• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

رخصتی سے قبل متفرق تین طلاق

  • فتوی نمبر: 1-253
  • تاریخ: 12 اگست 2007

استفتاء

میں اپنی بچی کا نکاح چار سال قبل ماموں زاد سے کیا تھا اور رخصتی ابھی تک نہ ہوئی ہے۔ اب وہ مزید دو سال کا عرصہ پھر مانگ رہے ہیں۔ ہم نے  انکار کیا تو موبائل پر دس مرتبہ طلاق کا لفظ لکھ دیا۔ تو کیا طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

اس نے طلاق کا لفظ دس مرتبہ موبائل پر استعمال کیا تھا ” کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں اور تمہیں دس سال تک بٹھائے رکھوں گا، فیصلہ لینا ہے تو میں تمہیں دس سال تک اسی طرح رکھوں گا۔ جو لفظ موبائل پر استعمال ہوئے میں نے لکھ دیے۔

میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔ اس طرح دس بار لکھا تھا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شوہر کے پہلے جملے سے ہی ایک طلاق بائنہ واقع ہوگئی۔ اور عورت کی رخصتی نہ ہونے کی وجہ سے اس پر عدت نہیں۔ طلاق کےباقی الفاظ فضول ہوئے۔

كتب الطلاق، إن مستيبناً على نحو لوح وقع إن نوى، و قيل مطلقاً قال الشامي تحت قوله           ( كتب الطلاق) … و إن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو. (رد المحتار: 4/ 442)

قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق ثلاثاً وقعن و إن فرق بانت بالأولى و لذا لم يقع الثانية.

( شامی: 4/ 499) فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved