• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایک زبانی طلاق کے بعد طلاق کے دونوٹس

استفتاء

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

گزارش ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں درج ذیل مسئلہ کا جواب درکار ہے۔ برائے مہربانی میرے مسئلہ کا جواب دیں۔ یہ کہ  میری شادی سال  2015 میں مسمیٰ**** نامی شخص سے ہوئی تھی اور جب میں حاملہ تھی مسمیٰ ****نے مجھے ایک مرتبہ زبانی طلاق دے کر گھر سے نکال دیا تھا اور میں اپنے والدین کے گھر آگئی تھی۔ واضح رہے کہ طلاق کا لفظ صرف ایک مرتبہ استعمال کیا گیا تھا اور میں ان دنوں حاملہ تھی۔ والدین کے گھر میری بیٹی پیدا ہوئی اور اس دوران مسمیٰ ****بار بار ہمارے گھر آیا اور نہ تو میں اس کے سامنے گئی اور نہ ہی اس سے کسی قسم کے ازدواجی تعلقات قائم ہوئے۔ ازاں بعد کسی سے ہم نے فتوی لیا اور فتوی لینے کے بعد ہم نے عقدِ ثانی کر لیا مگر پھر لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے اور میں اپنے گھر واپس آ گئی۔ اس کے بعد مسمیٰ ****نے مورخہ 02-08-2017 کو مجھے طلاق اول کا تحریری نوٹس بھیج دیا۔ اس دوران اس نے مجھ سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہ رکھا اور میں نے اپنے طور پر متعلقہ یونین کونسل کنٹونمنٹ بورڈ سے رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ مسمیٰ ****نے وہاں دوسری طلاق مورخہ 21-09-2017 کو بھیج رکھی تھی اور اس کے بعد اس نے یونین کونسل کنٹونمنٹ بورڈ سے طلاق موثری کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر لیا تھا جس کے بعد اس نے دوسری شادی بھی کرلی۔

اب مسمیٰ ****کا بیان ہے کہ میں نے صرف دوسری شادی کی غرض سے تیسری طلاق قبل از وقت دے کر طلاق کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔( واضح رہے کہ دوسری اور تیسری طلاق میں 90 دن کا وقت پورا نہ کیا گیا ہے) اور تیسری طلاق دینے کی میری ہرگز ہرگز نیت نہ تھی جس کا گواہ میرے پاس موجود ہے جو کہ مسمیٰ ہاشم کا کہنا ہے کہ میں ابھی تک اس کی منکوحہ ہوں۔

اس پر فتوی فرمادیویں کہ بمطابق شریعت کیا احکامات ہیں، وضاحت فرما دیں۔

شوہر کے نام اطلاع از دارالافتاء:

محترم ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ! طلاق کے بارے میں آپ کی بیوی کی طرف سے ہمارے پاس ایک سوال بھیجا گیا ہے ہمیں اس بارے میں آپ کا تحریری تفصیلی حلفیہ بیان مطلوب ہے۔ آپ سے کئی مرتبہ ہمارے ساتھی نے فون پر بات کی ہے لیکن اس کے باوجود آپ کا بیان ہمیں موصول نہیں ہوا، اب آخری مرتبہ آپ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ  19 مئی 2020 تک اگر آپ کا تحریری مؤقف نہ آیا تو ہم بیوی کے بیان پر جواب لکھنے کے مجاز ہوں گے اور اس کے بعد اگر آپ ہم سے مسئلہ پوچھنا بھی چاہیں گے تو ہم آپ کے بیان پر جواب نہ دینے کے مجاز ہوں گے۔ والسلام۔ دارالافتاء۔

طلاق کے نوٹس:

(طلاق اول)

’’منکہ**** بازار لاہور کینٹ کا ہوں اندریں وقت بقائمی ہوش وحواس خمسہ اقرار کرتا اور لکھ دیتا ہوں کہ من مقر کی شادی ازروئے شریعت محمدی مسماۃ ****، صدر بازار لاہور کینٹ سے مؤرخہ 03-04-2015 سرانجام پائی۔ یہ کہ من مقر کے نطفہ اور مسماۃ مذکوریہ کے بطن سے ایک بیٹی ہانیہ بعمر 1 سال پیدا ہوئی جو حیات ہے اور اپنی والدہ کے پاس زیرکفالت ہے۔ یہ کہ مسماۃ مذکوریہ اور من مقر کے درمیان آپس میں ذہنی ہم آہنگی پیدا نہ ہوسکی۔ من مقر نے پھر بھی اسے پنے گھر میں آباد رکھا اور اسے ہر ممکن خوش رکھنے کی کوشش کی لیکن اس نے پھر بھی اپنی عادات نہ بدلیں۔ مسماۃ مذکوریہ کے حقیقی بھائی نے  ثالثی کونسل اور پنچایتی طور پر اپنی بہن کو واپس اپنے خاوند کے ساتھ بھیجنے کا وعدہ کیا تھا لیکن تین ماہ کی ٹریننگ کا بہانہ بنا کر ٹال دیا اور بچی سے بھی مجھے ملنے نہیں دیتے۔ ان کے گھر جاتا ہوں تو گھر کے افراد بلاجواز لڑائی جھگڑا اور گالی گلوچ کرتے ہیں۔ اس کے ناروا رویے کی وجہ سے ہماری ازدواجی زندگی اجیرن بن چکی ہے جس کی وجہ سے ہم بطور میاں بیوی اور حدود اللہ کے تحت ایک چھت کے نیچے زندگی نہ بسر کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے تمام حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں محمد ہاشم مختار اپنی بیوی صائمہ نذرکو طلاق اول کا نوٹس دیتا ہوں من مقر نے اپنی بیوی کو منانے کے لیے بہت کوشش کی مگر مسماۃ مذکوریہ من مقر کے ساتھ رہنے کے لئے راضی نہیں ہے۔ اگر اس نے اپنا رویہ نہ بدلا اور باز نہ آئی تو طلاق دوئم سوئم دے دوں گا اور اسے اپنی زوجیت سے علیحدہ کردوں گا۔ لہذا یہ طلاق نامہ اول نوٹس بحق صائمہ نذر لکھ دیا ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ المرقوم 01-08-2017‘‘

دوسرے طلاق نامے کی عبارت:

’’۔۔۔۔۔من مقر نے بہت کوشش کی کہ میری بیوی میرے ساتھ ایک اچھی زندگی گزارے لیکن ایسا ممکن نہ ہوا لہذا میں ہاشم مختار اپنی بیوی سائمہ نذرکو طلاق اول دیتا ہوں اور اسے اپنی زوجیت سے علیحدہ کر دیتا ہوں، وہ جہاں چاہے رہے، بعد از عدت عقدِ ثانی کرے من مقر کو کوئی عذر واعتراض نہ ہوگا۔ لہذا یہ طلاق نامہ اول نوٹس بحق صائمہ نذرلکھ دیا ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ المرقوم 21-09-2017

نوٹ: تاحال شوہر کی طرف سے دار الافتاء میں حلفی بیان موصول نہیں ہوا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی نے جو تفصیل مہیا کی ہے اس کے مطابق تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں لہذا اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

توجیہ:

ایک طلاق اس وقت واقع ہوئی جب شوہر نے بیوی کو حالتِ حمل میں ایک زبانی طلاق دی تھی۔ پھر وضع حمل کے بعد دوبارہ نکاح ہوگیا۔ دوسری اور تیسری طلاق سوال میں مذکور طلاق ناموں سے واقع ہوگئی۔

فتاویٰ شامیہ (443/4) میں ہے:

وفي التتارخانية:…………… ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه

بدائع الصنائع (295/3) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved