- فتوی نمبر: 25-121
- تاریخ: 13 مئی 2024
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان
استفتاء
میرا اپنی بیوی سے جھگڑا ہو گیا تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی تھی اور تقریباً 10 سے 15دن کے بعد اس کے رشتہ دار اُسے میرے گھر چھوڑ گئے تھے۔ تقریباً 5مہینے بعد دوسری دفعہ ہمارا جھگڑا ہوا تھا۔ بیوی نے میری بیٹی کو مارا پیٹا تھا تو میں نے اپنی بیوی کو تھپڑ مارا تھا اس کے بعد اس نے مجھ سے کافی بدتمیزی کی اور باتوں باتوں میں بیوی نے یہ بھی کہا تھا کہ میں نہیں رہنا چاہتی، تو میں(شوہر) نے کہا کہ ’’جا، چلی جا‘‘ اس کے بعد بیوی نے فون کرکے اپنے بھائیوں کو بلایا۔ تو میری بیوی نے اپنے بھائیوں، رشتہ داروں اور گاؤں والوں کی موجودگی میں یہ کہا کہ ’’میں ایسے کنجروں کے گھر رہنا نہیں چاہتی‘‘ تو میں نے کہا ’’جا چلی جا، تو میری طرف سے فارغ ہے‘‘اس کے بعد بیوی کے بھائیوں نے مجھ سے اس معاملے میں بات چیت کی تو میں نے کہا کہ ’’میں نے تم کو صلح صفائی کے لیے نہیں بلایا، اپنی بہن کو لے جاؤ میری طرف سے فارغ ہے۔‘‘
اس کے باوجود اس کے بھائی اور گاؤں والے اسے لے کر نہیں گئے، بلکہ میرے پاس ہی چھوڑ گئے اور تقریباً آٹھ دن وہ میرے پاس ہی ٹھہری رہی۔ 8دن کے بعد وہ اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی اس کے میکے جانے کے 2یا 3د ن کے بعد اس سے فون پر بات ہوئی۔ میں نے اسے فون پر کہا کہ ’’آپ آجائیں کوئی بات نہیں ہے‘ ‘ اس نے کہا کہ ’’میں نہیں آرہی میں تمہارے گھر نہیں رہوں گی‘‘ تو میں نے کہا کہ ’’ٹھیک ہے اپنا سامان لے جاؤ، میری جان چھوڑ دیں‘‘
2یا 3دن کے بعد پھر اس طرح فون پر بات ہوئی، اسے سمجھایا وہ نہ مانی کہ میں نہیں آنا چاہتی تو میں نے پھر مذکورہ الفاظ سامان لے جانے اور فارغ کرنے کے کہے۔ تقریباً 2مہینے میں جب بھی اس سے فون پر بات ہوتی تو اسی طرح بحث و تکرار ہوتی تھی، اسے فارغ کرنے کے الفاظ بھی کہتا تھا اور یہ الفاظ بھی کہے تھے کہ ’’میں نے چھوڑ دی، اپنا سامان لے جاؤ‘‘ انہی دنوں بچولیا(جس شخص نے نکاح کروایا تھا) یعنی بیوی کے خالو کو بھی فون پر یہ الفاظ کہے تھے کہ ’’میری طرف سے فارغ ہے ان سے کہہ دو اپنا سامان لے جائیں۔‘‘
تقریباً سوا دو مہینے کے بعد میرا چھوٹا بھائی اور بہنوئی اسے لے کر آگئے، اس کے بعد 4، 5 مہینے یا کچھ زیادہ میرے پاس ٹھہری رہی اسی دوران وہ حاملہ ہوگئی اور پھر جھگڑا ہوا اور وہ اکیلی اپنے ماں باپ کے گھر چلی گئی۔ پھر اس سے کچھ دنوں کے بعد بات ہوئی اور کافی گرما سردی ہوئی تو میں نے اس سے کہا کہ ’’اب آپ حد سے آگئے گزر گئی ہو، اب تو میری طرف سے فارغ ہے، میں تجھے کسی بھی صورت میں نہیں رکھوں گا اپنا سامان لے جاؤ‘‘
اس دوران میں نے اپنے دوستوں اور گھر والوں سے بھی یہ الفاظ کہے تھے کہ ’’میں نے اسے چھوڑ دیا ہے، میں اُسے نہیں لاؤں گا‘‘ تقریباً 3مہینے کے بعد میرے رشتہ دار اسے پھر میرے گھر لے آئے۔ 8یا 10دن کے بعد دوسری بیٹی کی ولادت ہوگئی۔ پھر وہ گذشتہ رمضان 18ویں روزے کو میکے چلی گئی، عیدالفطر کے 2دن بعد اس کے بھائی کی شادی تھی، میں اور میرے گھر والے بھی شادی میں گئے تھے۔ شادی کے بعد وہ اپنے ماں باپ کے گھر ہی ٹھہری رہی۔
اس دوران بیوی کو فون پر میری امی اور ہمشیرہ نے بھی سمجھا یا تھا اور اس کے باپ سے کافی بحث وتکرار ہوئی تھی۔ میں نے اس کے باپ سے یہ الفاظ بھی کہے تھے کہ ’’میری طرف سے فارغ ہے، اپنا سامان لے جاؤ‘‘ تقریباً آٹھ دن کے بعد بیوی سے فون پر بات ہوئی اور میں نے اُسے آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا ’’آجا! اگر نہیں آنا تو تو میری طرف سے فارغ ہے، پکی پکی پھر میں تجھے نہیں رکھوں گا، چاہے جو مرضی ہوجائے میرے ساتھ۔‘‘
اور اب 19اگست 2021ء بروز جمعرات میرا چچا اسے پھر لے آیا ہے۔ میں نے چچا اور گھر والوں کو بھی بتایا تھا کہ میں اُسے طلاق دے چکا ہوں، اسے طلاق ہوگئی ہے۔ میں نے مولوی صاحب سے پوچھا ہے۔ چچا نے کہا کہ مولوی ایسے ہی دین کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور اب وہ میرے گھر ہے۔
میں بہت دکھی اور پریشان ہوں۔ براہِ مہربانی مذکورہ تفصیل کو سامنے رکھ کر میری رہنمائی فرمائیں کہ اس صورت میں میرے لئے شرعی حکم کیا ہے؟ کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟ گنجائش ہے یا نہیں؟۔ والسلام
نوٹ: بیوی اس مذکورہ بیان کی تصدیق کرتی ہے۔
وضاحت مطلوب ہے کہ:(1) ’’جا، چلی جا‘‘ کے الفاظ کس نیت سے کہے تھے؟، (2)پھر اس کے کچھ دیر بعد ’’تو میری طرف سے فارغ ہے‘‘ کس نیت سے کہا تھا؟، (3)پہلی دفعہ ’’تو میری طرف سے فارغ ہے‘‘ والے الفاظ کہنے کے بعد حاملہ ہونے سے پہلے تین ماہواریاں گزر چکی تھیں یا نہیں؟
جوابِ وضاحت: (1)بس غصے میں کہہ دیا تھا، اس وقت تک طلاق کی نیت نہیں تھی۔ (2) یہ جملہ بیوی کو چھوڑنے کی نیت سے کہا تھا، (3)اس عرصہ میں تین ماہواریاں نہیں گزری تھیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں دو بائنہ طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور سابقہ نکاح ختم ہوچکا ہے، لہٰذا اگر میاں بیوی دوبارہ اکٹھے رہنا چاہتے ہیں تو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرکے رہ سکتے ہیں۔
نوٹ: دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں آئندہ شوہر کو صرف ایک طلاق کا حق حاصل ہوگا۔
توجیہ: سوال میں مذکور پہلی لڑائی میں شوہر نے جو یہ جملہ استعمال کیا کہ ’’جا، چلی جا‘‘ یہ جملہ کنایات طلاق کی پہلی قسم میں سے ہے جس سے طلاق کا واقع ہونا ہر حال میں شوہر کی نیت پر موقوف ہوتا ہے۔ مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر نے یہ جملہ طلاق کی نیت سے نہیں کہا تھا اس لیے اگر شوہر اس پر قسم بھی دے دے تو اس جملہ سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔ اس کے بعد جب شوہر نے بیوی کو طلاق کی نیت سے یہ جملہ کہا کہ ’’تو میری طرف سے فارغ ہے‘‘ یہ جملہ چونکہ کنایاتِ طلاق میں سے ہے، اس لیے اس سے ایک بائنہ طلاق واقع ہوئی اور بیوی کی عدت شروع ہوگئی۔ بائنہ طلاق کے بعد چونکہ مزید بائنہ طلاق واقع نہیں ہوتی (لأنه لا يلحق البائن البائن) اس لیے پہلی طلاق کے بعد شوہر نے مختلف موقعوں پر کنائی الفاظ استعمال کیے ان سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ عدت کے اندر ایک دفعہ شوہر نے یہ جملہ بھی کہا تھا کہ ’’میں نے چھوڑ دی‘‘یہ جملہ طلاق کے کے لیے صریح ہے لہٰذا ’’الصريح يلحق الصريح ويلحق البائن‘‘ کے تحت دوسری طلاق واقع ہوگئی، اور چونکہ پہلی طلاق بائنہ تھی اس لیے دوسری طلاق بھی بائنہ ہوئی۔ اس کے بعد بھی شوہر نے جو کنائی الفاظ استعمال کیے ہیں ان سے بھی لا يلحق البائن البائن کے تحت مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ اسی طرح شوہر نے بعد میں جو یہ جملے استعمال کیے کہ ’’میں نے اسے چھوڑ دیا ہے‘‘ یا ’’میں اسے طلاق دے چکا ہوں، اسے طلاق ہوگئی ہے‘‘ ان سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ یہ انشاءِ طلاق کا جملے نہیں بلکہ شوہر ان جملوں میں پہلے سے دی ہوئی طلاق کی خبر دے رہا ہے اور طلاق کی خبر دینے سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ نیز مذکورہ صورت میں طلاق کے بعد بیوی چونکہ تین حیض مکمل ہونے سے پہلے حاملہ ہوگئی تھی اس لیے اس کی عدت وضع حمل تھی جو بچہ پیدا ہونے پر مکمل ہوگئی اور نکاح مکمل طور پر ختم ہوگیا۔
در مختار مع رد المحتار (4/516) میں ہے:(ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب……. (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) …… (تحتمل ردا….(قوله قضاء) قيد به لأنه لا يقع ديانة بدون النية، ولو وجدت دلالة الحال فوقوعه بواحد من النية أو دلالة الحال إنما هو في القضاء فقط كما هو صريح البحر وغيرهدر مختار مع رد المحتار (4/520)میں ہے:والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما. مجتبى.(قوله بيمينه) فاليمين لازمة له سواء ادعت الطلاق أم لا حقا لله تعالى. ط عن البحراحسن الفتاویٰ (ج۵، ص۱۸۸) میں ہے:
’’سوال: کوئی شخص بیوی کو کہے ’’تو فارغ ہے‘‘ یہ کونسا کنایہ ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔الخالجواب باسم ملہم الصواب: بندہ کا خیال بھی یہی ہے کہ عرف میں یہ لفظ صرف جواب ہی کے لیے مستعمل ہے اس لئے عند القرینہ بلانیت بھی اس سے طلاق بائن واقع ہو جائے گی۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔‘‘در مختار (4/528- 531) میں ہے:(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة …….. (لا) يلحق البائن (البائن)رد المحتار (519/4) میں ہے:فإذا قال ” رهاكردم ” أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت.البحر الرائق (3/533) میں ہے:وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة.محیط برہانی (393/4) میں ہے:وفي «الواقعات»: إذا طلق امرأته ثم قال لها: قد طلقتك أو قال بالفارسية: طلاق دادم ترا دادم ترا طلاق يقع تطليقة ثانية، ولو قال: قد كنت طلقتك أو قال بالفارسية طلاق داده ام ترا لا يقع شيء بالكلام الثانيبدائع الصنائع (3/295) میں ہے:فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديددر مختار مع رد المحتار (5/192) میں ہے:(و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها)(قوله: أو من زنا إلخ) ومثله ما لو كان الحمل في العدة كما في القهستاني والدر المنتقى. وفي الحاوي الزاهدي: إذا حبلت المعتدة وولدت تنقضي به العدة سواء كان من المطلق، أو من زنا وعنه لا تنقضي به من زنا ………..اهـ لكن يأتي قريبا فيمن حبلت بعد موت زوجها الصبي أن لها عدة الموت، فالمراد بقوله إذا حبلت المعتدة معتدة الطلاق بقرينة ما بعده تأمل، ثم رأيت في النهر عند مسألة الغار الآتية.قال: واعلم أن المعتدة لو حملت في عدتها ذكر الكرخي أن عدتها وضع الحمل ولم يفصل، والذي ذكره محمد أن هذا في عدة الطلاق، أما في عدة الوفاة فلا تتغير بالحمل وهو الصحيح كذا في البدائع اهـ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved