- فتوی نمبر: 32-47
- تاریخ: 30 مارچ 2025
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک خاتون کا انتقال ہو گیا ہے، مرحومہ کے شوہر اور والدین پہلے ہی فوت ہو چکے ہیں، مرحومہ کے سب بہن بھائی بھی مرحومہ سے پہلے فوت ہو چکے ہیں، ورثاء میں 6 بھتیجے اور تین بھتیجیاں ہیں، مرحومہ کا چھوڑا ہوا ترکہ کچھ گھریلو سامان اور زمین ہے، وہ اس کے ورثاء میں کیسے تقسیم ہو گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں سامان اور زمین سمیت مرحومہ کے کل ترکے کے 6 حصے کیے جائیں گےجن میں سے ہر ایک بھتیجے کو1 حصہ (16.66 %) ملے گا اور بھتیجیاں محروم ہوں گی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔
تقسیم کی صورت یہ ہے:
مسئلہ: 6
میـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
6بھتیجے 3 بھتیجیاں
ع م
6 1+1+1+1+1+1
فتاوی شامی (565/6) میں ہے:
"أن ابن الأخ لايعصب أخته، كالعم لايعصب أخته، و ابن العم لايعصب أخته، و ابن المعتق لايعصب أخته، بل المال للذكر دون الأنثى؛ لأنها من ذوي الأرحام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved