• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

نزول قران کی تاریخ

استفتاء

قرآن پاک کس سن ہجری اور کس ماہ میں اور کتنے وقت میں نازل ہوا؟مکمل تفصیلی فتوی عطا فرما دیجئے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

قرآن کریم دو مرحلوں میں نازل ہوا۔

پہلا نزول یکبارگی ہے یعنی مکمل قرآن ایک دفعہ نازل ہوا۔

یہ نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا کے ایک مقام (بیت عزت)پر ہوا جسے البیت المعمور بھی کہا جاتا ہے اور جو کعبۃ اللہ کے محاذات میں آسمان پرفرشتوں کی عبادت گاہ ہے،یہ نزول رمضان کےمہینےمیں اورلیلۃ القدر میں ہوا۔

دوسرا نزول بتدریج یعنی تھوڑا تھوڑا کرکےہوایہ نزول اس وقت شروع ہوا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چالیس سال تھی، اس نزول کا آغاز بھی صحیح قول کے مطابق لیلۃ القدر ہی سے ہوا ہے،اس طرح نزول قرآن کے آغاز کے بارے میں مندرجہ ذیل باتیں تو خود قرآن کریم سے ثابت ہیں۔

(1) اس کی ابتداء رمضان کے مہینے میں ہوئی،شهررمضان الذي انزل فيه القرآن( سوره بقره آيت185)۔

(2) جس رات نزول قرآن کا آغاز ہوا وہ شب قدر تھی،اناانزلناه في ليلة القدر(سوره قدر)۔

(3) یہ وہی تاریخ تھی جس کے گیارہ سال بعد غزوہ بدر پیش آیا۔ لیکن یہ رات رمضان کی کونسی تاریخ میں تھی؟

اس کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کہی جا سکتی۔ماخوذ از علوم القرآن لتقی عثمانی مدظلہ (55)

روح المعانی(30/189)میں ہے:

أنزل القران في رمضان ليلة القدر جملةواحدةثم أنزل على مواقع النجوم رسلافي الشهور والايام وكون النزول بعد في عشرين سنةقول لهم وقال بعضهم وهو الأشهر في ثلاث وعشرين….و الصحيح المعتمد عليه كما قال ابن حجر في شرح البخاري.انه أنزل جملةواحدةمن اللوح المحفوظ الى بيت العزة في السماء الدنيا بل حكي الاجماع عليه.

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved