• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

واقعہ کی تحقیق

استفتاء

ایک مرتبہ آپﷺ، حضرت ابو بکرؓ ، حضرت عمر ؓ، حضرت عثمان غنی ؓ اور حضرت علی ؓ ، چاروں خلفاء حضورﷺ کے ہمراہ حضرت علیؓ  کے گھر تشریف لے گئے ، تو حضرت فاطمہؓ  ایک طشت لائیں اس میں شہد تھا ، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ  وسلم کو دیا آپ صلی اللہ علیہ  وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ  عنہ کو دیا تو حضرت ابوبکر ؓاس کو پینے لگے تو اس میں ایک بال تھا ، تو بال ہٹانے لگے تو اللہ  کے رسولﷺ  نے ابوبکر صدیقؓ  سے فرمایا کہ ابوبکر ؓ اس کی تشریح کرو ، تو ابوبکر صدیقؓ  نے عرض کیا: دین خوبصورت ہے اس طشت سے اور دین میٹھا ہے  اس شہد سے اور دین پر چلنا باریک ہے اس بال سے ۔ پھر وہ طشت حضرت عمرؓ  کے پاس گیا تو حضورﷺ  نے عمرؓ سے فرمایا کہ عمر ؓ اس کی تشریح کرو تو عمرؓ   نے عرض کیا:  بادشاہت خوبصورت ہے اس طشت سے اور بادشاہت میٹھی ہے اس شہد سے اور عدل انصاف کرنا باریک ہے اس بال سے ۔اسی طرح حضرت عثمانؓ  کے پاس طشت گیا تو حضور صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا اس کی تشریح کرو تو حضرت عثمانؓ  نے عرض کیا: قرآن خوبصورت ہے اس طشت سے اور قرآن میٹھا ہے اس  شہد سے اور قرآن کا حق ادا کرنا باریک ہے اس بال سے ۔اسی طرح وہ طشت حضرت علیؓ  کے پاس گیا تو حضور نے ان سے بھی فرمایا اس کی تشریح کرو تو انہوں نے عرض کیا کہ مہمان خوبصورت ہے اس طشت سے اور مہمان میٹھا ہے اس  شہد سے اور مہمان کا دل رکھنا باریک ہے اس بال سے ۔اور اسی طرح وہ طشت حضرت فاطمہؓ  کے پاس گیا تو انہوں نے عرض کیا کہ عورت خوبصورت ہے اس طشت سے ، عورت میٹھی ہے اس  شہد سے اور عورت کا نامحرم سے پردہ کرنا باریک ہے اس بال سے ۔پھر اللہ کے  رسول ﷺ  نے فرمایا اللہ تعالیٰ  کا راستہ خوبصورت ہے اس طشت سے اور میٹھا ہے  اس شہد سے اور  اللہ تعالیٰ کے راستے کا حق ادا کرنا باریک ہے اس بال سے ۔حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا : جنت خوبصورت ہے اس طشت سے، جنت میٹھی ہے اس شہد سے اور جنت جانے کا راستہ باریک ہے اس بال سے ۔

اس کا حوالہ درکار ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ واقعہ روح البیان میں آیت”ولو ان قرآنا سيرت به الجبال اوقطعت به الارض او كلم به الموتى” کے تحت مذکور ہے لیکن قدرے  تغیر کے ساتھ اور وہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شرکت کا ذکر بھی نہیں ہے ليكن  روح البیان میں اس کی سند مذکور نہیں  اور نہ ہی ہمیں اس کی سند  ملی ہے لہٰذا اسے بیان کرنے سے احتراز  کرنا چاہیے تاکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب نہ ہو۔

روح البیان ، لاسماعیل حقی بن مصطفیٰ الاستانبولی الحنفی ،ت: ۱۱۲۷ھ(4/377) میں ہے:

‌ومن ‌الحكايات ‌اللطيفة ‌ان ‌عليا رضى الله عنه مرض فقال ابو بكر رضى الله عنه لعمر وعثمان رضى الله عنهما ان عليا قد مرض فعلينا العیادة فاتوا بابه وهو يجد خفة من المرض ففرح فرحا فتموج بحر سخائه فدخل بيته فلم يجد شيأ سوى عسل يكفى لواحد فى طست وهو ابيض وأنور وفيه شعر اسود فقال ابو بكر الصديق رضى الله عنه لا يليق الاكل قبل المقالة فقالوا أنت أعزنا وأكرمنا وسيدنا فقل اولا فقال الدين أنور من الطست وذكر الله تعالى احلى من العسل والشريعة أدق من الشعر فقال عمر رضى الله عنه الجنة أنور من الطست ونعيمها احلى من العسل والصراط أدق من الشعر فقال عثمان رضى الله عنه القرآن أنور من الطست وقراءة القرآن احلى من العسل وتفسيره أدق من الشعر فقال على رضى الله عنه الضيف أنور من الطست وكلام الضيف احلى من العسل وقلبه أدق من الشعر نور الله تعالى قلوبنا بنور العرفان وأوصلنا وإياكم الى سر القرآن آمين يا الله يا رحمن.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved