• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بہو کے ساتھ بستر میں لیٹنا

استفتاء

میری شادی میری خالہ کی لڑکی سے ہوئی ، شادی کے وقت میری عمر چودہ اور میری بیوی کی عمر سولہ سال تھی۔ ہم قصور کے ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں میرے والد صاحب لاہور کام کرتے تھے جن کے پاس کام کرتے تھے ان  کے اصرار پر والد صاحب پوری فیملی کو لاہور لے آئے اور ہم لاہور رہنے لگے ۔ ہم جب چھوٹے چھوٹے تھے 2001ء میں ہماری شادی ہوئی۔ ہم دو نوں بھائی ہیں اور وہ دونوں بہنیں ہیں۔ مفتی صاحب شادی کے تقریبا 3 ماہ کے بعد گاؤں میں ہمارے مکان تعمیر ہو رہے تھے جس کی وجہ سے میں والدہ بہن بھائی گاؤں چلے گئے اور لاہور میں میرا ایک بھائی اور والد اور میری بیوی موجود تھے۔ تقریباً ایک ہفتہ کے بعد مجھے لاہور بھیج دیا گیا۔ جب میں لاہور آیا تو میری بیوی نے مجھے بتایا کہ تمہارے جانے کے بعد ایک دن میں سو رہی تھی کہ اچانک میری انکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ تمہارا والد میرے بستر میں لیٹا ہوا تھا اور میرا نالہ کھولنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ میں نے آنکھ کھلتے ہی اسے کہا کہ کیا کر رہے ہو تو اس نے مجھ سے کہا میرا بیٹا چھوٹا ہے اسے کچھ نہ کہنا تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہو مجھے بتا دینا۔ میں نے اسے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن میرے بستر سے  نکل جاؤ۔ مفتی صاحب اس کا  ٹھیک کہنا اس وقت اس سے جان چھڑانا مقصود تھا کیونکہ گھر میں کوئی موجود نہیں تھا۔ اچانک میرے بھائی نے  باہر سے بیل بجائی دروازہ کھولنے کے لیے تو وہ میرے بستر سے نکل گیا تو میں نے منت سماجت کر کے کہا کہ میرے شوہر کو گاؤں سے بلاؤ ۔ تب انہوں نے تمہیں بلایا ہے۔ مفتی صاحب کم عمر کی وجہ سے ہم والد صاحب سے ڈرتے تھے ۔

لیکن یہ سننے کے بعد میں اپنی بیوی کو لے کر کرایہ کے مکان میں چلا گیا ۔ بعد میں جب اس سلسلہ کا علم ہوا تو میں بہت پریشان ہوا۔ جماعت میں کسی مفتی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ تمہارے لیے حرام ہوچکی ہے مفتی صاحب میں آپ کو یہ مسئلہ اس لیے لکھ کر دے رہا ہوں کہ آپ اچھی طرح اس مسئلہ کو  پڑھ کر فتویٰ دیں، کیونکہ ہم دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ والد صاحب سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا  وہ مجھ سے مذاق کرتی تھی میں بھی اسے  ہاتھ وغیرہ لگا لیا کرتا تھا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ کا نکاح ختم  نہیں ہوا اور نہ آپ کی بیوی آپ پر حرام ہوئی ہے۔ تفصیل کے لیے ہماری کتاب فقہ اسلامی دیکھیے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved