• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نارمل حالت میں ذہنی مریض کی طلاق کا حکم

استفتاء

گذارش ہے کہ میرا بھائی*** ذہنی مریض ہے ، عرصہ دس سال سے میو ہسپتال میں زیر علاج ہے ہسپتال کی پرچی کی فوٹو کاپی ساتھ لف ہے، ڈاکٹروں کے مطابق ***ذہنی اور نفسیاتی مریض ہے لیکن ہر وقت ایسا نہیں ہوتا  کہ بیماری کی کیفیت ہو کبھی بالکل ٹھیک ہوتا ہے کبھی کبھی عجیب عجیب باتیں بھی کرتا ہے، *** نے تین افراد کے سامنے یہ الفاظ استعمال کیے کہ ’’*** میں آپ کو طلاق دیتا ہوں‘‘ تین بار یہ کہا ہے جبک*** لڑکی کے والد ہیں مذکورہ واقعہ کے وقت میں موجود تھا اس کی بیوی نے کہا کہ چکی سے آٹا لے آؤ تو اس نے کہا کہ میں نہیں جاتا اس بات پر میاں بیوی کی تکرار ہوئی اور اس نے طلاق کے الفاظ بول دئیے  اس وقت اس نے کوئی خلاف عادت کام نہیں کیا تھا ۔ اس واقعہ کے بعد بھی بیوی کو  دو مختلف مواقع پر تین تین  مرتبہ یہی الفاظ کہہ چکا ہے، اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ کیا طلاق ہوچکی ہے یا نہیں؟

شوہر کا بیان:

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے یہی الفاظ استعمال کیے تھے کہ ولی محمد حفیظاں بی بی میں تمہیں طلاق دیتا ہوں تم مجھ پر حرام ہو‘‘ تین مرتبہ یہ الفاظ کہے تھے، میں غصے میں تھا لیکن اس وقت مجھے معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، میرا بھائی اور خالو بھی وہاں موجود تھے، اس وقت میں نے کوئی خلاف عادت کام نہیں کیا تھا، اس کے بعد بھی دو  مختلف اوقات میں تین تین مرتبہ میں نے یہ الفاظ کہے ہیں۔

نوٹ: فون کال کے ذریعے شوہر سے یہ بیان لیا گیا۔

بیوی کا بیان:

بیوی کے بھائی کے نمبر پر رابطہ کیاگیا تو بیوی نے یہ بیان دیا کہ:

میرے شوہر*** نے تین افراد کے سامنے یہ الفاظ استعمال کیے کہ ’’*** میں آپ کو طلاق دیتا ہوں‘‘ تین بار یہ کہا ہے،  میں نے  صرف اتنا کہا کہ چکی سے آٹا لے آؤ تو اس نے کہا کہ میں نہیں جاتا اس بات پر تکرار ہوئی اور اس نے غصے میں طلاق کے الفاظ بول دئیے  اس وقت اس نے کوئی خلاف عادت کام نہیں کیا تھا ۔ اس واقعہ کے بعد بھی مجھے   دو مختلف مواقع پر تین تین  مرتبہ یہی الفاظ کہہ چکا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر ذہنی مریض ہے اور اس نے  غصے کی حالت میں طلاق دی ہے لیکن  اس وقت شوہر کی ذہنی حالت ایسی نہیں تھی کہ اسے معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ ہی  اس سے خلاف عادت کوئی قول یا فعل صادر ہوا ہے،  ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

فتاوی شامی (4/439) میں ہے:

قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.

الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله……………

 فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.

درمختار مع ردالمحتار (4/509) میں ہے:

[فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين.(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق،

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] .

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved