- فتوی نمبر: 27-400
- تاریخ: 31 اگست 2022
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں*** نے واٹس ایپ پر وائس میسج کے ذریعے ان الفاظ سے طلاق دی کہ ’’میں اپنے ہوش و حواس میں**** کو طلاق دے رہا ہوں‘‘ ایک ہی میسج میں تین مرتبہ یہ الفاظ بولے اور میسج اپنی بیوی کے بھائیوں کو بھیج دیا ، مذکورہ صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہو گئی ہیں؟ کیا صلح کی کوئی گنجائش ہے؟ میں اپنے بیوی بچے واپس لانا چاہتا ہوں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
واٹس ایپ کے ذریعے دی گئی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے لہذا مذکورہ صورت میں وائس میسج میں تین مرتبہ یہ کہنے سے کہ ’’میں اپنے ہوش و حواس میں نگینہ بی بی کو طلاق دے رہا ہوں‘‘تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
درمختار مع ردالمحتار (4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل.
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved