- فتوی نمبر: 17-293
- تاریخ: 17 مئی 2024
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان
استفتاء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب !میرے شوہر میرے ساتھ بہت ظلم کرتے ہیں، مجھے مارتے ہیں اور کام وغیرہ بھی نہیں کرتے۔ جب بھی میں انہیں کام کا کہتی ہو ں تو مجھے کہتے ہیں کہ ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ تین مرتبہ سادہ کاغذ پرلکھ کر بھی دیا ہے۔ اس کاغذ پہ یہ لکھا ہوا تھا کہ’’ میں اپنے پورے ہوش و حواس میں انوارالحق ولد محمد رفیع اپنی بیوی صفیہ عرف گڑیا بنت محمد سردار کو طلاق دیتا ہوں‘‘ یہ جملہ تین دفعہ عام سادہ کاغذ پر لکھا ہوا تھا جو میں نے پھاڑ دیا۔
اس کے بعد چھ ماہ کے لیے میں میکے چلی گئی، چھ ماہ کے بعد قریبی مدرسہ سے مسئلہ پوچھا تو انہوں نے میرے خاوند کو بلایا اور پوچھا کہ آپ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں لکھ کر دی تھیں ؟تو انہوں نے اعتراف کر لیا جس پر مولانا صاحب نے کہا کہ آپ کی عدت بھی گزر چکی ہے، اب آپ دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔
زبان سے بھی کئی مرتبہ طلاق دی ہے ،جس کی تفصیل یہ ہے کہ بے حد و حساب دفعہ یہ جملہ ایک ہی مجلس میں بول چکے ہیں “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” ۔ جب وہ مجھے ہمبستری کرنے کا کہتے ہیں تو میں انہیں کہتی ہوں کہ کما کر لاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ میں کام نہیں کر سکتا۔،’’تو ایسے کر میری ماں بہن بن جا پھر میں تجھے ہمبستری کا نہیں کہوں گا، تیرے ساتھ میرا ایسا کوئی تعلق نہیں ہوگا‘‘ جبکہ میں اس کی ہر بات مانتی ہوں، وہ مجھے کچھ نہیں سمجھتا۔ میرے بچوں پر بھی اس کا بہت اثر پڑ رہا ہے اور میرے بچے بھی کہتے ہیں، ماما آپ پاپا کو چھوڑ دیں ،ہم خود ہی کما کر لے آئیں گے، نہ دیکھتے ہیں بچے سوئے ہیں ،نہ دیکھتے ہیں گھر میں کوئی آیا ہے بس مجھے یہی کہتے ہیں جب میں باہر سے گھر آؤں تو آپ کا کام ہے شلوار اتار کر اپنے کندھوں پر رکھ لیا کرو۔ اور یہ بھی کہتا ہے میرا دل کرتا ہے میں پاؤڈر والا سگریٹ پی کر صبح سے تیرے اوپر چڑھ جاؤں اور شام کو اتروں اور دس پندرہ بندے تیرے اوپر چڑھا کررہوں،’’ اب جا ،دفع ہوجا‘‘ میرے گھر میں کوئی مہمان بھی آئے تو اس کے بچوں کے ساتھ بھی گندے کام کرتے ہیں، محلے کی کوئی بچی میرے گھر میں آئے تو اسے بھی نہیں چھوڑتے۔میری بھی دو بیٹیاں ہیں میں ان کی عزت خراب نہیں کروانا چاہتی، لہذا مہربانی فرما کر میرے ساتھ تعاون فرمائیں۔
میرے سسرال والے بھی میرے ہاتھ کا کھانا نہیں کھاتے، کہتے ہیں اس کو تو ہمارے بیٹے نے کئی بار طلاق دی ہے، اس کے ہاتھ کا کھانا پینا بھی حرام ہے۔ میرے شوہر مجھ سے اس طرح ہمبستری کرتے تھے کہ شلوار میں سے نالہ نکال کر میرے دونوں ہاتھ باندھ کر منہ پر تھپڑ مارتے تھے اور کہتے تھے کہ ڈالو کتنا شور ڈالنا ہے؟ جو کوئی بھی آئے گا میں اسے یہ کہوں گا میں اپنی بیوی کو جیسے مرضی استعمال کروں ،آپ لوگوں کو کیا تکلیف ہے۔ بہت کچھ برداشت کیا ہے، لیکن اب کچھ بھی برداشت نہیں ہوتا ۔ مفتی صاحب! مہربانی فرما کر میرے ساتھ تعاون فرمائیں، میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں شریعت کے مطابق چلوں۔مجھے یہ بتا دیں کہ میرا ایسے شخص کے ساتھ رہنا جائز ہے یا نہیں؟
یہ چرس اور افیون کا نشہ کرتے ہیں لیکن جب بھی طلاق دی نشہ کی کیفیت بالکل نہیں تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، لہذا اب نہ تو رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ : شوہر نے سادہ کاغذ پر جو تین طلاقیں لکھ کر دی تھیں ان میں نیت کا اقرار کر لیا۔اس کے علاوہ زبان سے بھی تین طلاقیں دے چکا ہے لہذا تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔
شامی جلد 4 صفحہ 442 میں ہے:
“وان كانت مستبينة لكنها غير مرسومة ان نوى الطلاق يقع و الا لا”
بدائع الصنائع جلد 3 صفحہ 295 میں ہے:
” واما الطلقات الثلاث فحكمها الاصلى هو زوال الملك و زوال حل المحلية ايضا حتى لايجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر “
© Copyright 2024, All Rights Reserved