• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

پیڈی کیور، مینی کیور اور کپڑے کرائے پر دینے کا حکم

استفتاء

میں پارلر میں مندرجہ ذیل کام کرتی ہوں:

  1. فیشل کرنا (Facial) چہرے کو کریم وغیرہ لگا کر صاف کرنا
  2. مینی کیور، پیڈی کیور کرنا (چہرے اور ہاتھ پاؤں پر مختلف کریمیں لگا کر ان کو صاف کرنا)
  3. میں شادی کے لیے کچھ جوڑے رکھوں گی جو میں کرائے پر دوں گی، میرے پاس شادی کے کچھ سوٹ ہیں جو مہنگے ہیں اور صرف ایک دو مرتبہ پہنے گئے ہیں میں چاہتی ہوں کہ جو سفید پوش گھر کے  لوگ ہیں،20،22 ہزار کا سوٹ نہیں لے سکتے، ان کو یہ سوٹ کرائے پر دوں گی تو ایک ، دو ہزار میں ان کی ضرورت پوری ہوجائے گی اور میرا بھی فائدہ ہوگا۔

مذکورہ بالا کاموں کا کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1،2.  فیشل اور مینی کیور، پیڈی کیور کرنا جائز ہے۔

3.کسی کو کپڑے کرائے پر دینا جائز ہے۔

شرح المجلۃ (2/633) میں ہے:

يجوز اجارة الالبسة والاسلحة والخيام وامثالها من المنقولات الى مدة معلومة فى مقابلة معلومة ثم في الالبسة يشترط لصحة اجارتها تعيين اللابس او تعميمها بان يقول له اجرتك لتلبسه او لتلبسه من شئت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved