• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مال وراثت کی زکوۃ

استفتاء

میرے والدصاحب نے 2012 میں زیور بنایا تھا ،2015 میں ان کی وفات ہوگئی،اور والدہ کی وفات 2019 میں ہوگئی،وہ زیور میرے پاس ہے،والد صاحب اپنی زندگی میں زکوۃ ادا نہیں کرسکےتھے،اور یہ زیور بھائی کی شادی کیلئے بنوایا گیا تھا،بھائی کی عمر اس وقت 32،36 سال تھی،اور اب تمام بہن بھائیوں نےکہا ہے کہ ہمیں اس میں سے کچھ نہیں چاہیئے،بھائی کو اس کا حج یا عمرہ کروادو۔آپ زکوۃ کے بارے میں بتادیں کب سے کب تک بنتی ہے؟کیونکہ آپ نے کہا تھا کہ یہ وراثت ہے،جبکہ تمام ورثاء نے لینے سےانکار کردیا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر تمام ورثاء بھائی کودینے پر رضامند ہیں تو انہیں یہ زیور دیا جاسکتاہے،اور زکوۃ کا حکم یہ ہے کہ والد صاحب کی حیات تک اس کی زکوۃ ان کے ذمہ تھی،بشرطیکہ وہ صاحب نصاب ہوں ان کے انتقال کے بعد چونکہ یہ تمام ورثاء کا مشترک حصہ بن چکا ہے اور ان کے قبضہ میں بھی نہیں ہے توایسی صورت میں  ان پراس کی زکوۃ واجب  نہیں ،البتہ یہ زیور جس کے اپنے قبضہ میں تھا تو اس پر اس کے حصہ کی زکوۃواجب ہے بشرطیکہ وہ صاحب  نصاب ہو۔

بدائع الصنائع (2/10)میں ہے:

  ووجوب الزكاة وظيفة ‌الملك ‌المطلق وعلى هذا يخرج قول أبي حنيفة في الدين الذي وجب للإنسان لا بدلا عن شيء رأسا كالميراث بالدين والوصية بالدين، أو وجب بدلا عما ليس بمال أصلا كالمهر للمرأة على الزوج، وبدل الخلع للزوج على المرأة، والصلح عن دم العمد أنه لا تجب الزكاة فيه

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved