- فتوی نمبر: 29-181
- تاریخ: 05 جون 2023
- عنوانات: عبادات > متفرقات عبادات
استفتاء
فرض نماز کی رکعتوں کی وضاحت فرما دیں جیسے نماز ظہر کی چار رکعت فرض ہیں چھ رکعت سنت اور دو نفل اللہ تعالیٰ کا حکم چار رکعت فرض کا ہے یا بارہ رکعت کا؟ اس میں رہنمائی فرمائیں جزاکم اللہ
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اللہ کا حکم بارہ رکعات کا ہے، البتہ اس حکم کے مختلف درجے ہیں۔ ایک درجہ فرض یا واجب کا ہے جسےکسی حال میں بھی چھوڑنے کی اجازت نہیں اور اس سے نچلا درجہ سنت مؤکدہ کا ہے جسے عذر کے بغیر چھوڑنا گناہ ہے ، بیماری یا سفر میں چھوڑنے کی اجازت ہے اور ایک درجہ اس سے کم یعنی سنت غیر مؤکدہ یا نفل کا ہے جن کو پڑھنے سے بہت ثواب ہوتا ہے لیکن بغیر عذر بھی چھوڑ دیں تو گناہ نہیں ہوتا۔ سارے درجے حضورﷺ کے ارشادات یا آپﷺ کے معمولات سے ہی ثابت ہیں۔، کسی نے اپنے پاس سے نہیں بنائے۔ حضورﷺ کا فرمان یا عمل اللہ کا حکم ہی ہے۔من يطع الرسول فقد أطاع الله [القرآن، سورة النساء،آيت:176]
ترجمہ:جو رسول کی اطاعت کرتا ہے اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
حجۃ اللہ البالغۃ (2/52) میں ہے:
النهى عن الصلاة في خمسة اوقات
ثم الصلوة خير موضوع فمن استطاع أن يستكثر منها فليفعل غير أنه نهى عن خمسة اوقات ثلاثة منها اوكد نهيا عن الباقين وهى الساعات الثلاث اذا طلعت الشمس بازغة حتى ترتفع وحين يقوم قائم الظهيرة حتى تميل وحين تتضيف للغروب حتى تغرب لانها اوقات صلاة المجوس وهم قوم حرفوا الدين جعلوا يعبدون الشمس من دون الله واستحوذ عليهم الشيطان وهذا معنى قوله صلى الله عليه وسلم فانها تطلع حين تطلع بين قرني الشيطان وحينئذ يسجد لها الكفار فوجب أن یميز ملة الاسلام وملة الكفر في اعظم الطاعات من جهة الوقت أيضا………
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved