• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

پرچم نبوی کا رنگ کیسا تھا ؟ اس پر کلمہ لکھا ہوا تھا ؟امام مہدی کے جھنڈے کا رنگ

استفتاء

السلام علیکم مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ (1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا کس رنگ کا  تھا اور اس پر کلمہ وغیرہ لکھا تھا یا نہیں ؟ اور (2) دوسرا یہ کہ امام مہدی علیہ السلام کا جھنڈا کس رنگ کا ہوگا اور اس   پر  کلمہ لکھا ہوگا یا نہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)رسول اللہ ﷺ نے جھنڈے کے لیے کسی خاص رنگ کا اہتمام نہیں فرمایا بلکہ ضرورت کے وقت جیسا کپڑا میسر ہوااسی کا جھنڈا بنالیا گیا۔ البتہ چونکہ سفید رنگ آپ ﷺ کو پسند تھا اس لیے عموما ً آپ ﷺ کے جھنڈے کا رنگ سفید ہوتا تھا اور کبھی سیاہ   رنگ بھی  استعمال  فرمایا ہے ۔البتہ   لشکر میں موجود مختلف قبائل کی پہچان  کے لیے سرخ  ، زرد  وغیرہ مختلف   رنگوں کے جھنڈے استعمال ہوتے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے  سے متعلق  عموما  تو صرف وہی احادیث ملتی ہیں جن میں اس کے رنگ کا ذکر کیا گیا ہے لیکن بعض روایات میں یہ اضافہ بھی ہے کہ اس پر کلمہ  لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا ۔

(2) امام مہدی  سے متعلق  احادیث میں  یہ بات تو ملتی ہے کہ  وہ سیاہ جھنڈوں والے لشکر میں ہوں گے ۔ لیکن ان  احادیث میں ان کے جھنڈوں پر کلمہ لکھا ہونے کا  ذکر نہیں ملتا ۔

سنن الترمذي (رقم الحديث 1679)  میں ہے :

عن جابر، أن النبي صلى الله عليه وسلم ‌دخل ‌مكة ولواؤه أبيض

ترجمہ : حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللهﷺ جب (فتح مکہ کے دن) مکہ میں   داخل ہوئے تو آپ کا بڑا جھنڈ اسفید تھا۔

سنن الترمذي(رقم الحديث 1681) میں ہے :

عن ابن عباس قال: «كانت ‌راية ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم سوداء، ولواؤه أبيض»

ترجمہ : حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لشکر کا چھوٹا جھنڈ ا سیاہ جبکہ بڑا جھنڈ ا سفید ہوتا تھا۔

سنن الترمذي (رقم الحديث1680) میں ہے :

قال: حدثنا يونس بن عبيد، مولى محمد بن القاسم قال: بعثني محمد بن القاسم إلى البراء بن عازب أسأله عن راية رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: «كانت سوداء ‌مربعة من نمرة»

ترجمہ؛حضرت براء بن عازبؓ  (سے رسول اللہﷺ  کے چھوٹے جھنڈے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ؓ) نے فرمایا  کہ آپ ﷺ کا چھوٹا جھنڈا چو کور سفید اور سیاہ دھاریوں والا ہو تا تھا جس پر سیاہی غالب ہوتی تھی۔

المعجم الأوسط للطبراني ( رقم الحدیث 219) میں ہے  :

 حدثنا أحمد بن رشدين قال: نا عبد الغفار بن داود أبو صالح الحراني قال: نا حيان بن عبيد الله قال: نا أبو مجلز لاحق بن حميد، عن ابن عباس قال: «كانت راية رسول الله صلى الله عليه وسلم سوداء ولواؤه أبيض، مكتوب عليه: لا إله إلا الله محمد رسول الله» . لا يروى هذا الحديث عن ابن عباس إلا بهذا الإسناد، تفرد به: حيان بن عبيد الله

ترجمہ: حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ آپﷺ کا چھوٹا جھنڈا سیاہ جبکہ بڑا جھنڈا سفید ہوتا تھا جس پر ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ” لکھا ہوا تھا۔

المستخرج من کتب الناس  للتذکرۃ لابن مندۃ م 470ھ(1/408) میں ہے :

أخبرنا غيلان بن محمد بن إبراهيم البغدادي، حدثنا أحمد بن سلمان، حدثنا أحمد بن زنجويه القطان، حدثنا محمد بن المتوكل، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرنا محمد بن أبي حميد، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: كانت ‌راية ‌رسول الله صلى الله عليه وسلم سوداء، ولواؤه أبيض مكتوب فيه ‌لا ‌إله إلا الله، محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم

عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری (14/232) میں ہے:

وروى ابن أبي عاصم في (كتاب الجهاد) من حديث كرز بن أسامة عن النبي صلى الله عليه وسلم، أنه عقد راية بني سليم حمراء، وروى أيضا من حديث مزيدة، يقول: كنت جالسا عند رسول الله، صلى الله عليه وسلم، فعقد راية الأنصار ‌وجعلها ‌صفراء

ترجمہ: حضرت کرز بن اسامہؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے بنی سلیم کے لیے سرخ جھنڈا باندھا ایک اور روایت میں ہے وہ کہتے ہیں  کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو آپﷺ نے انصار کا جھنڈا زرد رنگ کا باندھا۔

المستدرك على الصحيحين للحاكم (رقم الحدیث: 8531) میں  ہے:

عن ثوبان رضي الله عنه، قال: «إذا رأيتم الرايات السود خرجت ‌من ‌قبل ‌خراسان فأتوها ولو حبوا، فإن فيها خليفة الله المهدي» هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه “

ترجمہ:جب تم خراسان کی طرف سے نکلنے والے کالے جھنڈے دیکھو تو ان کے پاس پہنچو چاہے تمہیں زمین پر گھسٹ کرہی جانا  پڑے کیونکہ ان میں اللہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے۔

«زاد المعاد لابن القیم (1/ 127) ميں  ہے:

وكانت له راية سوداء يقال لها: العُقاب. وفي «سنن أبي داود» عن رجل من الصحابة قال: رأيت راية رسول الله – صلى الله عليه وسلم – صفراء، وكانت ألويته بِيضًا، وربما ‌جعل ‌فيها ‌الأسود

مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح (6/2509) میں ہے:

(فقال: كانت سوداء مربعة) : قال القاضي: ‌أراد ‌بالسوداء ما غالب لونه سواد بحيث يرى من البعيد أسود، لا ما لونه سواد خالص ; لأنه قال: (من نمرة) : بفتح فكسر وهي بردة من صوف يلبسها الأعراب فيها تخطيط من سواد وبياض، ولذلك سميت نمرة تشبيها بالنمر

جواہر الفقہ (2/156) میں ہے :

مجموعہ روایات حدیث سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ بڑا جھنڈا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا تھا وہ تو عموما سفید رہتا تھا کیونکہ سفید رنگ آپ  ﷺ کو محبوب تھا اور کبھی سیاہ بھی استعمال ہوا ہے اور لشکر کے مختلف حصوں کے لیے چھوٹے چھوٹے مختلف رنگوں کے سفید سیاہ  ، سرخ ، زرد اور سیاہ و سفید سے مرکب استعمال ثابت ہے اس مجموعہ تعامل سے معلوم ہوتا ہے کہ جھنڈوں کا کوئی خاص رنگ مطلوب و مقصود نہ تھا بلکہ وقت پر جس رنگ کا کپڑا میسر اگیا وہ استعمال کر لیا گیا اور یہی اسلامی سادگی اور اسلامی تعلیمات کا اصل مزاج ہے ۔سیرت حلبیہ کی روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رایہ سوداءجس کا ذکر حدیث میں ہے وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ   کی ایک چادر سے بنایا گیا تھا یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ وقت پر جیسا کپڑا آسانی سے مل گیا اس کو استعمال کر لیا گیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved