہیں مانتا ، برائے مہربانی تسلی بخش جواب عنایت فرمائيں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔بعض معتبر کتابوں میں اس طرح کا واقعہ مذکور ہے، تاہم ان میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا ذکر نہیں۔
2۔اس کا ذکر نہیں ملا ۔
3۔معتبر کتابوں میں مذکور ہے۔
4۔ترجمہ حوالوں میں مذکور ہے۔
5۔ اسے بیان کر سکتے ہیں ۔
6۔وقتی طور پر ایسا ہونا ممکن ہے۔
صلوة مسعودی لمسعود بن محمد بن یوسف السمرقندی ،ت:۶۶۴ھ(1/106) میں ہے:
حکایت آوردهاند کہ عبدالله بن مبارک مروزی (رحمہ اللہ) عمر خود را سہ قسم کرده بود: یک سال بہ حج رفتی و یک سال بہ غزو رفتی و یک سال علم درس کردی. تا آن سال کہ بہ غزو رفتہ بود، بر قلعہ گبران دستِ قدرت نمییافت. عبدالله بن مبارک (رحمہ اللہ) شبی در آن اندیشہ بہ خواب رفتہ بود؛ رسول علیہ السلام را بہ خواب دید. رسول علیہ السلام فرمودند کہ: ای عبدالله! در چہ اندیشہ ای؟گفت: یا رسول الله! بر این قلعہ گبران قادر نمیشوم، در این اندیشہ ام. رسول علیہ السلام فرمودند کہ : طہارت بہ مسواک کن و یاران خود را بفرمای تا طہارت بہ مسواک کنند.عبدالله از خواب بیدار شد، طہارت بہ مسواک ساخت و غازیان را نیز فرمود تا طہارت بہ مسواک ساختند. دیدهبانان از بالای قلعہ نگاه کرده، آن حالت را بدیدند. خدا عز و جل ہیبتی در دل ایشان انداخت. فرود آمدند و با اہلِ قلعہ گفتند کہ: این جماعت کہ آمدهاند، آدمخورانند کہ دندان ہا تیز میکنند تا اگر بر ما ظفر یابند، ما را از نہادِ ما برآورند و ما را بخورند! خداوند عز و جل ہیبتی در دل ایشان افکند، تا قاصدی فرستادند کہ: شمایان مال فی خواہید یا جان؟ عبدالله بن مبارک گفت: نہ مال و نہ جان؛ ہمہ اسلام آرید تا خلاص یابید. ہمہ اسلام آوردند بہ برکاتِ اقامتِ آن سنت.
ترجمہ: بیان کیا ہے کہ عبد اللہ بن مبارک مروزیؒ نے اپنی زندگی کے تین حصے کئے تھے ، ایک سال حج کو جاتے ، اور ایک سال غزوہ میں تشریف لے جاتے اور ایک سال علم کا درس دیتے تھے ، ایک مرتبہ ایک غزوہ میں تشریف لے گئے وہاں کفار کا قلعہ فتح نہیں ہوا تو آپ رات کو اسی فکر میں سو گئے کہ خواب میں دیکھا کہ حضور اقدسﷺ فرمارہے ہیں : اے عبداللہ ! کس فکر میں ہے؟ عرض کیا یارسول اللہﷺ کفار کے اس قلعے پر قادر نہیں ہوتا ہوں، اس فکر میں ہوں، رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ وضو مسواک کے ساتھ کیا کر، عبداللہ بن مبارکؒ خواب سے بیدار ہوئے، مسواک کے ساتھ وضو کیا ، اور غازیوں کو بھی حکم دیا، انہوں نے بھی مسواک کے ساتھ وضو کیا ، قلعہ کے نگہبانوں نے قلعہ کے اوپر سے غازیوں کو مسواک کرتے دیکھا اور خدائے تعالی نے ایک خوف ان کے دل میں ڈالا ، وہ نیچے گئے۔
اور قلعہ کے سرداروں سے کہا کہ یہ فوج جو آئی ہے یہ لوگ آدم خور معلوم ہوتے ہیں، دانتوں کو تیز کر رہے ہیں تاکہ اگر ہم پر فتح پائیں تو ہمیں کھائیں ، خدائے تعالی نے یہ دہشت ان کے دل میں بٹھادی ، اور مسلمانوں کے پاس قاصد بھیجا کہ تم مال چاہتے ہو یا جان ؟ عبد اللہ بن مبارک ؒ نے فرمایا: نہ مال چاہتے ہیں نہ جان، تم سب اسلام قبول کر لو تاکہ چھٹکارا پاؤ، اس سنت کے ادا کرنے کی برکت سے وہ سب مسلمان ہوگئے۔
مشارع الأشواق الی مصارع العشاق، لاحمد بن ابراہیم بن محمد الدمشقی الشہیر بابن نحاس، ت: ۸۱۴ھ (577/1) میں ہے:
ويحكى ان بعض عساكر المسلمين حاصروا حصنا من حصون الكفار فتوقف عليهم فتحه فقال اميرهم انظروا ماذا ارتكبتموه من البدع او تركتموه من السنن حتى عسر علينا فتح هذا الحصن فنظروا فاذا هم قد اهملوا السواك فاستعملوا السواك ففتح الله عليهم الحصن۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved