- فتوی نمبر: 29-83
- تاریخ: 05 مئی 2023
- عنوانات: مالی معاملات > رہن و گروی
استفتاء
میں نے گروی پر گھر لینے کے بارے میں ایک مسئلہ پوچھنا ہے مثال کے طور پر میں نے کسی سے گروی پر مکان لینا ہو اس سے دس لاکھ پر گروی لے لیتا ہوں مدت تین سال کے لیے اور وہ گھر میں کسی اور کو بیس ہزار کرایہ پر دیتا ہوں اور جس سے گروی لیا ہے اس سے یہ کہتا ہوں کہ تم نے مجھے تین سال کے بعد دس لاکھ کے بجائے نو لاکھ دینے ہیں یا پھر میں مالکِ مکان سے یہ کہتا ہوں کہ میں تمہیں ماہانہ پانچ ہزار دوں گا تین سال تک (20ہزار کرایہ میں سے پانچ ہزار مالک کو دوں گا اور پندرہ ہزار خود رکھوں گا) اور تین سال بعد تم نے مجھے دس لاکھ دینے ہیں (ماہانہ پانچ ہزار مالک کو پہنچ جائے گا)
1۔کیا یہ دونوں صورتیں جائز ہیں؟
2۔کیا پندرہ ہزار روپے کا نفع جو مجھے کرایہ سے آرہا ہے وہ میرے لیے حلال ہوگا یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1،2) مذکورہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں اور وہ کرایہ آپ کے لیے حرام اور سود ہے ۔
توجیہ: پہلی صورت میں کل دس لاکھ روپے دیے گئے ہیں اور واپسی نو لاکھ کی طے ہے ایک لاکھ کو اس مکان کا کرایہ بھی شمار کرلیں تو باقی نو لاکھ کی حیثیت قرض کی بنے گی اور دوسری صورت میں وہ کل 10 لاکھ قرض ہی بنتے ہیں اور ساتھ پانچ ہزار کرایہ طے کیا گیا ہے لہذا مذکورہ دونوں صورتیں جائز نہیں بنتیں کیونکہ اول تو قرض کے ساتھ اجارے کے معاملہ کو جمع کرنا جائز نہیں دوسرے قرض کی وجہ سے مقروض سےنفع حاصل کرنا سود اور ناجائز ہے جبکہ مذکورہ دونوں صورتوں میں اس قرض کی وجہ سے مارکیٹ ریٹ کے حساب سے کرائے میں بہت کمی کی جارہی ہے کیونکہ ویسے وہ مکان آگے 20 ہزار میں کرایہ پر دیا جارہا ہے یعنی اس کا مارکیٹ کرایہ تقریبا 20 ہزار ہے لہذا یہ کمی کروانا بھی سود بنے گا ،نیز پہلی صورت میں یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ کرایہ میں کمی ایڈوانس کی وجہ سے ہے اور قرض الگ معاملہ ہے کیونکہ صرف ایڈوانس کرایہ دینے کی وجہ سے کرایہ میں عموما اتنی کمی نہیں کی جاتی بلکہ اس طرح کے معاملات میں اگر ساتھ قرض نہ ہو تو مالک کرایہ پر دینے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا ۔
السنن الكبرى للبیہقی (5/ 570 ) میں ہے:
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع وسلف …………..
مصنف ابی شیبہ میں ہے:
عن الحكم عن ابراهيم قال: كل قرض جر نفعا منفعة فهو ربا
التنویر والدر (10/83) میں ہے:
لاانتفاع به مطلقا باستخدام والسكنى ولا لبس ولا اجارة ولا اعارة سواء كان من مرتهن او راهن الا باذن كل للآخر وقيل لايحل للمرتهن لانه ربا
ردالمحتار(10/83) ميں ہے:
(قوله وقيل لايحل للمرتهن) قال في المنهج وعن عبدالله محمد بن اسلم السمرقندي وكان من كبار علماء سمرقند أنه لايحل له أن ينتفع بشئ منه بوجه من الوجوه وان اذن له الراهن لانه اذن في الربا لانه يستوفى دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا يكون ربا
اعلاءالسنن (18/64) میں ہے:
قال العبد الضعيف: قال الموفق في المغنى لاينتفع المرتهن من الرهن بشئ أى مالا يحتاج إلى مؤنة كالدار والمتاع ونحوه فلايجوز للمرتهن الانتفاع به بغير اذن الراهن بحال لانعلم فى هذا خلافا لان الرهن ملك الراهن، فكذلك نماؤه ومنا فعله فليس لغيره أخذها بغير اذنه فان اذن الراهن للمرتهن في الانتفاع بغير عوض وكان دين الرهن من قرض لم يجز لانه قرض يجر منفعة وذلك حرام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved