- فتوی نمبر: 27-119
- تاریخ: 23 اگست 2023
- عنوانات: مالی معاملات
استفتاء
السلام علیکم **نے**سے 18من گندم خریدی ،فی من گندم کی قیمت 2200روپے ہے،ٹوٹل 18من کی قیمت 39600روپے ہے۔**نے** کو 18 من کے پیسے دئیے،اب تک گندم کا قبضہ نہیں کیاپھر جب گندم کا قبضہ کیا تو اس نے صرف 9من دئیےباقی 9من نہیں دئیےاب اس وقت فی من گندم کی قیمت 3000روپے ہے، جو معاملہ دو ماہ پہلے طے ہوا۔اب اس نے کہا کہ میرے پاس گندم نہیں ہے،آپ مجھ سے پیسے لے لیں ،اب آیا کہ جو پیسے واپس دے گا وہ پہلی والی قیمت دے گا؟یعنی فی من کی قیمت 2200روپے یا فی من کی قیمت 3000روپےجو ابھی اس وقت رائج ہے وہ دے گا۔اگر یہ 3000والا قیمت لے تو کیا سود میں شمار ہوگا یا نہیں؟
وضاحت مطلوب:گندم خریدتے وقت باہم کیا معاملہ طے ہوا تھا؟
جواب:پیسے اسی وقت دےدیے تھے اور یہ طے ہوا تھا کہ مارکیٹ میں جو گندم چل رہی ہے دو ہفتوں کے بعد فروخت کنندہ وہ گندم دےدے گا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں خریدار بیچنے والے کو مجبور کرسکتا ہے کہ مجھے گندم ہی ادا کرو البتہ باہمی رضامندی سے اس گندم کی جگہ پیسے واپس لینے کی صورت میں جو قیمت باہم طے ہوئی تھی اسی کے اعتبار سے پیسےواپس لے سکتے ہیں ، موجودہ قیمت کے اعتبار سے پیسے لینا جائز نہیں۔
توجیہ: مذکورہ صورت بیع سلم کی بنتی ہے اور بیع سلم میں رب السلم(خریدار) مسلم فیہ(خریدی ہوئی چیز) لینے کا اور مسلم الیہ(بیچنے والا)مسلم فیہ(بیچی ہوئی چیز) دینے کا پابند ہوتا ہے اور باہمی رضامندی کے بغیر کوئی فریق مسلم فیہ(خریدی ہوئی چیز)لینے اور دینے سے انکار نہیں کرسکتا۔البتہ باہمی رضامندی سے یہ ہوسکتا ہے کہ کل سودے کو یا اس کے بعض کو فسخ(کینسل)کردیا جائےاور کینسل کرنے کی صورت میں خریدار اپنے دیے ہوئے پیسےواپس لے سکتا ہے،ان کے بدلے میں کوئی اور چیز یا زائد پیسےنہیں لے سکتا ۔ ،لہذا مذکورہ صورت میں 9 من گندم یا اس کی وہ قیمت جو ادا کی تھی وہی لی جاسکتی ہے۔
نوٹ:بیع سلم کے لیے راجح قول کے مطابق کم ازکم ایک مہینہ کی مدت ضروری ہےتاہم ایک قول تین دن کا بھی ہےاور موجودہ دور میں اس قول کو لینے کی گنجائش ہے،لہذا بیع سلم کی مذکورہ صورت درست ہے۔
ہدایۃ(3/143)میں ہے:
فان تقایلا السلم لم یکن له أن يشتري من المسلم اليه برأس المال شيئا حتى يقبضه كله لقوله عليه السلام(لا تأخذ الا سلمك أو رأس مالك)أي عندالفسخ
الحجۃ علی اہل المدینۃ (2/591)ميں ہے:
ولا بأس بأن تأخذ بعض رأس مالك وبعض ما أسلمت فيه إذا حل الأجل محمد عن أبي حنيفة عن أبي عمر عن ابن جبير عن ابن عباس أنه قال ذلك المعروف الحسن الجميل
قال محمد وكذلك اخبرنا أبو حنيفة قال حدثنا أبو عثمان عن سعيد بن جبير عن ابن عباس رضي الله عنهما في السلم يحل فيأخذ بعضه ويأخذ بعض راس المال فيما بقي فقال ابن عباس هذا المعروف الحسن الجميل
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ بیع سلم میں جب سودے کی ادائیگی کا وقت ہوجائےاور آدمی سودے کا کچھ حصہ لےلے اور باقی رقم واپس لے لے ،تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں فرمایا یہ طریقہ مروج ہے اور بالکل ٹھیک ہے۔
ردالمحتار(7/338)میں ہے:
قوله: الاقالة(رفع العقد) ولو في بعض المبيع
ہدایہ(3/139)میں ہے:
ولا يجوز الا بأجل معلوم لما روينا،و لأن الجهالة فيه مفضية الى المنازعة كما في البيع.والأجل أدناه شهر،وقيل ثلاثة أيام،وقيل أكثر من نصف اليوم،و الأول أصح
بنایہ شرح ہدایہ میں ہے:
(وقيل ثلاثة أيام) أي أدنى المدة ثلاثة أيام، وهو قول الشيخ أبي جعفر أحمد بن أبي عمران الشيخ الطحاوي اعتبارا للأجل الذي ورد الشرع بتقديره بثلاثة أيام، وهو رواية عن محمد.
وفي ” شرح المجمع ” وهذا ليس بصحيح، لأن الثلاث هناك أقصى المدة وأدناه غير مقدر، وهكذا في الإيضاح (وقيل أكثر من نصف اليوم) وبه قال أبو بكر الرازي وبعض أصحاب زفر – رحمه الله-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved