• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سیوریج اور گیس کے مسئلے کی وجہ سے ایک جگہ لیا ہوا پلاٹ تبدیل کرنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتی حضرات اس بارے میں کہ مجھے میری شاگرداؤں نے رقم دے کر ایک عدد پلاٹ ساڑھے تین مرلے ٹیچر کالونی، رائے ونڈ میں مدرسہ کے لیے دلوایا اور میرےنام کروادیا جو تقریباً 9 لاکھ کا پڑگیا تھا، پھر صرف بنیادیں ڈلوانے پر 3لاکھ 80ہزار خرچہ آچکا۔ اب معلوم ہوا کہ وہاں سیوریج اور گیس کا مستقل مسئلہ ہے جو کہ ہمیں پہلے معلوم نہ تھا ۔ اب کیا ہم اس جگہ کو فروخت کرکے کسی اور جگہ مزید رقم ملا کر بنا ہوا مکان لیکر مدرسہ شروع کرسکتے ہیں۔ میں ایک معذور خاتون ہوں، دوبئی ٹاؤن کے قریب شیر شاہ کالونی ہے،شیر شاہ کالونی کے ساتھ بلال ٹاؤن ہے یعنی رائے ونڈ سے تقریباً 15 کلومیٹر دور میری رہائش ہے۔ دینے والی مخیرات کو کوئی اعتراض نہیں ہے کہ جہاں چاہیں بنائیں۔ پلاٹ کے علاوہ تقریباً 12 لاکھ میرے پاس ہیں تو پلاٹ کو فروخت  کرکے وہ رقم اور 12 لاکھ ملا کر کسی اور مناسب بنی بنائی جگہ لیکر وہاں مدرسہ شرو ع کرلوں۔ کیا یہ شرعی اعتبار سے جائز ہے؟ میں معذور ہوں ویل چئیر پر ہوتی ہوں غیر شادی شدہ ہوں کوئی مدرسے کو چلانے والا نہیں ہے۔

تنقیح: مستقبل قریب میں یہ مسائل حل ہوتے نظر نہیں آرہے، ساتھ والی کالونی میں گیس اور سیوریج کا انتطام ہے  لیکن اس کالونی میں نہیں  اور نہ کالونی والے دلچسپی دکھا رہے ہیں۔میرے کہنے پر میری شاگرداؤں نے مجھے رقم بھیجی، میں نے اس رقم سے پلاٹ خریدا اور اپنے ذاتی نام لگوایا ، میں چونکہ معذور ہوں اس لیے میں نے سب شاگرداؤں کو اور اپنے جاننے والوں کو بتا رکھا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں یہ پلاٹ میرے نام رہے گا اور میرے مرنے کے بعد  یہ پلاٹ وقف ہوگا اگر کوئی اس کو سنبھالنے والا ہوا تو سنبھال لے گا  وگرنہ رائیونڈ کو وقف ہوگا اس بات پر سب شاگردائیں متفق ہیں۔ابھی سے وقف نہیں کیا نہ وہاں کوئی بورڈ لگوایا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں یہ پلاٹ چونکہ ابھی وقف نہیں کیا گیا اس لیے اس پلاٹ کو بیچ  کر دوسری جگہ مکان لیا جاسکتا ہے۔

شامی(8/171) میں ہے:

(ولا يمنع ‌الشخص ‌من ‌تصرفه في ملكه إلا إذا كان الضرر) بجاره ضررا (بينا) فيمنع من ذلك، وعليه الفتوى

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved