• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مریض اگرحالت مرض میں طلاق دے تو طلاق واقع نہیں ہوتی

استفتاء

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مفتی صاحب! میرے شوہر ذہنی مریض ہیں اور زیر علاج ہیں

11 محرم الحرام 1441 بمطابق 11ستمبر 2019 کومیر ےشوہرنے صبح صبح مجھے گالیاں دینا شروع کر دیں، میرے سسر اور دیور اونچی آوازیں سن کر میرے شوہر کو چپ کرانے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ اور بدتمیزی کرنے لگےتو میرے سسر نے انہیں تھپڑ مارا چپ کر ،اپنے والد سے تھپڑ کھا کر میرے شوہر کو اور غصہ آیا اور انہوں نے مجھے گالیاں دینا شروع کر دیں کہ تیری وجہ سے میرے باپ نے مجھے مارا ہے’’تو دفع ہو جا، میں نے تجھے نہیں رکھنا، میرے گھر سے نکل جا ،میں تجھے طلاق دیتا ہوں‘‘

مفتی صاحب اس پر میرےسسرنےاور مارنا شروع کر دیا، مزید مار کھانے پر وہ بولتے رہے اور گالیاں دیتے رہے اور مجھے بار بار کہتے رہے ’’جا دفع ہو یہاں سے، میں تجھے طلاق دیتا ہوں‘‘ ایک یا دو تین دفعہ نہیں بلکہ پاگلوں کی طرح وہ بار بار یہی جملے کہتے رہے  پھر وہ گھر سے باہر گئے اور گھر کے سامنے قصائی سے چھری لے آئے۔ رشتہ داروں نے پکڑ لیا،ان کی ذہنی حالت کو دیکھتے ہوئے اور گھبرا کر میں نے اپنی والدہ اور بھائیوں کو فون کرکے بلایا، خوب لڑائی ہوئی اور میرے گھر والے مجھے لے گئے کہ اب ہم نے اس کو نہیں بھیجنا۔

مفتی صاحب!ان کی یہ ذہنی کیفیت ایک یا دو ماہ سے تھی، ذہنی سکون کی دوائیں کھانے سے ان کا جسم ڈھیلا پڑ جاتا ہے، ہر وقت نیند کا غلبہ رہتا ہے اور کام کاج کے قابل نہیں رہتے ، دو ماہ سے وہ ان دوائیوں سے اتنا تنگ تھے کہ دوائی کھانے سے صاف انکار کر دیا، جب میں نے پیار سے کہنا مجھے بولنا، گالیاں دینا،مارنے کی کوشش کرنا، میں ڈرکے کہنا ہی چھوڑ چکی تھی ، نہیں کھاتے نہ کھائیں لیکن دوائیاں نہ کھانے سے زیادہ طبیعت خراب رہنے لگی پھربھی یہی ضد کہ دوائی نہیں کھاؤنگا ،آپ کو یاد آگیا ہوگا کہ یہی مسئلہ میں پچھلے سال لے کر آئی تھی اور آپ نے فتوی دیا تھا کہ مجھے طلاق نہیں ہوئی۔ اب میں اپنے شوہر کے گھر واپس جا سکتی ہو ں؟مفتی صاحب میرا پورا خاندان میرے واپس جانے پر بول رہا ہے کہ تم گناہ کا کام کرو گی واپس جاکر ،تمہیں طلاق ہو چکی ہے وغیرہ وغیرہ۔

آپ سے گزارش ہے کہ مہربانی فرما کر مجھے دوبارہ فتوی دیا جائے اور یہ بھی واضح بتایا جائے کہ آیا ایسا بار بار کرنے سے مجھے طلاق ہوتی ہے کہ نہیں؟واضح رہے کہ میرے نہ جانے سے سسرال اور میکہ  دونوں میں مسائل بڑھ رہے ہیں، میری دو چھوٹی بچیاں ہیں ،ان کی عزت اور محبت کی خاطر مجھے قربانی دینی ہے ،اتنا عرصہ رابطہ ختم ہونےپرمیرے شوہراب دوائیاں کھانےپرتیارہیں اورکھابھی رہےہیں جواب کی جلد از جلد  منتظر ہوں۔

وضاحت مطلوب: شوہر کا مکمل بیان حلفی درکار ہے کہ کیا واقعہ ہوا اور طلاق دیتے وقت اس کی ذہنی کیفیت کیا تھی؟

جوابِ وضاحت: شوہر مینٹل ہاسپیٹل سے زیرِ علاج ہیں، ان کی ذہنی کیفیت نارمل نہیں، تھوڑی بہت بات کرتے ہیں۔ اتنا بتاتے ہیں کہ مجھے پتہ نہیں چلا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

یہاں سے جو فتویٰ پہلے دیا گیا تھا اب بھی وہی ہے چنانچہ مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح باقی ہے اور میاں بیوی اکٹھے رہ سکتے ہیں۔میاں جب تک نارمل نہیں ہوجاتے تب تک ان کی دی ہوئی طلاق معتبر نہیں اس لئے بار بار مسئلہ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے علاج پر دھیان دیں اور انہیں اشتعال دلانے والے کاموں سے بچنے کی کوشش کریں۔

توجیہ:شوہر نے جس وقت طلاق دی اس وقت اس کی ذہنی کیفیت درست نہیں تھی اور ایسی کیفیت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔

شامی (439/4) میں ہے:

فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته، فما دام في حال غلبة الخلل في الاقوال والافعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها، لان هذه المعرفة والارادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved