• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

پیشاب کیے ہوئے بچے کو اٹھا کر طواف کرنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ا س مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے بچے کو اٹھا کر طواف کیا اور بچے نے پیمپر میں پیشاب کیا ہوا تھا، تو اس کا یہ طواف درست ہوا یا نہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں طواف درست ہو گیا، دم یا اعادہ لازم نہیں۔ کیونکہ طواف کرنے والے کے اپنے کپڑوں پر نجاست ہو ت بھی بھی طواف ہو جاتا ہے اور دم یا اعادہ لازم نہیں ہوتا۔مذکورہ صورت میں تو طواف کرنے کے کپڑے یا بدن پر نجاست نہیں، صرف بچے کے بدن اور کپڑوں پر نجاست ہے جسے طواف کرنے والے نے اٹھایا ہوا ہے لہذا اس صورت میں تو بدرجہ اولیٰ طواف ہو جائے گا، اور دم یا اعادہ لازم نہ ہو گا۔

فتاویٰ شامی (3/ 471) میں ہے:

وفي البدائع: أنه [أي الطهارة من النجاسة الحقيقية] سنة، فلو طاف وعلى ثوبه نجاسة أكثر من الدرهم لا يلزمه شيء.

فتح  (3/ 47) القدیر میں ہے:

المنع من الطواف مع الثوب النجس ليس لأجل الطواف بل لصيانة المسجد عن إدخال النجاسة وصيانته عن التلويث.

فتح القدیر میں دوسری جگہ (3/ 47) ہے:

ولم يكن في ظاهر الرواية تنصيح سوى على الثوب والتعليل يفيد تعميم البدن أيضاً.

………………………………….. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved