- فتوی نمبر: 9-275
- تاریخ: 06 فروری 2017
- عنوانات: مالی معاملات
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مئلہ کے بارے میں کہ میرا بڑا بھائی مسجد کا خزانچی ہے اور وہ ایک زمیندار شخص ہے، وہ مسجد کی رقم سے اپنے ضروریات مثلاً کھاد خریدنا، پانی کی قیمت کی ادائیگی وغیرہ کاموں کے لیے بطور قرض کے رقم لیتا ہے۔ اور جب مسجد کو ضرورت ہوتی ہے تو بھائی وہ رقم واپس مسجد کے ضروریات میں خرچ کرتا ہے۔ اس کا پوچھنا یہ ہے کہ کیا مسجد کی رقم سے اپنی ذاتی کام کے لیے قرض لینا جائز ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اس خزانچی کا اپنے ذاتی کام کے لیے مسجد کی رقم سے قرض لینا جائز نہیں۔ کیونکہ یہ وقف کا مال ہے اور اس کے پاس امانت ہے۔ اور امانت میں تصرف کرنا جائز نہیں۔
بحررائق میں (5/ 259) ہے:
قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه، فلو أقرضه ضمن، وكذا المستقرض.
فتاویٰ عالمگیری (4/ 338) میں ہے:
والوديعة لا تودع ولا تعار ولا تواجر ولا ترهن وإن فعل شيئاً منها ضمن كذا في البحر.
فتح القدیر (6/ 223) میں ہے:
وليس للمشرف أن يتصرف في مال الوقف بل وظيفته الحفظ لا غير.
فتاویٰ محمودیہ (15/ 78) میں ہے:
’’سوال: عید گاہ یا مسجد کے لیے لوگوں نے چندہ کیا۔ اس روپیہ سے قرض دینا یا لینا کیسا ہے؟
جواب: جائز نہیں ہے۔ وہ امانت ہے۔‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved