• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کرایہ لی ہوئی ہوٹل آگے کرایہ پر دینا

استفتاء

ہم نے آج سے چار سال پہلے ایک شخص سے زمین کرایہ پر لی تھی، اور اس پر ہم نے ہوٹل کی عمارت تعمیر کی ہے لیکن ہوٹل ہم سے صحیح طریقے سے چل نہیں رہا جس کی وجہ سے دن بہ دن خسارہ ہو رہا ہے اس لیے اب ہم اس ہوٹل کو آگے کسی پارٹی کو کرایہ پر دینا چاہتے ہیں۔

جس کی ترتیب یہ ہو گی جو کرایہ آئے گا اس میں سے اصل مالک کو طے شدہ کرایہ دیدیا جائے گا اور باقی جو بچے گا وہ ہم اپنے استعمال میں لائیں گے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ ہم نے خود یہ جگہ کرایہ پر لی ہے کیا ہم بھی اسے آگے کرایہ پر دے سکتے ہیں؟ جبکہ اصل مالک کو اس بات کا علم ہونے پر شاید اعتراض نہ ہو گا۔ برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ آپ نے خالی زمین کرایہ پر لے کر اس پر عمارت خود تعمیر کی ہے اس لیے آپ یہ ہوٹل زمین کے مالک سے طے شدہ کرایہ سے زائد کرایہ پر بھی آگے دے سکتے ہیں۔

فتاویٰ شامی (9/33) میں ہے:

و لو آجرها بأكثر تصدق بالفضل إلا في مسألتين: إذا آجرها بخلاف الجنس أو أصلح فيها شيئاً.

مبسوط سرخسی (15/144) میں ہے:

فإن آجرها بأكثر مما استأجرها به تصدق بالفضل إلا أن يكون أصلح منها بناء أو زاد فيها شيئاً فحينئذ يطيب له الفضل …. و كذلك أجره بجنس آخر لأن الفضل عند اختلاف الجنس لا يظهر إلا بالتقوم و العقد لا يوجب ذلك………….. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved