• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی کہتی ہے شوہر نے طلاق کے الفاظ دو دفعہ کہے، شوہر کہتا ہے ایک دفعہ کہے، تو کیا حکم ہے؟

استفتاء

بیوی کا بیان:

جب سے میری شادی ہوئی ہے اس وقت سے میرے شوہر بہت روک ٹوک کرتے  تھے ہر جگہ پابندی لگانا اپنی مرضی سے بھیجنا ،دو تین دفعہ مجھ پر ہاتھ بھی اٹھا چکے ہیں پھر اپنے گھر والوں کی باتوں میں ایک دم آجاتے تھے میری ایک نہیں سنتے تھے ہر چھوٹی بات پر ہاتھ اٹھاتے تھے۔ حمل کی حالت میں بھی دوبار مارا پھر مجھے ماما کے گھر چھوڑ دیا۔ حمل کی حالت میں کوئی خرچہ بھی نہیں بھیج رہے تھے۔ میری ماما پر ساری ذمہ داری دے گیا کہ جو کرنا ہے آپ نے کرنا ہے، میری اس حالت میں طبیعت خراب ہو رہی تھی تو میں چھت پر چلی گئی رات کو ماما کے ساتھ، اس کا ان کو پتا چل گیا اور وہ بہت بولے گلی میں کھڑے ہو کر، میری ایک نہیں سنی۔ میں کہتی رہی کہ طبیعت خراب ہو رہی تھی صرف پانچ منٹ ہوئے تھے، کہنے لگلے اتنی طبیعت خراب ہو رہی تھی تو گلی میں 4 مرد بٹھا کر واک کر لیتی۔ مجھے کہنے لگے اب میرے ساتھ گھر چلو، میں یہاں نہیں چھوڑوں گا۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی، میں نے کہا اور سب نے کہا کہ بات کو چھوڑ دو پر کسی کی نہیں سنی، میں نہیں گئی تو فون کرکے مجھے کہتے ہیں ’’طلاق کے کاغذ بھیج دوں گا، میری طرف سے طلاق ہے‘‘ ابھی دو بار بولا تھا کہ میں رونے لگی اور فون بند کردیا، تیسری مرتبہ میں نے نہیں سنا۔

شوہر کا بیان:

ہماری شادی کو نو ماہ ہوگئے ہیں، لڑائی جھگڑے میں ایسا کہہ دیتا تھا کہ اگر آپ کو میرے ساتھ مسئلہ ہے تو مجھ سے فارغ ہوجاؤ۔ پھر ابھی میں نے فون پر طلاق کے الفاظ بولے تھے کہ ’’میں نے آپ کو طلاق دی، اور کاغذات آپ کو بھیج دوں گا‘‘ اور میں نے طلاق کا لفظ ایک ہی دفعہ بولا تھا۔ میری بیوی حمل سے ہے۔ یہ میرا حلفی بیان ہے اور اس پر میں قسم دینے کیلئے تیار ہوں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں دو رجعی طلاقیں  واقع ہوچکی ہیں جن کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر رجوع ہوسکتا ہے۔ بیوی چونکہ حاملہ ہے اور حاملہ کی عدت وضع حمل (بچے کی پیدائش) تک ہوتی ہے لہٰذا وضع حمل سے پہلے پہلے رجوع ہوسکتا ہے۔ وضع حمل تک رجوع نہ کیا تو بعد میں اکٹھا رہنے کے لئے دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا۔

توجیہ: طلاق کے معاملے میں عورت کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے لہذا اگر اسے معتبر ذریعہ سے شوہر کا طلاق دینا معلوم ہو تو اس کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔مذکورہ صورت میں بیوی کے بیان کے مطابق شوہر نے جب فون پر طلاق دی تو طلاق کا جملہ کہ ’’میری طرف سے طلاق ہے‘‘ دو مرتبہ بولا تھا لہٰذا بیوی اپنے حق میں دو رجعی طلاقیں شمار کرنے کی پابند ہے۔اور آئندہ اگر شوہر نے ایک اور طلاق دے دی تو بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی جس کے بعد دوبارہ رجوع یا صلح کی کوئی گنجائش نہ رہے گی۔او رشوہر کے بیان میں اس جملہ سے کہ ’’اگر آپ کو میرے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے فارغ ہوجاؤ‘‘کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ اس جملہ میں شوہر طلاق واقع نہیں کررہا بلکہ بیوی کو پیشکش کررہا ہے کہ اگر آپ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو مجھ سے طلاق لے کر فارغ ہوجاؤ۔ پھر فون پر بات کرتے ہوئے اس نے ایک ہی دفعہ یہ جملہ بولا ہے کہ ’’میں نے آپ کو طلاق دی‘‘ لہٰذا اس سے شوہر کے حق میں ایک رجعی طلاق شمار ہوگی۔

فتاویٰ شامی (449/4) میں ہے:

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه

بدائع الصنائع (3/289) میں ہے:

وأما شرائط جواز الرجعة فمنها قيام العدة، فلا تصح الرجعة بعد انقضاء العدة؛ لأن الرجعة استدامة الملك، والملك يزول بعد انقضاء العدة، فلا تتصور الاستدامة

نیز (3/304) میں ہے:

فصل: وأما عدة الحبل فهي مدة الحمل وسبب وجوبها الفرقة أو الوفاة والأصل فيه قوله تعالى: وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن [الطلاق: 4] أي: انقضاء أجلهن أن يضعن حملهن.

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved