- فتوی نمبر: 32-190
- تاریخ: 05 اپریل 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > قرآن کریم
استفتاء
1۔کیاسورۃ البقرہ کی جادو کے علاج میں کوئی فضیلت ہے؟ 2۔تو اس کو کس اہتمام سے یا کس طریقے سے گھر میں پڑھا جائے؟گھر میں کچھ مسائل ہیں بظاہر جادو کے اثرات وغیرہ ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ مہینے میں تین دن تو پڑھنی چاہیے،کوئی کہتا ہے چالیس دن پڑھ لیں ۔3۔کوئی کہتا ہے عامل سے پوچھے بغیر نہیں پڑھنی چاہیے ۔اس طرح کی مختلف باتیں ہیں۔
اس بارے میں وضاحت فرما دیں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔سورۃ البقرہ کے فضائل کی حدیث میں ایک جملہ یہ بھی آتا ہے کہ “لا تستطيعها البطلة” ترجمہ: بطلہ (سست لوگ یا اہل باطل) اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔
اہل باطل سے بعض اہل علم نے جادو گر مراد لیے ہیں اور یہ مطلب بیان کیا ہے کہ جادو گروں کو اس سورت کے پڑھنے کی توفیق نہیں ملتی اور ایک مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس سورت کے پڑھنے والے پر جادوگر قابو نہیں پاسکتے۔
2۔ گھر میں سورۃ البقرہ پڑھنے کے لیے حدیث میں کوئی خاص عدد اور طریقہ ذکر نہیں ہے اس لیے روزانہ ایک مرتبہ پڑھ لیں تو یہ بھی کافی ہے۔
3۔ سورۃ البقرہ پڑھنے کے لیے کسی عامل سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔
مشکاۃ المصابیح (رقم الحدیث: 2120) میں ہے:
عن أبي أمامة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «اقرءوا القرآن فإنه يأتي يوم القيامة شفيعا لأصحابه اقرءوا الزهراوين البقرة وسورة آل عمران فإنهما تأتيان يوم القيامة كأنهما غمامتان أو كأنهما غيايتان أو فرقان من طير صواف تحاجان عن أصحابهما اقرءوا سورة البقرة فإن أخذها بركة وتركها حسرة ولا تستطيعها البطلة. رواه مسلم
مرقاۃ المفاتیح (4/1461) میں ہے:
(اقرءوا سورة البقرة) قال الطيبي: تخصيص بعد تخصيص بعد تعميم أمر أولا بقراءة القرآن وعلق بها الشفاعة، ثم خص الزهراوين وأناط بهما التخلص من حر يوم القيامة بالمحاجة، وأفرد ثالثا البقرة وأناط بها أمورا ثلاثة حيث قال (فإن أخذها) ، أي المواظبة على تلاوتها والتدبر في معانيها والعمل بما فيها (بركة) ، أي منفعة عظيمة (وتركها) بالنصب ويجوز الرفع، أي تركها وأمثالها (حسرة) ، أي ندامة يوم القيامة، كما ورد: ” «ليس يتحسر أهل الجنة إلا على ساعة مرت بهم ولم يذكروا الله فيها» ” (ولا يستطيعها) بالتأنيث والتذكير، أي لا يقدر على تحصيلها (البطلة) ، أي أصحاب البطالة والكسالة لطولها، وقيل: أي السحرة لأن ما يأتون به باطل، سماهم باسم فعلهم الباطل، أي لا يؤهلون لذلك أو لا يوفقون له، ويمكن أن يقال: معناه لا تقدر على إبطالها أو على صاحبها السحرة لقوله – تعالى – فيها {وما هم بضارين به من أحد إلا بإذن الله}
معارف القرآن (1/103) میں ہے:
یہ قرآن کریم کی سب سے بڑی سورت اور بہت سے احکام پر مشتمل ہے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ سورۃ ٔ بقرہ کو پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا برکت ہے، اور اس کا چھوڑنا حسرت اور بدنصیبی ہے، اور اہل باطل اس پر قابو نہیں پاسکتے۔
قرطبی نے حضرت معاویہ سے نقل کیا ہے کہ اس جگہ اہل باطل سے مراد جادوگر ہیں مراد یہ ہے کہ اس سورت کے پڑھنے والے پر کسی کا جادو نہ چلے گا (قرطبی از مسلم بروایت ابوامامہ باہلی)
عملیات وتعویذا ت کے شرعی احکام (ص:80) میں ہے:
۱۔فرمایا: وظائف کی اجازت طلب کرنے کو لوگ مؤثر سمجھتے ہیں۔ بعض لوگوں سے میں نے دریافت کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟ (یعنی اجازت کیوں لیتے ہو؟) وہ کہتے ہیں کہ اس میں برکت ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر برکت کی دعا کردوں تو پھر قلب کو ٹٹولو وہی اثر ہوگا جو اجازت دینے کا تھا؟ ہرگز نہیں۔ معلوم ہوا کہ اندر چور ہے اور عقیدہ خراب ہے۔
۲۔فرمایا: وظیفوں کی اجازت لینے میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ عقیدے کا فساد ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں برکت ہوتی ہے۔ میں نے ایک شخص سے کہا کہ اجازت تو منصوص نہیں اور اس کا ثواب نہیں اور دعا منصوص ہے اور اس پر ثواب بھی ہے۔ اگر دعا کردوں تو دل کو ٹٹول کر دیکھ لیا جائے کہ وہ کیفیت نہ ہوگی جو اجازت میں ہے۔ اجازت کی اصل یہ تھی کہ ایک دفعہ بزرگ وظیفہ سن لیتے تھے تاکہ غلط نہ پڑھا جائے۔ اب تو مولوی لوگ بھی اجازت لیتے ہیں۔ یہ محض رسم اور عقیدے کا فساد ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved