- فتوی نمبر: 32-129
- تاریخ: 27 جنوری 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > سیر و مناقب اور تاریخ
استفتاء
محترم مفتی صاحب! یہ ایک شیعہ ساتھی ہیں انہوں نے تحریر بھیجی ہے کیا یہ درست ہے؟ ان کادعوی یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نکاح سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے تاریخی طور پرناممکن ہے جس کے دلائل یہ ہیں ۔
1-تاریخ کہتی ہے کہ جب عمر بن خطاب اسلام لائے تو اس وقت ان کی عمر 40 برس تھی اورتریسٹھ 63 برس کی عمر میں عمر بن خطاب قتل ہو گئے ۔
2-تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ دعوت ذوا لعشیرہ یعنی اسلام کی پہلی دعوت کے وقت امام علیؓ کی عمر مبارک نو برس تھی
3-تمام شیعہ سنی مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام علیؓ کا جناب فاطمہ زہرا ؓسے نکاح 25 برس کی عمر میں ہوا یعنی دعوت ذوالعشیرہ کے 16 برس بعد۔ یعنی عمر بن خطابؓ دعوت ذوا لعشیرہ کے 7 سال بعد اسلام لائے یعنی جب انہوں نے کلمہ پڑھا تو اس وقت امام علیؓ کی عمر مبارک 16 برس تھی ۔
4-عمرؓ کے اسلام لانے کے نو برس بعد امام علیؓ کا نکاح بحکم خدا جناب حضرت زہرا ؓسے ہوا یعنی 25 سال کی عمر میں یعنی جب امام علیؓ کی شادی ہوئی تب عمر بن خطاب 49 برس کے تھے۔(40+9=49برس)
5۔تمام مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ امام علیؓ کی شادی کے ایک سال بعد امام حسن کی ولادت باسعادت ہوئی دو برس بعد امام حسین دنیا میں تشریف لائے اور پھر چار برس بعد سیدہ زینب کی ولادت باسعادت ہوئی ۔
6-اہل سنت مؤرخین کے مطابق جناب ام کلثومؓ بنت امام علیؓ جناب زینبؓ کے دو سال بعد پیدا ہوئیں تو بی بی ام کلثومؓ کی پیدائش پر عمر بن خطاب کی عمر 55 برس تھی (55=6+49)
جناب ام کلثومؓ کی ولادت کے ٹھیک 8سال بعد عمر ؓقتل ہو گئے یعنی 63 سال کی عمر میں(8=55-63)
اب نتیجہ نکالتے ہیں کہ اہل سنت تاریخ دانوں کے مطابق عقد ام کلثومؓ عمرؓ کے مرنے سے تین سال پہلے ہوا اور سب نے یہ بھی لکھا ہے اس مبینہ نکاح سے عمر کے ہاں ام کلثوم سے ایک بیٹا بھی پیدا ہوا جس کا نام زید بن عمر تھا اس شادی کے وقت ام کلثوم کی عمر پانچ برس ہوئی(5 -3=8) مجھے بتائیں گے کہ کس عقلی اور منطقی قانون کے تحت 5برس کی عمر میں کسی بچی کی شادی بھی ہو جائے اور اس سے ایک بچہ بھی پیدا ہو جائے لعنة الله على الكاذبين خداکی لعنت ہو جھوٹوں پر بے شمار ۔
اپنے عالم دین مفتی صاحب سے یہ بات کلیئر کر دیں آپ کا بے حد ممنون ہوں گا ۔یہ بات کلیئر ہو جائے تو باقی ہزار سوال نہیں پیدا ہوں گے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ اس شیعہ سے کہیں کہ اس نےاپنی مذکورہ تحریر میں جن دلائل کی وجہ سے حضرت عمرؓکےحضرت سیدہ اُم کلثومؓ سے نکاح کو تاریخی طور پر ناممکن کہا ہے ان دلائل کے شیعہ سنی مؤرخین کی کتابوں سے بمع صفحہ وجلد حوالے بھی ذکر کردے ۔
ان شاء اللہ اسی سےمعلوم ہو جائے گا کہ لعنة الله على الكاذبين (خداکی لعنت ہو جھوٹوں پر بے شمار)کا مصداق کون ہیں۔
ہم آپ کی تسلی کے لئے اس شیعہ کے جھوٹے ہونے کے چند حوالے ذکر دیتے ہیں ۔
1۔اس شیعہ نے اپنی مذکورہ تحریر میں کہا ہے کہ “تاریخ کہتی ہے کہ جب عمرؓ بن خطاب اسلام لايا تو اس کی عمر 40برس تھی۔
جبکہ تاریخ کی متعدد کتابوں میں یہ مذکور ہے کہ حضرت عمرؓکے اسلام لانے کے وقت ان کی عمر26یا 27سال تھی (نہ کہ40سال )
چنانچہ تاریخ الخلفاء للسیوطی (ص91)میں ہے:
عن أسلم مولى عمر قال: أسلم عمر في ذي الحجة من السنة السادسة من النبوة، وهو ابن ست وعشرين سنة
ترجمہ:حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت اسلمؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبوت کے چھٹے سال میں ذوالحجہ کے مہینے میں اسلام لائےاوراس وقت ان کی عمر (26)سال تھی ۔
تاریخ الخلفاء الرشدین، لعلی محمد الصلابی (جلد2ص29)میں ہے :
اسلم عمر في ذى الحجة من السنة السادسة من النبوة وهو ابن سبع وعشرین سنة
ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبوت کے چھٹے سال میں ذوالحجہ کے مہینےمیں اسلام لائےاوراس وقت ان کی عمر (27)سال تھی ۔
تاريخ الإسلام للشمس الدین الذہبی(جلد2 ص253)میں ہے :
«أسلم في السنة السادسة من النبوة وله سبع وعشرون سنة
ترجمہ:حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبوت کے چھٹے سال میں مسلمان ہوئےاوراس وقت انکی عمر 27 سال تھی۔
2-اس شیعہ نے اپنی مذکورہ تحریر میں کہا ہے کہ تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ اسلام کی پہلی دعوت کے وقت امام علیؓ کی عمرمبارک 9برس تھی ۔
جبکہ تاریخ کی متعدد کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤرخین کا حضرت علی ؓ کی اسلام لانے کے وقت 9 برس عمر ہونےپر اتفاق نہیں بلکہ اختلاف ہے ۔
چنانچہ تاریخ الاسلام للذہبی (جلد2ص221) میں ہے :
.قال عروة: أسلم علي وهو ابن ثمان.وقال الحسن بن زيد بن الحسن: أسلم وهو ابن تسع.وقال المغيرة: أسلم وله أربع عشرة سنة. رواه جرير عنه.
ترجمہ: حضرت عروہ ؓفرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کی اسلام لانے کے وقت عمر 8سال تھی “اورحضرت حسن بن زیدبن حسن ؒ فرماتے ہیں کہ عمر 9سال تھی “اور حضرت مغیرہ ؓ فرماتے ہیں کہ عمر 14سال تھی ۔
تاريخ الخلفاءللسيوطی(ص132) میں ہے :
«وأخرج أبو يعلى عن علي رضي الله عنه قال: بعث الرسول صلى الله عليه وسلم يوم الاثنين وأسلمت يوم الثلاثاء وكان عمره حين أسلم عشر سنين، وقيل: تسع، وقيل: ثمان، وقيل: دون ذلك
ترجمہ:حضرت علی ؓ فر ماتے ہیں کہ میں منگل کے دن مسلمان ہوا اس وقت ان کی عمر 10سال تھی اور ایک قول یہ ہے کہ 9سال تھی اورایک قول یہ ہےکہ 8سال تھی اور ایک قول اس سے بھی کم کا ہے ۔
البدایہ والنہایہ (جلد10ص412) میں ہے:
أسلم علي قديما وهو ابن سبع، وقيل: ابن ثمان. وقيل: تسع. وقيل: عشر. وقيل: إحدى عشرة. وقيل: اثني عشرة. وقيل: ثلاث عشرة. وقيل: أربع عشرة. وقيل: ابن خمس عشرة، أو ست عشرة سنة. قاله عبد الرزاق، عن معمر، عن قتادة، عن الحسن. ويقال: إنه أول من أسلم. والصحيح أنه أول من أسلم من الغلمان
ترجمہ:حضرت علی ؓ اسلام لانے کےوقت 7سال کےتھے” اورایک قول یہ ہےکہ8 سال کے تھے” اورایک قول یہ ہےکہ9 سال کےتھے ” اورایک قول یہ ہےکہ10 سال کےتھے ” اورایک یہ ہےکہ11 سال کے تھے ” اورایک قول یہ ہےکہ12 سال کےتھے ” اورایک قول یہ ہےکہ13 سال کے تھے ” اورایک قول یہ ہےکہ14 سال کے تھے ” اورایک قول یہ ہےکہ15 سال کےتھے اورایک قول یہ ہےکہ16 سال کےتھے۔
3- اس شیعہ نے اپنی مذکورہ تحریر میں کہا ہے کہ”اس شادی کے وقت امُ کلثوم کی عمر پانچ برس تھی “جبکہ تاریخی روایات میں ہے کہ حضرت امُ کلثوم ؓ کی پیدائش سن چھ (6) ہجری میں ہوئی ہے اور حضرت عمرؓ کی وفات سن تیئس (23) ہجری میں ہوئی ہے لہذا حضرت عمر ؓ کی وفات کے وقت حضرت امُ کلثوم ؓ کی عمر تقریبا َ سترہ (17) سال بنتی ہے اب بقول اس شیعہ کے وفات سے تین (3) سال پہلے بھی نکاح ہوا ہو تو یہ نکاح حضرت امُ کلثوم ؓ کی چودہ (14)سال کی عمر میں ہوا اور نکاح کے نوُ (9) ماہ بعد بھی اگر بچہ پیدا ہوا ہو تو تقریباَ پندہ (15) سا ل کی عمرمیں ہو اور اگر نوُ (9) ماہ سے بھی مزید تاخیر سے پیدا ہو اہو تو سولہ ،سترہ(16،17) سال میں پیداہوا اب اس عمر میں بچہ پیدا ہونے میں کون سے عقلی ا ور منطقی قانون کی خلاف ورزی ہے ؟
چنانچہ سير اعلام النبلاء للذہبی ؒ (جلد4ص47) میں :
أم كلثوم بنت علي بن أبي طالب بن عبد الملطب بن هاشم، الهاشمية، شقيقة الحسن والحسين، ولدت في حدود سنة ست من الهجرة، ورأت النبي صلى الله عليه وسلم، ولم ترو عنه شيئا
ترجمہ : اُم کلثوم، علی بن ابی طالب بن عبد الملطلب بن ہاشم کی بیٹی، حسن ؓو حسینؓ کی سگی بہن، سن چھ ہجری میں پیدا ہوئیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاہے اور آپﷺ سے کوئی روایت نہیں کی۔
البدایہ والنہایہ (جلد7 ص138 ) میں ہے :
قال الواقدي رحمه الله: حدثني أبو بكر بن إسماعيل بن محمد بن سعد عن أبيه قال: طعن عمر يوم الأربعاء لأربع ليال بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين، ودفن يوم الأحد صباح هلال المحرم سنة أربع وعشرين، فكانت ولايته عشر سنين
ترجمہ : حضرت عمرؓ كو 23 ہجری 26ذوالحجہ کو بدھ کے دن زخمی کیا گیا اور یکم محرم 24ہجری اتوار کے دن آپ رضی اللہ عنہ کے تدفین ہوئی ۔
تاريخ دمشق لابن عساكر (جلد44ص464) میں ہے :
طعن عمر بن الخطاب يوم الأربعاء لأربع ليال بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين ودفن يوم الأحد صباح هلال المحرم سنة أربع وعشرين فكانت ولايته عشر سنين»
ترجمہ : حضرت عمرؓ كو 23 ہجری 26ذوالحجہ کو بدھ کے دن زخمی کیا گیا اور یکم محرم 24ہجری اتوار کے دن آپ رضی اللہ عنہ کی تدفین ہوئی ۔
معرفۃ الصحابہ لابی نعيم (جلد1 ص39) ميں ہے:
عن محمد بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه، قال: «طعن عمر رضي الله عنه يوم الأربعاء لأربع ليال بقين من ذي الحجة، سنة ثلاث وعشرين، ودفن يوم الأحد صبيحة هلال المحرم، فكانت ولايته عشر سنين
ترجمہ : حضرت عمرؓ كو 23 ہجری 26ذوالحجہ کو بدھ کے دن زخمی کیا گیا اور یکم محرم 24ہجری اتوار کے دن آپ رضی اللہ عنہ کی تدفین ہوئی ۔
نیز اس نکاح کو خود شیعہ حضرات بھی تسلیم کرتے ہیں ۔
چنانچہ فروع الکافی للشیخ الکلینی (جلد6ص75) میں ہے
حميد بن زياد، عن ابن سماعة، عن محمد بن زياد، عن عبد الله بن سنان، ومعاوية ابن عمار، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: سألته عن المرأة المتوفى عنها زوجها أتعتد في بيتها أو حيث شاءت؟ قال: بل حيث شاءت، إن عليا عليه السلام لما توفي عمر أتى أم كلثوم فانطلق بها إلى بيته
ترجمہ :میں نے ابو عبدلله سے پوچھا کہ وہ عورت جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو وہ عدت شوہر کے گھر میں پوری کرے گی یا جہاں وہ چاہے کر لے؟ امام (رضی اللہ تعالی عنہ) نے فرمایا جہاں وہ چاہے کر لے کیونکہ حضرت عمر (رضی اللہ تعالی عنہ) کے انتقال کے بعد حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) ام کلثوم (رضی اللہ تعالی عنہما) کو اپنے گھر لے آئے۔
نیز ایک دوسری کتاب “تہذیب الاحکام للشیخ الطوسی (جلد9ص 308)میں ہے:
محمد بن أحمد بن يحيى عن جعفر بن محمد القمي عن القداح عن جعفر عن أبيه عليه السلام قال: ماتت أم كلثوم بنت علي عليه السلام وابنها زيد بن عمر بن الخطاب في ساعة واحدة لا يدرى أيهما هلك قبل فلم يورث أحدهما من الآخر وصلى عليهما جميعا.
ترجمہ :امام جعفر (رضی اللہ تعالی عنہ) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا حضرت ام کلثوم بنت علی (رضی اللہ تعالی عنہما) اور ان کے بیٹے زید بن عمر بن خطاب ایک ہی لمحہ میں فوت ہوے۔ اور یہ پتہ نہ چل سکا کہ ان دونوں میں سے پہلے کون فوت ہوا تو اس صورت میں ایک دوسرے کا وارث نہ بنایا جا سکا اور ان دونوں پر اکٹھی نماز پڑھی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved