- فتوی نمبر: 31-313
- تاریخ: 12 جنوری 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
رسول اللہﷺنے فرمایا:جس نے اللہ کے علاوہ کسی کی قسم اٹھائی اس نے شرک کیا [مشکوٰۃ: 3419، ترمذی 1535]
اس حدیث کے بارے میں پوچھنا تھا کہ یہ حدیث صحیح ہے جس میں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ رب العزت کے علاوہ آپ کسی کی بھی قسم کھاتے ہیں تو وہ شرک ہے تو تھوڑی سی اس کی تفصیل بتا دیں گے اگر یہ صحیح ہے تو کس طرح کی قسم کے بارے میں بات ہو رہی ہے نارملی جیسے ہم اپنی روٹین میں کوئی ماں کی قسم کوئی باپ کی قسم کوئی اس طرح کی قسمیں کھا لیتے ہیں تو کیا وہ اسی درجے میں آتی ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔یہ حدیث حسن درجہ کی ہے۔
2۔ماں باپ وغیرہ کے نام کی قسم کھانا بھی اس میں داخل ہے۔
بذل المجہود(4/218)میں ہے:
فقال: إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم، فمن كان حالفا فليحلف بالله أو ليسكت) قال محمد في “الموطأ”: وبهذا نأخذ، لا ينبغي لأحد أن يحلف بأبيه، فمن كان حالفا فليحلف بالله، ثم ليبرر أو ليصمت
عن سعد بن عبيدة قال: سمع ابن عمر رجلا يحلف: لا والكعبة، فقال له ابن عمر: إني سمعت رسول الله – صلى الله عليه وسلم – يقول: من حلف بغير الله فقد أشرك) أي فقد أشرك غير الله به في التعظيم، فإن كان جرى على لسانه عادة من غير نية التعظيم، فقد أشرك صورة، ومن نوى التعظيم، فقد أشرك شركا جليا
الدر المختار (5/503)میں ہے:
لايقسم بغير الله تعاليى كالنبى والقرآن والكعبة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved