• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

” تمہیں تو خدا بھی نہیں اٹھا سکتا نیند سے” کہنے کا حکم

استفتاء

کسی نے کہا کہ تمہیں تو   خدا بھی  نہیں اٹھا سکتا نیند سے لیکن جب اسے متنبہ کیا گیا تو اسے احساس ہوا کہ اس نے یہ بات  بے دھیانی میں کہی ہے یا پھر جہالت میں کہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ  یہ جملہ   کہنے سے آدمی کافر تو نہیں ہوجاتا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ جملے میں  اگرچہ قدرت کی نفی ہے جو کفر کی بات ہے لیکن بعض اوقات  قدرت کی نفی سے فعل کی نفی مراد ہوتی ہے جوکہ کفر  کی بات نہیں جیساکہ “فظن ان لن نقدر عليه” میں فعل کی نفی مراد ہے اور جب کسی کلام میں کفر اور غیر کفر دونوں کا احتمال ہو تو ایسے کلام والے کی تکفیر نہیں کی جاسکتی۔ نیز مذکورہ جملہ چونکہ بے دھیانی  میں یا جہالت میں کہا ہے اور بے دھیانی یا جہالت میں اگر کوئی کلمہ کفر  کہے تو بعض  اہل علم  کے نزدیک اسکی تکفیر نہیں کی  جاتی اور جس بات کے کفر ہونے یا نہ ہونے میں اہل علم کااختلاف ہو  گو وہ اختلاف ضعیف  درجے کا ہو تو ایسی صورت میں  بھی کلمہ کفر کہنے والے کی تکفیر  نہیں کی جائے گی۔

تفسیر کبیر (8/ 180) میں ہے:

«‌فظن ‌أن ‌لن ‌نقدر عليه أن نقول من ظن عجز الله تعالى فهو كافر، ولا خلاف أنه لا يجوز نسبة ذلك إلى آحاد المؤمنين، فكيف إلى الأنبياء عليهم السلام فإذن لا بد فيه من التأويل وفيه وجوه …………… ورابعها: ‌فظن ‌أن ‌لن ‌نقدر: أي فظن أن لن نفعل لأن بين القدرة والفعل مناسبة فلا يبعد جعل أحدهما مجازا عن الآخر

فتاویٰ بزازیہ (6/321) میں ہے:

كالجاهل اذا تكلم بكلمته ولم يدر أنها كفر قال بعضهم يكفر وقيل لا، ويعذر بالجهل ومنها اذا تكلم بكلمته بلا علم انها كفر عن اختيار يكفر عند عامة العلماء خلافا للبعض ولا يعذر بالجهل وقيل لايكفر

الدرالمختار (6/353) میں ہے:

(و) اعلم أنه (لا يفتي بكفر مسلم أمكن حمل كلامه ‌على ‌محمل ‌حسن أو كان في كفره خلاف ولو) كان ذلك (رواية ضعيفة)

قال الرملى: أقول ولو كانت الرواية لغير اهل مذهبنا، قال الحموى: ولو كانت تلك الرواية لغير اهل مذهبنا وجب على المفتى أن يميل إليها

فتاویٰ بزازیہ (6/321) میں ہے:

اذا كان فى المسئلة وجوه توجبه ووجه واحد يمنعه يميل العالم إلى مايمنع من الكفر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved