• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تین طلاق ناموں پر بغیر پڑھےدستخط کرنے کاحکم

استفتاء

میری بیوی مورخہ*** صبح بوقت 10بجے دن کو میرے اور میرے والد کی غیر موجودگی میں راضی خوشی اپنے والدین کے گھر گئی تھی اور جب شام کے وقت میری بیوی اپنے گھر آنے کے لیے نکلنے لگی تو اس کی والدہ نے اپنے گھر آنے سے روک دیا جس پر میں نے  اس کی والدہ** کی منت سماجت کی  کہ وہ  میری بیوی کو میرے گھر آباد کرے مگر وہ انکاری تھی اور وہ آباد نہیں کرنا چاہتی تھی جس کے بعد میں نے 13 دن اس کا انتظار کیا  کہ ہو سکتا ہے کہ وہ خود ہی اپنی بیٹی کو میرے ساتھ آباد کرا دے مگر اس نے ایسا  نہیں کیا ۔اس کے بعد میں اور میرے والد مورخہ****کو کچہری گئے تو وہاں میرے والد نے کسی وکیل سے مشورہ کیا کہ میں اپنی بہو کو اپنے بیٹے***کے ساتھ آباد کرنے کے لیے “آبادی دعوی “دائر کرنا چاہتا ہوں اور میرے والد نے بتایا کہ ہم نے پہلے بھی مورخہ ****کو بھی “آبادی دعوی “دائر کیا تھا جس کے بعد میری بہو **** کو میرے بیٹے****کے ساتھ گھر آباد ہو گئی تھی جس کے بعد وکیل نے کہا کہ آپ پہلے بھی آبادی دعوی دائر کر چکے ہیں،لہذا اب آپ کو آبادی دعوی دائر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اب آپ لوگ اس لڑکی سے جان چھڑوائیں اور اسے طلاق دے دیں،جس پر میں نے خود کہا کہ “میں کیوں اپنے معصوم بیٹے اور اپنی بیوی کی زندگی تباہ کروں میں صرف ایک موقع دینا چاہتا ہوں اور میں صرف ایک طلاق دوں گا “جس پر وکیل نے میرے والد سے کہا کہ آپ فوٹو سٹیٹ والے سے کچھ کاغذات خرید کر لے آئیں میرے والد نے وہ کاغذات لا کر وکیل کو دئیے اور اس پر وکیل نے تحریر لکھی اور میرے والد سے کہا کہ اس پر اپنے بیٹے خالد کے سائن اور انگوٹھا لگوائیں جس پر مجھ سے ان کاغذات پر صرف انگوٹھا  لگوایا گیا،یہ تین الگ الگ  کاغذ تھے اور تینوں پر مجھ سے انگوٹھے لگوالیے تھے حالانکہ میں ایک طلاق دینا چاہتا تھا اس  کے بعد وہ کاغذات میرے والد نے  بذریعہ ڈاک  میری بیوی کو بھیج دئیے جبکہ مجھ سے ان کاغذات پر صرف  انگوٹھا لگوایا گیا تو اس وقت میں نے ان کاغذات کو پڑھا نہیں تھا کہ ان  میں ایک طلاق لکھی تھی یا تین ،میں نے دل و دماغ اور زبان سے ایک طلاق دینے اور لکھنے کا کہا تھا اور میری نیت بھی ایک طلاق دینے کی تھی تاکہ ہم میاں بیوی ایک طلاق دینے  کے بعدرجوع کر کے دوبارہ آباد ہو سکیں میں اللہ تعالی کو حاضر ناظر جان کر بذریعہ حلف کہتا ہوں کہ میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے بیان کیا ہے درست ہے برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ ایک طلاق موثر ہوئی ہے یا تینوں موثر ہوئیں ہیں؟

پہلے طلاقنامے کی عبارت:

“…………….. من مظہر نے وجہ مسلسل غیر آبادی مسماۃ ہما ناہید مذکوریہ کو مطابق شرع محمدی طلاق اول دیدی ہے ………………..”

 

دوسرے طلاقنامے کی عبارت:

“…………….. من مظہر نے وجہ مسلسل غیر آبادی مسماۃ ہما ناہید مذکوریہ کو مطابق شرع محمدی طلاق دوئم دیدی ہے ………………..”

تیسرے طلاقنامے کی عبارت:

“…………….. من مظہر نے وجہ مسلسل غیر آبادی مسماۃ ہما ناہید مذکوریہ کو مطابق شرع محمدی طلاق  سوئم دیدی ہے ………………..”

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ،جس کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے،لہذا اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

توجیہ:طلاق نامہ پر لکھی گئی طلاق کتابت مستبینہ مرسومہ ہے،جس میں بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہےلہذا جب شوہر نے تینوں طلاق ناموں پر انگوٹھا لگا دیا تو تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں۔

ہندیہ(1/ 378)میں ہے:

«الكتابة ‌على ‌نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة»

بدائع الصنائع (3/ 295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي ‌هو ‌زوال ‌الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

فقہ اسلامی(ص:117)میں ہے:

اگر کسی اور نے طلاق نامہ لکھ دیا اور شوہر نے بلا جبر اس پر دستخط کر دیئے ہوں تو اس سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

امداد الفتاوی(5/183) میں ہے:

سوال:  ایک شخص نے دوسرے سے کہا ایک طلاق لکھدو اس نے بجائے صریح کے کنایہ لکھدیا آمر نے بغیر پڑھے یا پڑھائے دستخط کر دئیے تو کیا حکم ہے اور دستخط کرنا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے ………..؟

الجواب: اگر مضمون کی اطلاع پر دستخط کئے ہیں تو معتبر ہے ورنہ معتبر نہیں قواعد سے یہی حکم معلوم ہوتا ہےاور دستخط کرنا اصطلاحاً اس مضمون کو اپنی طرف منسوب کرنا ہے ……………..

فتاوی دار العلوم دیو بند(9/109) میں ہے:

سوال:ہندہ نے اپنےشوہر سے کہا یا تو جائیداد میرے نام کردو یا مجھے طلاق دے دو،شوہر نے جائیداد اس کے نام کرنے کو ناپسند کر کے ہندہ کی خواہش پر اسٹامپ خرید کر عرضی نویسی سے طلاق نامہ لکھوا دیااور سو گواہوں کی گواہی کرادی اور اس مضمون کو تصدیق کر دیا اور نشان انگوٹھا طلاق نامہ پر لگا دیاپھر ان میں مصالحت ہو گئی،اب شوہر کہتا ہے کہ میں نے زبان سے طلاق کا لفظ نہیں بولا صرف طلاق نامہ لکھوایا ہےمذکورہ صورت میں طلاق  ہوئی یا نہیں؟

جواب: جب کہ عرضی نویسی کو کہا کہ طلاق نامہ لکھ دے اور پھر اس مضمون کی تصدیق کردی اور انگوٹھا لگا دیا ،موافق تصریح فقہاء کے طلاق واقع ہو گئی اور جتنی طلاقیں اس کاغذ میں لکھی گئی ہیں وہ واقع ہو گئی ہیں اگر تین طلاقیں لکھی گئی ہیں تو تین طلاقیں واقع ہو کر عورت مغلظہ بائنہ ہو گئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم               

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved