• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

طلاق ثلاثہ

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شوہر نے تقریباً 8 سال قبل 9 محرم کو تین مرتبہ “طلاق” کا لفظ استعمال کیا  اور کہا کہ ” تو میری طرف سے فارغ ہے” اور اس کے بعد بارہایہ لفظ استعمال کیا ہے اور تین سال قبل تحریری طور پر بھی طلاق دی ہے  جو ساتھ  لف ہے اور یہ نوٹس دیتے وقت بھی تین دفعہ طلاق دی تھی اور فریق محمد فیاض ماننے سے انکاری ہے۔

تنقیح:آٹھ سال پہلے لڑائی جھگڑے کے دوران میرے مطالبے پر شوہر نے کہا کہ “میں نے تجھے طلاق دی” تین مرتبہ کہا، اس وقت ہوش وحواس  میں تھے، کوئی توڑ پھوڑ نہیں کی البتہ مجھے مار رہے تھے اور اسی دوران طلاق دی۔

شوہر  کا بیان:

 میں نے طلاق کبھی نہیں دی لیکن ڈرایا ضرور ہے ۔  میں کہتا تھا  کہ “میں چھوڑ دوں گا” یہ لفظ بول دوں گا، ڈارایا دھمکایا ضرور تھا، البتہ ایک نوٹس میں نے بھیجا تھا تاکہ باز آجائے، اس کے علاوہ کبھی طلاق نہیں دی۔

طلاقنامے کی  عبارت:

 …………………….. اور اس لیے من مقر محمد فیاض ولد چراغ دین بقائمی ہوش وحواس بلا جبر مسماۃ آمنہ دختر عاشق حسین کو طلاق اول دیتا ہوں  …………………..

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے  بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے اور رجوع یا صلح کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی لہٰذا بیوی کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں ہے۔

توجیہ:طلا ق کے معاملے میں  بیوی کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے لہٰذا اگر وہ شوہر سے طلاق کے الفاظ خود سن لے یا اسے معتبر ذریعے سے شوہر کے طلاق دینے کا علم ہوجائے تو اس کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ مذکورہ صورت میں چونکہ عورت نے تین دفعہ طلاق کے الفاظ خود سنے  تھے لہٰذا بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئی تھیں۔

حاشیہ ابن عابدین (4/463 میں ہے

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له ‌تمكينه.

حاشیہ ابن عابدین (4/510) میں ہے

‌كرر ‌لفظ ‌الطلاق وقع الكل قوله ‌كرر ‌لفظ ‌الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.

فتاوی عالمگیری(1/473)  میں ہے

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم               

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved