- فتوی نمبر: 34-255
- تاریخ: 06 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > متفرقات عبادات
استفتاء
1۔حج پر جو صاحب جا رہے ہیں ان کے اہل خانہ کے اخراجات خود ان کے ذمے ہیں جو حج کر رہے ہیں یا جو حج بدل کروا رہے ہیں ان کے ذمے ہیں ؟
2۔بہت سے لوگ ایام حج یعنی8 سے 12 ذوالحجہ تک منی میں قیام نہیں کرتے بلکہ عزیزیہ ایک علاقہ ہے مکہ میں، تو وہاں آ جاتے ہیں ۔تو کیا رمی کے بعد وہاں جو خیمہ ہوتا ہے وہاں ٹھہرنا ضروری ہے یا نہیں ؟مطلب عزیزیہ آسکتے ہیں اور کیا عزیزیہ حدود حرم میں ہے یا منی کے حدود میں آتا ہے ؟ شرعی طور پر اس کا کیا حکم ہے ؟
3۔اس کے علاوہ حج کے دنوں کے قریب یعنی پانچ ذوالحجہ کے بعد وہاں ٹرانسپورٹ بند ہو جاتی ہے۔تو بہت سارے حاجی حضرات کی جہاں رہائش ہوتی ہے عزیزیہ میں، وہ وہاں ہی نمازیں ادا کرتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا عزیزیہ میں نماز پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ ملے گا یا صرف حرم کے اندر ہی نماز پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ کا ہے۔
اس کے علاوہ دوسری بات یہ کہ حدود حرم کے اندر کوئی نماز پڑھی تو کیا اس کا ثواب ایک لاکھ کا ملے گا یا صرف حرم کے اندر یعنی کہ خانہ کعبہ کے اندر اس کا ثواب ایک لاکھ کا ملتا ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔حج بدل کے لیے جو صاحب جارہے ہیں ان کے اہل خانہ کے اخراجات بھی اس شخص کے ذمے ہیں جو حج بدل کروارہے ہیں۔
کفایت المفتی (4/344) میں ہے:
سوال: مسئلہ ہے کہ حج کے لئے جانے والے کو واپسی تک گھر کے بال بچوں کے خرچہ کا بندوبست کرکے جانا چاہیے سو مذکورہ خرچہ حج بدل کرانے والے کے ذمہ ہوگا یا جانے والا خود بندوبست کرے؟
الجواب: اس کے گھر والوں کو واپسی تک مصارف دینا بھی اس شخص کے ذمہ ہے جو حج بدل کے لئے لے جاتا ہے اور جانے سے آنے تک کے تمام مصارف سفر لے جانے والے کے ذمہ ہوں گے۔
امداد الاحکام (2/190) میں ہے:
اور نفقہ اہل وعیال مامور میں یہ تفصیل ہے کہ نفقہ معروفہ ضروریہ پر بھی جانے والے دستیاب ہوں۔ یعنی ایسے مجرد لوگ بھی حج بدل کو تیار ہوں جن کے ساتھ اہل وعیال کا خرچ لگاہوا نہیں اور وہ صرف سفر حج کا خرچ لے کر جا سکتے ہیں اور اگر بجز صاحب عیال شخص کے اور کوئی معتبر باقاعدہ حج کوصحیح ادا کرنے والا نہ ملتا ہو اس صورت میں ثلث الکل سے بھی مامور کی اہل وعیال کا نفقہ دینا جائز ہے ۔ بلکہ ورثاء پر لازم ہے کہ جبکہ مورث نے وصیت حج کی ہو اگر ثلث الکل میں وسعت ہو ۔
لان نفقة الحج تختلف باختلاف الاشخاص قال القاری فی شرح المناسک ولا ینفق المامور من مال المیت علی من یخدمه ای خدمة یقدر عليه بنفسه إلا إذا کان ممن لا یخدم نفسه أی لکبره او عظمته اھ (ص۲۵۹) قلت فکذا یختلف الحکم لکون المامور اعزب او صاحب العیال فیعطی الاول نفقة اقل من الثانی لاختلاف احوالهما شرعاً وعرفاً ولا یعطی صاحب العیال تلک الزیادة عوضاًعن شیئٍ بل اعانة له فی اداء الواجب کمازیدت نفقة صاحب العظمة اعانة له فی حفظ حرمته ، والله اعلم ولعل هذا ظاهر غیر خفی والعبارة المحررة ما فی کافی الحاکم وله نفقة مثله وزاد ایضاحها فی المبسوط فقال وهذه النفقة لیس یستحقها بطریق العوض بل بطریق الکفاية لانه فرغ نفسه لعمل ینتفع به الاٰمر هذا ( شامی ص۳۹۲ج۲)قلت فکان نفقة المامور بالحج کنفقة القاضی والعامل ونفقة عیالهما تدخل فى نفقتهما حتماً فتقدر بما یسعهما وعیالهما فکذا ههنا اذا لم یوجد الاعزب، وکانت الوصية بالحج لا علی التعیین وأما لو عین الموصی رجلا ذا عیال ان یحج عنه فلا شک فی دخول نفقة عیاله فی نفقة الحج وتوخذ من ثلث الکل.
2۔منیٰ میں قیام کرنا سنت ہے بلا عذر منیٰ کے علاوہ کسی مقام پر (چاہے عزیزیہ ہو یا کوئی دوسری جگہ ہو) قیام کرنا مکروہ ہے۔عزیزیہ حدود حرم میں ہی ہے لیکن منی کا حصہ نہیں ہے ۔
فتح القدیر (2/501 ) میں ہے:
ويكره أن لا يبيت بمنى ليالي الرمي لأن النبي عليه الصلاة والسلام بات بمنى، وعمر رضي الله عنه كان يؤدب على ترك المقام بها. ولو بات في غيرها متعمدا لا يلزم شيء عندنا.
وفيه أيضا: وأما سننه………. والبيتوتة بمنى ليالي أيام منى.
شامى(2/519) میں ہے:
(ثم أتى منى) فيبيت بها للرمى
(قوله فيبيت بها للرمى) أتى ليالى ايام الرمى هو السنة فلو بات بغيرها كره ولا يلزمه شيء.
بدائع الصنائع(2/159) میں ہے:
ثم يرجع إلى منى، ولا يبيت بمكة، ولا في الطريق، هو السنة؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم هكذا فعل، ويكره أن يبيت في غير منى في أيام منى، فإن فعل لا شيء عليه، ويكون مسيئا؛ لأن البيتوتة بها ليست بواجبة بل هي سنة
3۔ احادیث صحیحہ کی رو سے ایک لاکھ نماز کا ثواب مسجد حرام کے ساتھ مختص ہے تاہم بعض ضعیف روایات کے پیش نظر حدود حرم میں نماز پڑھنے کا ثواب بھی ایک لاکھ کے برابر ہے لیکن ان احادیث کے پیش نظر مسجد حرام کا ثواب دس لاکھ یا ایک کروڑ تک پہنچ جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسجد حرام کا ثواب بہرحال دوسری مسجدوں میں نماز سے زیادہ ہے خواہ وہ دوسری مسجدیں حدود حرم کے اندر ہی کیوں نہ ہوں۔
سنن ابن ماجہ (رقم الحدیث:1406) میں ہے:
عن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: صلاة في مسجدي أفضل من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام وصلاة في المسجد الحرام أفضل من مائة ألف صلاة فيما سواه.
ترجمہ:حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری اس مسجد (یعنی مسجد نبوی)میں ایک نماز دیگر مساجد میں ہزار نماز سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے،اور مسجد حرام میں ایک نماز دیگر مساجد میں ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔
مجمع الزوائد للہیثمی (4/6) میں ہے:
وعن عبد الله – يعني ابن الزبير – قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “«صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه إلا المسجد الحرام، وصلاة في المسجد الحرام أفضل من صلاة في مسجدي بألف صلاة» “.
رواه الطبراني في الكبير، ورجاله رجال الصحيح.
المہذب فی اختصار السنن الکبیر للذہبی (ص: 1711) میں ہے:
عيسى بن سوادة، عن إسماعيل بن أبي خالد، عن زاذان، قال: “مرض ابن عباس فجُمع إليه بنيه وأهله، ثم قال: يا بني إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “من حج من مكة ماشيًا حتى يرجع إليها كتب له بكل خطوة حسنة من حسنات الحرم، فقال بعضهم: وما حسنات الحرم؟ قال: كل حسنة بمائة ألف حسنة” عيسى مجهول. رواه عنه فروة بن أبي المغراء، قال: حديث منكر
مرقاۃ المفاتیح (2/368) میں ہے:
قيل: ورد عن ابن عباس أن حسنات الحرم كلها الحسنة بمائة ألف. وأجيب: بأن حسنة الحرم مطلقا بمائة ألف، لكن الصلاة في مسجد الجماعة تزيد على ذلك، ولذا قيل: بمائة ألف صلاة في مسجدي، ولم يقل حسنة.
مسنون حج وعمرہ (صفحہ نمبر:96،97 مصنفہ ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحبؒ) میں ہے:
تنبیہ: یہ خاص مسجد حرام کی فضیلت ہے ۔ بعض حضرات نے یہ فضیلت پورے حرم کے لیے کہی ہے لیکن یہ بات دلیل سے ثابت نہیں ۔ علاوہ ازیں حرم کے اندر تو بہت سی مسجدیں ہیں پھر بجائے حرم کے صرف اس کی ایک خاص مسجد یعنی مسجد حرام کی تخصیص جو مندرجہ ذیل حدیث میں ہے اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ فضیلت صرف مسجد حرام کو حاصل ہے پورے حرم کو نہیں۔۔۔۔۔۔ علاوہ ازیں پورے حرم کے لیے فضیلت ماننے کی صورت میں لازم آئے گا کہ اگر لوگ مکہ مکرمہ میں اپنے ہوٹل میں جماعت سے نماز پڑھ لیں تو وہ بھی ثواب پانے کے مستحق ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔
غنیۃ الناسک(صفحہ نمبر:229،230) میں ہے:
واختلف فى المراد بالمسجد الحرام الذى فيه المضاعفة فقيل مسجد الجماعة حول الكعبة وقيل: الحرم كله والاول مذهب الامام مالك رضى الله عنه وجزم به النووى فى المجموع والتهذيب
وقال الاسنوي انه الظاهر واختاره ابن حجر فى التحفة وصححه وايده “المحب الطبري” بأن الإشارة في المستثنى منه إلى مسجد الجماعة فليكن المستثنى كذلك .
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved