- فتوی نمبر: 27-247
- تاریخ: 24 اگست 2022
- عنوانات: مالی معاملات > سود
استفتاء
1)مسئلہ:مجھے (عصر)کو کچھ نقد رقم کی ضرورت ہے ،میں *** کے پاس جاتا ہوں اور*** سے ایک موٹر سائیکل یا کوئی بھی چیز قسطوں پر خرید کر وہی چیز دوبارہ *** کو قیمت کم کرکے نقد فروخت کرتاہوں ،یعنی قسطوں پر اس کی قیمت 60000تھی لیکن اب بامر مجبوری *** کو یا *** کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو 50000کی بیچتا ہوں تو کیا یہ جائز ہے؟ یہ سود میں تو داخل نہیں ہوگا؟
2)دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بعض لوگوں نے اپنی دکانوں میں ایک بندہ اسی کام کے لیے بٹھایا ہوتاہے ،مثال کے طور پر *** کی دکان ہے اور وہ لوگوں کو مختلف اشیاء قسطوں پر فروخت کرتا ہے،اب *** نے اپنی دکان میں اپنے بھائی خلیل کو اسی مقصد کے لیے بٹھایا ہے کہ کوئی گاہک اگر مجھ سے قسطوں پر کوئی چیز لے کر جائے اور وہ اسی وقت اس چیز کو نقد بیچنا چاہے تو باہر جا کر کسی اور کو بیچنے کے بجائے خلیل کو ہی بیچ دے ،کیا یہ جائز ہے؟اس لیے کہ *** کے پاس اس وقت پیسے نہیں ہیں تو خلیل جو کہ دکان پر بیٹھا ہے وہ اس شخص سے وہی چیز نقد میں 50000دے کر خرید لیتاہے۔
3)میں (***)موٹرسائیکل خریدتا اور بیچتا ہوں ،میری دکان ہے ،اس دکان میں میرے ساتھ میرا بھائی خلیل بھی بیٹھتاہے،میرا اپنا سرمایہ ہے اور اس کا اپنا سرمایہ ہے،بعض اوقات ایسے گاہک آتے ہیں جوکہ مجبور ہوتے ہیں اور ان کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے ،وہ مجھ سے موٹر سائیکل 60000میں قسطوں پر خریدتے ہیں اور مجھ سے خرید کر میرے ساتھ بیٹھے ہوئے میرے بھائی کو کہتے ہیں کہ ہم نے یہ موٹر سائیکل بیچنی ہے اگر آپ خریدتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ میں کسی اور کو بیچ دوں گا تو یہ لوگ میرے بھائی خلیل (جوکہ اسی طرح کی چیزوں کے خریدنے کے لیے بیٹھا ہوتاہے)کو دس ہزار 10000کے نقصان پر 50000میں موٹر سائیکل بیچ دیتے ہیں ،تو کیا یہ صورت جائز ہےاور کیا یہ سود میں شامل تو نہیں ہوگا؟
تنقیح : دوسری اور تیسری صورت میں خلیل کے خریدنےکے بعد اگر *** اس موٹر سائیکل کو دوبارہ خلیل سے خریدنا چاہے تو خلیل اس موٹر سائيكل کو *** کے ہاتھ ہی بیچنے کا پابند ہوتا ہے اور اگر *** نہ خریدے تو پھر خلیل اس موٹرسائیکل کو باہر بیچ دیتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1)*** سے خرید کر اگر *** کو ہی بیچیں تویہ صورت جائز نہیں ہے اور اگر*** سے خرید کر کسی ایسے(تیسرے) شخص کو بیچیں کہ جس نے بعد میں *** کو ہی بیچنا ہے تو یہ صورت بھی جائز نہیں ہے اور اگر تیسرا شخص اجنبی ہو یعنی اس نے *** کو نہ بیچنا ہو اور کہیں اور سے قرضہ بھی نہ ملتا ہو تو یہ صورت جائز ہے تاہم اس صورت کو بھی مستقل کاروبار بنانا درست نہیں۔
توجیہ: جس صورت میں *** بعد میں خود ہی خریدتا ہو چاہے خریدار سے براہ راست خریدتا ہو یا اس خریدار سے خریدنے والے سے خریدتا ہو تو چونکہ یہ صورت بیع عینہ کی بنتی ہے اس لیے جائز نہیں اور جس صورت میں خریدار آگے کسی اور کو بیچے اور وہ واپس *** کو نہ بیچے تو یہ صورت بیع عینہ کی نہیں بنتی اس لیے جائز هے ۔
2،3)مذکورہ صورتیں جائز نہیں ہیں۔
توجیہ: دوسری، تیسری صورت میں چونکہ تیسرا بندہ(خلیل )پہلے(بندے ***) کو بیچنے کا پابند ہوتا ہے )البتہ پہلا(بندہ ***) نہ خریدے تو الگ بات ہے(اور عام طور پر اس طرح کی صورتوں میں تیسرا بندہ پہلے بندے کو ہی بیچتا ہے جس سے مبیع(موٹر سائیکل) گھوم کے پہلےبندے (***) کے پاس ہی آجاتی ہے اور یہ صورت بیع عینہ کی ہی بنتی ہے لہذا جائز نہیں ۔
حاشيہ ابن عابدين (7/655)میں ہے:
قال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا، وقد ذمهم رسول الله – صلى الله عليه وسلم – فقال: «إذا تبايعتم بالعينة واتبعتم أذناب البقر ذللتم وظهر عليكم عدوكم» أي اشتغلتم بالحرث عن الجهاد.وفي رواية «سلط عليكم شراركم فيدعوا خياركم فلا يستجاب لكم» وقيل إياك والعينة فإنها اللعينة.
ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما، فإن لم يعد كما إذا باعه المديون في السوق فلا كراهة فيه بل خلاف الأولى، فإن الأجل قابله قسط من الثمن، والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة اه وأقره في البحر والنهر والشرنبلالية وهو ظاهر، وجعله السيد أبو السعود محمل قول أبي يوسف، وحمل قول محمد والحديث على صورة العود
فتح القدير (7/ 213)میں ہے:
ثم الذي يقع في قلبي أن ما يخرجه الدافع إن فعلت صورة يعود فيها إليه هو أو بعضه كعود الثوب أو الحرير في الصورة الأولى، وكعود العشرة في صورة إقراض الخمسة عشر فمكروه، وإلا فلا كراهة إلا خلاف الأولى على بعض الاحتمالات كأن يحتاج المديون فيأبى المسئول أن يقرض بل أن يبيع ما يساوي عشرة بخمسة عشر إلى أجل فيشتريه المديون ويبيعه في السوق بعشرة حالة، ولا بأس في هذا فإن الأجل قابله قسط من الثمن والقرض غير واجب عليه دائما بل هو مندوب، فإن تركه بمجرد رغبة عنه إلى زيادة الدنيا فمكروه أو لعارض يعذر به فلا، وإنما يعرف ذلك في خصوصيات المواد وما لم ترجع إليه العين التي خرجت منه لا يسمى بيع العينة؛ لأنه من العين المسترجعة لا العين مطلقا وإلا فكل بيع بيع العينة
مسائل بہشتی زیور (2/237)میں ہے:
بیع عینہ:اس کی دو بڑی ممکنہ صورتیں اور چند ذیلی صورتیں ہیں :۱۔زید نے بکر سے ایک ہزار روپے قرض مانگے۔ بکر نے کہا میں تمہیں قرض نہیں دیتا البتہ وہ سامان جس کی نقد قیمت ایک ہزار ہے تمہارے
ہاتھ بارہ سو روپے میں ادھار فروخت کرتا ہوں ۔ تم اس کو ایک ہزار روپے میں فروخت کر کے اپنا کام چلاؤ۔ زید اس پر راضی ہو کر بکر سے سامان بارہ سو میں ادھار خریدتا ہے۔ اب آگے اس میں تین ذیلی صورتیں بنتی ہیں :(الف) زید وہ مال خود بکر کے ہاتھ ایک ہزار روپے میں نقد فروخت کرتا ہے۔(ب) باہمی تجویز سے زید وہ مال ایک تیسرے شخص خالد کے ہاتھ ایک ہزار روپے میں فروخت کرتا ہے اور پھر خالد سے بکر ایک ہزار روپے میں نقد خرید لیتا ہے۔ بکر خالد کو قیمت کے ایک ہزار روپے دیتا ہے اور خالد زید کو ادا کر دیتا ہے۔ اس طرح سے زیدکو ایک ہزار روپے مل جاتے ہیں اور بکر کے اس کے ذمہ بارہ سو روپے بن جاتے ہیں ۔یہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں اور یہی وہ صورتیں ہیں جن کے بارے میں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بیع کا میرے دل پر ایسا بوجھ ہے جیسے پہاڑوں کا، یہ ایک مذموم معاملہ ہے جو سود خوروں نے گھڑ لیا ہے۔(ج) زید وہ مال ایک تیسرے شخص کو نقد ہزار روپے میں فروخت کر دے۔ اس تیسرے شخص سے بکر کا خریدنا طے نہ ہو۔یہ صورت امام ابو یوسفؒ کے نزدیک جائز ہے اور غالباً امام محمدؒ کے نزدیک بھی ایسے ہی ہے کیونکہ سامان جب تک پہلے بائع کے پاس لوٹ کر نہ آئے اس کو عینہ نہیں کہا جاتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved