• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نئے سال کی مبارکبادی دینا

استفتاء

مسلمانوں کو خیر و برکت کی دعا کے ساتھ مبارک باد دینا یا مبارک بادی کے پیغامات بھیجنا جائز ہے؟ ۲۔ اگر جائز ہے تو اسکا اسلامی طریقہ (دعا وغیرہ) کیا ہے؟ جزاک اللہ خیراََ

جواب:

نئے سال کی مبارکباد دینے والا اس بات پر خوش ہوتا ہے کہ اللہ نے ہمیں زندگی کا ایک اور سال بھی دکھا دیا ہے جس میں ہمیں توبہ اور نیک عمل کمانے کا مزید موقع میسر آسکتا ہے۔ یہ مبارکباد خوشی اور اللہ تعالیٰ کے شکر کا اظہار ہے۔ اس لیے نئے سال کی مبارکباد دینے میں کوئی حرج نہیں ۔ ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو چھ حقوق ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب اسے خوشی پہنچے تو اسے مبارک باد دے۔

حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کی روایت جسے امام طبرانی نے الاوسط میں درج کیا‘ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ:

كان أصحاب النبي صلی الله علیه وآله وسلم يتعلمون هذا الدعاء إذا دخلت السنة أو الشهر: اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة و الإسلام، و رضوان من الرحمن، و جواز من الشيطان.

(الطبراني، الأوسط: 6241)

نئے سال یا مہینے کی آمد پہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے: اے اللہ! ہمیں اس میں امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ داخل فرما۔ شیطان کے حملوں سے بچا اور رحمن کی رضامندی عطاء فرما۔

کیا یہ درست ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

نئے  سال کے موقع پر جتنی بات  حضرات صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین  سے ثابت ہے  وہ درست ہے اور صحیح احادیث  سے ثابت ہے اس سے زائد بات احادیث یا  صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین   کےمعمول سے ثابت نہیں اس لیے  اس سے زائد بات کو معمول بنانے ا ور اس کی ترغیب سے احتیاط کی جائے۔ البتہ اگر کوئی اس موقع پر مبارک کہہ دے تو اس پر نکیر نہ کی جائے

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved