• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

50 گھروں پر مشتمل آبادی میں جمعہ کا حکم

استفتاء

مفتی صاحب ایک مسئلے کے بارے میں فتوی چاہیے تھا۔ صورت مسئلہ یہ ہے کہ  میرے گاؤں سے کچھ باہر ایک آبادی ہے جو دو گاؤں کے درمیان میں ہے اور دونوں گاؤں سے اس کا فاصلہ تقریبا ایک کلومیٹر ہے اور شہر سے اس کا فاصلہ تقریبا 6 کلومیٹر ہے اور یہ آبادی تقریبا 50 گھروں پر مشتمل ہے اور ضروریات زندگی میں سے اس آبادی میں صرف سبزی اور صابن وغیرہ مل جاتے ہیں یعنی کہ کریانہ کی چھوٹی دکانیں ہیں جن سے کھانا پکانے کا سامان ملتا ہے اس کے علاوہ اور کوئی ضروریات زندگی موجود نہیں اور آبادی میں ایک ہی بڑی مسجد ہے جس میں اہتمام کے ساتھ پانچوں نمازیں جماعت کے ساتھ ادا ہوتی ہیں۔اس بستی والے پہلے قریب کے گاؤں میں جمعہ پڑھتے تھے لیکن قریب کے گاؤں میں جمعہ کے لیے جانا دشوار ہوتا تھا اور وہ دشواری یہ تھی کہ پیدل جانے میں تو وہ جگہ دور تھی اور سواری کا انتظام ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا اور اگر بارش وغیرہ آجائے تو پھر سواری پر بھی جانا دشوار تھا جس کی وجہ سے چند افراد ہی جمعہ پڑھنے کے لیے جاتے تھے اس لیے پانچ ماہ پہلے اس آبادی میں جمعہ شروع کروا دیا گیا مجھے یہاں جمعہ پڑھاتے ہوئے بس 3 جمعے ہوئے ہیں پہلے یہاں کوئی اور خطیب جمعہ پڑھاتا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس آبادی میں نماز جمعہ پڑھانا جائز ہے؟  اور جمعہ کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں؟

2۔اور جمعہ کی آج کل کے اعتبار سے جو شرائط ہیں وہ بھی بیان فرما دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔فقہ حنفی کی رُو سے مذکورہ آبادی میں جمعہ پڑھانا جائز نہیں اور مذکورہ آبادی میں جمعہ کی نماز نہیں ہوتی۔تاہم اگر جمعہ کو بند کرنے میں فتنہ کا اندیشہ ہو تو پھر گنجائش ہے بشرطیکہ نماز جمعہ میں کم از کم چالیس بالغ مرد موجود ہوں۔

توجیہ:فقہ حنفی کی رُو سے  جمعہ کی ادائیگی کے درست ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ جگہ شہر ہو یا فناء شہر ہو لہذا جب مذکورہ آبادی نہ شہر ہے اور نہ فناء شہر تو اس میں جمعہ کی ادائیگی  جائز نہیں ۔ البتہ دوسرے بعض اماموں کے ہاں جمعہ کی ادائیگی  کے درست ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ نماز جمعہ میں کم  از کم چالیس بالغ مرد  ہوں لہٰذا جمعہ بند  کرنے میں فتنے کا اندیشہ ہو وہاں بعض اماموں کے مطابق جمعہ کی گنجائش ہوگی۔

2۔جمعہ کی شرائط درج ذیل ہیں:

(1) جہاں جمعہ ہو رہا ہے وہ جگہ شہر ہو یا  بڑا قصبہ ہو  یا اس کی  فنا ہو، قصبہ اس مستقل آبادی کو کہتے ہیں جہاں ایسا بازار ہو جس میں تیس چالیس متصل اور مستقل دکانیں ہوں اور بازار روزانہ لگتا ہو اور اس بازار میں روز مرہ کی ضروریات ملتی ہوں مثلا ًجوتے کی دکان بھی ہو کپڑے کی بھی۔غلہ اور کریانہ کی بھی ہو اور دودھ،گھی کی بھی،وہاں ڈاکٹر یا حکیم بھی ہو اور معمار اور مستری بھی ہوں وغیرہ وغیرہ۔اس کے علاوہ وہاں گلی محلے بھی ہوں۔

(2) ظہر کا وقت ہو۔

(3) ظہر کے وقت میں نماز جمعہ سے پہلے امام خطبہ یعنی لوگوں کے سامنے اللہ تعالی کا ذکر کرے۔

(4) جماعت یعنی امام کے سوا کم سے کم تین آدمی خطبے کے شروع ہونے کے وقت سے پہلی رکعت کے سجدے تک موجود ہوں۔

(5) عام اجازت کے ساتھ اور اذان کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی جائے۔(مسائل بہشتی زیور جلد:1ص:291)

نوٹ: جب مذکورہ آبادی والوں پر جمعہ واجب نہیں تو ان کا دوسرے گاؤں میں جمعہ کی نماز کے لیے جانا بھی ضروری نہیں،اگر ان کو وہاں جانے میں مشکل ہو تو وہ اپنے گاؤں میں ظہر کی نماز جماعت سے ادا کر لیا کریں۔جمعہ کی نماز کے لیے دوسرے گاؤں نہ جانے کی وجہ سے کچھ حرج نہ ہوگا۔

بدائع الصنائع (1/583) میں ہے:

أما المصر الجامع فشرط ‌وجوب ‌الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه

الام  (1/350) میں ہے:

( قال الشافعي ) فإذا كان من أهل القرية أربعون رجلا والقرية البناء والحجارة واللبن والسقف والجرائد والشجر لأن هذا بناء كله وتكون بيوتها مجتمعة ويكون أهلها لا يظعنون عنها شتاء ولا صيفا إلا ظعن حاجة مثل ظعن أهل القرى وتكون بيوتها مجتمعة اجتماع بيوت القرى فإن لم تكن مجتمعة فليسوا أهل قرية ولا يجمعون ويتمون إذا كانوا أربعين رجلا حر ا بالغا فإذا كانوا هكذا رأيت والله تعالى أعلم إن عليهم الجمعة فإذا صلوا الجمعة أجزأتهم.

کفایت المفتی (3/238) میں ہے:

(سوال )   موضع امو کونہ جس کی آبادی میں چونتیس گھر اور اکاون مرد مکلف بستے ہیں ایضاً موضع بتاپور کہ موضع اموکونہ  سے تخمیناً پانسو ہاتھ فاصلے پر ہے اس میں تیس گھر ہیں اور ستاون مرد مکلف بستے ہیں ان سب آدمیوں کا پیشہ کاشتکاری ہے اور موسم برسات میں ہر موضع کے چاروں طرف پانی سے سیلاب ہوجاتا ہے جو بدون کشتی کے آمد و رفت دشوار ہے ہر موضع کے چاروں طرف زراعت اور تین طرف ندی بھی ہے اور دونوں موضعوں کے درمیان جو فاصلہ ہے چراگاہ ہے موسم برسات میں  وہ بھی دو ڈھائی ہاتھ پانی نیچے  پڑتا ہے اس آبادی میں کوئی بازار وغیرہ نہیں ہے اب علی الانفراد دونوں موضعوں میں جمعہ قائم کرنا اور درمیان کی چراگاہ میں علی الاجتماع عیدگاہ بناکے نماز  عید پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ 

 (جواب ۳۶۷)  ان دونوں   موضعوں میں جمعہ کی نماز حنفی مذہب کے موافق قائم نہ کرنا چاہئیے لیکن اگر قدیم الایام سے ان میں جمعہ قائم ہو تو اسے بند بھی نہ کرنا چاہیے  کہ دوسرے ائمہ کے مذہب کے موافق جمعہ  ہوجاتا ہے۔

کفایت المفتی (3/248) میں ہے:

سوال: ایک موضع میں تقریباً 30 آدمی مصلی ہیں اور ایک مسجد ہے ہفتہ میں دو بار بڑی بازار لگتی ہے، سامان ضروری مثلاً کفن وغیرہ ملتا ہے لہذا مصلیان نماز جمعہ بھی اس موضوع میں ادا کرتے ہیں اور بچوں کی تعلیم کے لیے ایک قاری صاحب بھی مقرر ہیں۔ اب اس موضع میں شرعاً جمعہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب: اگر نماز جمعہ وہاں عرصہ سے قائم ہے تو اب اس کو بند کرنے میں مذہبی و دینی فتنہ ہے اس لیے اس کو موقوف کرنا درست نہیں بلکہ اس مسئلہ میں امام شافعی رحمہ اللہ کے قول یا امام مالک رحمہ اللہ کے قو ل کے موافق عمل کر لینا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved