• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

رمضان المبارک میں عشاء کی نماز سے متصل تراویح کے علاوہ آدھی رات کے بعد تہجد کی نماز کا کوئی ثبوت کتب احادیث میں ملتا ہے؟

استفتاء

ایک دوست کا سوال ہے کہ رمضان المبارک میں عشاء کی نماز سے متصل تراویح (قیام اللیل) کے علاوہ آدھی رات کے بعد تہجد کی نماز کا کوئی ثبوت کتب احادیث میں ملتا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

محدثین  حضرات عام طور پر تراویح  کے لیے “قیام شہر رمضان”  کا عنوان استعمال کرتے ہیں جبکہ “قیام اللیل” کا عنوان تہجد کے لیے استعمال کرتے ہیں لہٰذا سوال میں تراویح  کے لفظ کے بعد بطور تشریح اور  تفسیر کے بریکٹ میں جو “قیام اللیل” لکھا ہے یہ محدثین کے استعمال کے مطابق درست نہیں ۔ نیز محدثین کا یہ طرز عمل ہی بتاتا  ہے کہ تہجد ایک الگ نماز ہے اور تراویح ایک الگ نماز ہے۔نیز احادیث  میں  بھی رمضان میں  تراویح کے علاوہ تہجد کی نماز کا ثبوت ملتا ہے۔

صحیح بخاری (رقم الحدیث:1147) میں ہے:

عن ‌أبي سلمة بن عبد الرحمن أنه أخبره «أنه سأل عائشة رضي الله عنها: كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان؟ فقالت: ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة، يصلي أربعا، فلا تسل عن حسنهن وطولهن، ‌ثم ‌يصلي ‌أربعا، فلا تسل عن حسنهن وطولهن، ثم يصلي ثلاثا. قالت عائشة: فقلت: يا رسول الله، أتنام قبل أن توتر؟ فقال: يا عائشة، إن عيني تنامان ولا ينام قلبي»

ترجمہ: ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت  ہے انہوں نے حضرت عائشہؓ سے سوال کیا  کہ رسول اللہﷺ کی نماز رمضان المبارک میں کیسی تھی؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: آپﷺ  رمضان اور غیر رمضان میں 11 رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، چار  رکعتیں پڑھتیں، تو نہ پوچھ ان کے حسن اور طول کے بارے میں ، پھر چار رکعتیں پڑھتے تو نہ پوچھ ان کے حسن اور طول کے بارے میں پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سوجاتے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا: اے عائشہ میری آنکھیں سوتی ہیں ، میرا دل نہیں سوتا۔

اس  حدیث میں  جس نماز  کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد تہجد کی نماز ہے جس کی دلیل مندرجہ ذیل امور ہیں:

1۔امام بخاریؒ نے اس حدیث کو تہجد کے ابواب میں ذکر کیا ہے ۔

2۔ مذکورہ حدیث میں رمضان اور غیر رمضان دونوں کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ رمضان اور غیر رمضان میں صرف تہجد پڑھی جاتی ہے ، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ ﷺ رمضان میں بھی تہجد کی آٹھ رکعات پڑھا کرتے تھے۔

3۔ مذکورہ حدیث میں چار، چار  رکعت پڑھنے کا ذکر ہے جبکہ تراویح دو ، دو رکعت پڑھنا افضل ہے  جس سے معلوم ہوا کہ آپﷺ رمضان میں بھی تہجد کی نماز چار چار رکعات کرکے پڑھا کرتے تھے۔

4۔ مذکورہ حدیث میں صرف آٹھ  رکعت پڑھنے کا ذکر  ہے جوکہ تہجد کی نماز میں آپﷺ کا اکثری معمول ہے جبکہ حضرات صحابہ کرام ؓ کا اجماع ہے کہ   تراویح 20 رکعات ہیں، جس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ رمضان میں جو آٹھ رکعات پڑھا کرتے تھے وہ تراویح نہ تھی بلکہ تہجد کی نماز تھی۔ نیز آجکل بھی حرمین شریفین میں تراویح کے علاوہ قیام اللیل ہوتا ہے جس پر کسی اہل علم کی نکیر ثابت نہیں  جس سے معلوم ہوا کہ قیام اللیل کے ثبوت پر اہل علم کا اجماع ہے۔

الابواب والتراجم علی صحیح البخاری للشیخ زکریا کاندھلویؒ (ص:642) میں ہے:

باب قيام النبى صلى الله عليه وسلم باللیل فى رمضان وغيره: لعله أشار به إلى أن ما ورد فى حديث عائشة رضى الله عنها المراد به التهجد: ولذا أدخله فى أبوابه وأيضا ذكر فى الترجمة: فى رمضان وغيره: فان التراويح لايكون فى غير رمضان.

اعلاءالسنن (7/1817) میں ہے:

وتأيد ذلك بحديث ورد فيه مرفوعا الى النبى صلى الله عليه وسلم انه كان يصلى في رمضان عشرين ركعة من الليل وسيأتى ذكره: لا يخفى ان العشرين هذه غير التهجد

فتح الملہم (ص:126)   میں ہے:

وقال شيخ مشايخنا مولانا الجنجوهى رحمه الله: كأن السائل ظن أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعله كان يزيد فى رمضان على ما يتهجد فى غيره: فروته بقولها ما  كان يزيد فى رمضان ولا فى غيره أى فى غالب الاحوال والاوقات، فالغرض الانكار على زيادة ركعات التهجد لخصوصة رمضان فلا ينافيه ما كان يصليه فى بعض الاحيان فوق احدى عشرة ركعة وكذا لا تعلق له بصلاة التراويح نفيا ولا اثباتا فكأنها صلاة اخرى غير التهجد لان التهجد يكون بعد الهجود والتراويح قبله واليه يشير ظاهر ما قال عمر بن الخطاب رضى الله تعالى عنه والتى ينامون عنها أفضل من التى يقومون: يعنى آخر الليل وكان الناس يقومون اوله

صحيح بخار ى(3/90) میں ہے:

قال عمر رضى الله عنه:………. ‌والتي ‌ينامون عنها أفضل من التي يقومون

ترجمہ: حضرت عمرؓ نے فرمایا: وہ  نماز جس سے تم سو جاتے ہو(یعنی تہجد)  اس  نماز سے افضل ہے جسے تم پڑھتے ہو (یعنی تراویح)۔

حضرت  عمرؓ کے فرمان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ تراویح الگ نماز ہے اور تہجد الگ نماز ہے۔

چنانچہ اوجز المسالک (2/384) میں ہے:

( والتي تنامون) بفوقية أي الصلاة أو الساعة التي تنامون ( عنها ) والمراد على كليهما الصلاة في آخر الليل ولفظ ابن أبي شيبة عن عبد الرحمن بن عبد القاري قال : قال عمر في الساعة التي ينامون عنها : أعجب إلي من الساعة التي يقومون فيها ( أفضل من) الصلاة (التي تقومون) بها (يعني) عمر بن الخطاب بهذا الكلام بيان الفضل في الصلاة (آخر الليل وكان الناس) أي أكثرهم ( يقومون) إذ ذاك ( أوله ) فالظاهر أنهم ينامون آخره .                     

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved