- فتوی نمبر: 32-158
- تاریخ: 03 فروری 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > مسافر کی نماز کا بیان
استفتاء
حضرت میں کسی مدرسہ میں بحیثیت معلم 15 دن سے کم قیام کرتا ہوں اور میرے گھر اور اس مدرسہ کے درمیان شرعی مسافت مکمل ہے تو کیا اس مدرسے میں ، میں نماز قصر کروں گا یا مکمل پڑھوں گا ؟
وضاحت مطلوب ہے کہ (1) آپ گھر سے مدرسہ کتنے دن کی نیت سے آتے ہیں ؟(2) کیا آپ کبھی مسلسل پندرہ دن قیام کی نیت کر کے مدرسہ میں رہے ہیں ؟(3) کیا مدرسہ میں آپ کو ایسا کمرہ دیا گیا ہے جس کی چابی آپ کے پاس ہو اور جس میں آپ کا ساز و سامان ہو؟
جواب وضاحت: (1) میں گھر سے سات دن کی نیت سے آتا ہوں البتہ دو سال پہلے میں دورہ صرف پڑھانے کی نیت سے مدرسہ میں پندرہ دن کی نیت سے آیا تھا ۔(2) جی جب میں دورہ صرف پڑھانے کے لیے آیا تھا ۔(3) جی ہاں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ مدرسہ میں مقیم رہیں گے ، کیونکہ جب آپ ایک دفعہ 15 دن کی نیت سے مدرسہ آکر ٹھہرے ہیں اور آپ کو مدرسہ والوں نے ایسا کمرہ بھی دیا ہوا ہے جس کا تالہ چابی آپ کے اپنے قبضہ میں ہے تو آپ مدرسہ میں مقیم ہو گئے کیونکہ وطن ِ اقامت کی بقاء کیلئے یہ شرط ہے کہ ساز وسامان ایسے مکان میں ہو کہ جس کا تالہ چابی بھی آدمی کے اپنے قبضے اور اختیار میں ہو۔
ہدایہ (1/80) میں ہے:
ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر وإن نوى أقل من ذلك قصر.
تنویر الابصار مع رد المحتار(2/ 125)میں ہے:
(فيقصر إن نوى) الإقامة (في أقل منه) أي في نصف شهر.
قال ابن عابدين: (قوله في أقل منه) ظاهره ولو بساعة واحدة وهذا شروع في محترز ما تقدم ط
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2 / 239)میں ہے:
“وفي المحيط: ولو كان له أهل بالكوفة وأهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة وبقي له دور وعقار بالبصرة، قيل: البصرة لا تبقى وطناً له؛ لأنها إنما كانت وطناً بالأهل لا بالعقار، ألا ترى أنه لو تأهل ببلدة لم يكن له فيها عقار صارت وطناً له، وقيل: تبقى وطناً له؛ لأنها كانت وطناً له بالأهل والدار جميعاً، فبزوال أحدهما لايرتفع الوطن، كوطن الإقامة تبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر. ا ه.
وفي المجتبى: نقل القولين فيما إذا نقل أهله ومتاعه وبقي له دور وعقار، ثم قال: وهذا جواب واقعة ابتلينا بها وكثير من المسلمين المتوطنين في البلاد ولهم دور وعقار في القرى البعيدة منها يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم، فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر
خیر الفتاویٰ (2/680) میں ہے:
الجواب: وطنِ اقامت بننے کے لیے اس جگہ میں ایک دفعہ پندرہ دن اقامت کی نیت سے قیام کرنا ضروری ہے۔ بعد ازاں وطنِ اقامت میں اتمام کیا جائے ۔ خواہ مدتِ اقامت سے کم قیام کیا جائے ۔ اور اگر کسی دفعہ بھی پندرہ دن کی نیت سے قیام نہیں کیا تو اس وطنِ اقامت میں قصر کی جائے ۔ یہ درست ہے کہ جب تک ترکِ سکونت نہ کی جائے ایسا وطنِ اقامت سفر سے یا وطنِ اصلی کی طرف جانے سے باطل نہیں ہوتا۔
احسن الفتاویٰ (4/ 112) میں ہے:
بقاء وطن اقامت اس صورت میں ہے جبکہ وہاں اہل و عیال چھوڑ کر گیا ہو یا سامان اپنے مقبوض جگہ میں رکھ کر گیا ہو۔
خیر الفتاویٰ(2/701) میں ہے:
واضح رہے کہ بقاء ثقل سے مراد یہ ہے کہ سامان پر اس کا قبضہ بھی باقی ہو۔
مسائل بہشتی زیور(1/255,256) میں ہے:
اگر کوئی شخص وطن اقامت میں اپنی رہائش کے لیے کمرہ یا مکان لے لے جس میں وہ اپنا سامان رکھے پھر کبھی سامان وغیرہ کو تالہ لگا کر سفر شرعی پر نکل جائے خواہ اپنے وطن اصلی چلا جائے یا کسی اور شہر چلا جائے لیکن اس کی نیت اپنے اس وطن اقامت میں واپس آنے کی ہے ۔۔۔۔ تو یہ واپس آ کر پوری نماز پڑھے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved