• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بغیر نکاح کے پیداہونےوالے بچہ کا حکم

استفتاء

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ایک مسلمان شخص کا ہندو عورت سے سیٹنگ تھی ،تعلقات کی بناپر بچہ ہوگیا ۔آیا اب اس بچے کا نسب کا کیا ہوگا اس کو وراثت ملے گی یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

بغیر نکاح کے جو بچہ پیدا ہو اس کا نسب مرد سے ثابت نہیں ہوتا اورنہ ہی وہ مرد کا یا مرد اس کا وارث ہو گا ایسا بچہ اپنی ماں کا شمار ہو گا اوریہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔

فی الفتاوي التاتارخانية:2/315

رجل زني بامرة وحبلت منه فلما استبان حملها تزوجها الذي زني بها فالنکاح جائز …وان جاءت به اي الولد لامن ستة اشهر لايثبت النسب ولايرث منه الاان يقول هذ الولد مني ولم يقل من الزنا۔

خانية علي الهندية:1/371

رجل زني بامرة فحبلت  منه فلما استبان حملها تزوجها الزاني ولم يطاها حتي ولدت …وان جاءت بولد لاقل من ستة اشهر من وقت النکاح لايثبت ولايرث منه الاان يقول الرجل هذا الولد مني ولايقول من الزنا

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved