• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

رخصتی سے پہلے ایک طلاق دی، پھر رخصتی کے بعد دو طلاقیں دے دیں، کیا تینوں طلاقیں واقع  ہوگئیں؟

استفتاء

نکاح کے بعدرخصتی (جسمانی تعلق یا ایسا موقع جس میں اگر جسمانی تعلق قائم کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے)  سے پہلے اور نکاح کے ایک مہینے کے بعد ایک طلاق دے دی،  کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ مسئلہ کا نہ پتہ ہونے کی وجہ سے  طلاق کے ١۵ دن کے بعد رخصتی ہو گئی   اور رخصتی کے وقت دوبارہ نکاح نہیں کیا گیا تھا۔پھر رخصتی کے ٣ مہینے کے بعد دوسری طلاق  اور دوسری طلاق کے ۵ مہینے بعد تیسری طلاق دے دی۔ دوسری اور تیسری  طلاق کے بعد جسمانی تعلق قائم رہا۔ پہلی طلاق سے پہلے نہ جسمانی تعلق تھا اور نہ ہی ایسی خلوت میسر آئی کہ اگر تعلق قائم کرنا چاہتے تو کر لیتے۔  کیا طلاقیں ہوچکی ہیں یا گنجائش باقی ہے؟

وضاحت مطلوب ہے کہ: 1) اس بارے میں بیوی کا کیا موقف ہے؟ 2) پہلی  طلاق کا بیوی اور اس کے والدین کو علم ہوا یا نہیں؟ اگر ہواتو تجدید نکاح سے پہلے کس بنیاد پر رخصتی کر دی؟

جواب وضاحت: 1) بیوی کو مذکورہ بیان سے اتفاق ہے۔

2)شوہر نے فون پر بیوی کو طلاق دی تھی اور میاں بیوی دونوں نے اپنے گھر والوں کو یہ بات نہیں بتائی تھی اس لئے انہیں معلوم نہ تھا اور انہوں نے رخصتی کر دی تھی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر واقعتاً صورتحال یہی ہے تو مذکورہ صورت میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوئی ہے پہلا نکاح ختم ہوگیا ہے لہذا اگر میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہتے ہیں تو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح  کرکے رہ سکتے ہیں۔  نیز پہلی طلاق کے بعد چونکہ نکاح ختم ہوگیا تھا اور میاں  بیوی کا اکٹھے رہنا جائز نہیں تھا لہٰذا میاں بیوی اس پر توبہ و استغفار کریں۔

نوٹ:   دوبارہ نکاح کرنے کے بعد شوہر کے لیے دو طلاقوں کا حق باقی ہوگا۔

تو جیہ : مذکورہ صورت میں رخصتی سے پہلے جب شوہر نے ایک طلاق دی تو اس سے ایک بائنہ طلاق واقع ہوئی کیونکہ رخصتی سے پہلے صریح الفاظ میں طلاق دینے کے باوجود بائنہ طلاق واقع ہوتی ہے اور اس طلاق کے بعدچونکہ  عدت بھی نہیں ہوتی  اس لیے طلاق واقع ہوتے ہی بیوی شوہر کے نکاح سے نکل گئی پھر رخصتی کے وقت چونکہ دوبارہ نکاح نہیں کیا گیا تھا، اس لئے رخصتی کے بعد جو طلاقیں دیں وہ لغو  گئیں کیونکہ طلاق واقع ہونے کے لیے عورت کا نکاح میں یا عدت میں ہونا ضروری ہے،  جبکہ مذکورہ صورت میں نکاح رخصتی سے پہلے ہی ختم ہو چکا تھا۔

ردالمختار (4/496)میں ہے:قال لزوجته غير المدخول بها انت طالق ثلاثا وقعن وان فرق بانت بالاولى ولم تقع الثانيه و الثالثة.فتاوی شامی (4/419) میں ہے:قوله:(ومحله المنكوحة ) أي:  و لومعتدة عن طلاق رجعي او بائن غير ثلاث في حرة وثنتين في امة……بدائع الصنائع( 3/295) میں ہے:الحكم الاصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق وزوال الملك ايضا  حتى لا يحل له وطؤها الا بنكاح جديدفتاویٰ محمودیہ (12/479) میں ہے:

استفتاء: (۶۱۵۱)یہ کہ ایک مسلمان مسمی عبدالکریم کا نکاح ہوا موضع واہ میں ہوا ابھی رخصتی نہیں ہوئی  عرصہ ایک سال کا گزر گیا ہے اس کے بعد بوجہ ناراضگی کے وہ رشتہ چھوڑ کر دوسری جگہ وہ رشتہ کے واسطے گیا آگے لڑکی والوں نے سوال کیا کہ تمہارا نکاح آگے موضع واہ میں ہوا ہے  جب تک تم ان کو طلاق نہ دو ہم تم کو رشتہ کیسے دے سکتے ہیں اس پر عبدالکریم نے دوسری شادی کی خاطر کہا کہ پہلی الہی بخش کی لڑکی فیروز جہان  جس کا نکاح میرے ساتھ ہوا ہے عرصہ ایک سال کا ہوا ہے جس کے ساتھ میں آباد نہیں ہوا اس کو میں طلاق کرتا ہوں روبرو گواہوں کے اپنی خوشی سے طلاق کرتا ہوں……………الخالجواب: حامداً ومصلیاًجس عورت کے ساتھ اس کے شوہر نے صحبت نہ کی ہو اگر اس کو تین لفظوں سے طلاق دے تو اس کو ایک ہی طلاق ہوتی ہے دوسری اور تیسری نہیں ہوتی مثلا اس طرح کہے کہ میں نے طلاق دی میں نے طلاق دی تو اس طرح کہنے سے صرف ایک ہی طلاق ہوگئی اور دوبارہ نکاح بغیر حلالہ کے صحیح ہو جائے گا اور اگر ایک لفظ سے تین طلاق دے دی مثلا اس طرح کہا کہ میں نے تین طلاقیں دیں تو تینوں واقع ہو جائیں گی اور پھر بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح صحیح نہیں ہوگا ۔اذا طلق الرجل امراته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن فان فرق طلاق بانت بالاولي ولم تقع الثانيه والثالثه وذلك مثل أن يقول انت طالق طالق طالق  (عالمگیری 1/373 )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved