- فتوی نمبر: 34-22
- تاریخ: 28 اگست 2025
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > رضاعت کا بیان
استفتاء
اگر بڑے بھائی نے اپنی چچا زاد بہن کا دودھ پیا ہو تو کیا بڑے بھائی کا چھوٹا بھائی اس چچازاد بہن ( بڑے بھائی کی رضاعی ماں) کی چھوٹی بہن کے ساتھ شادی کر سکتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں چھوٹے بھائی کا نکاح ان کی چچا زاد بہن (جو کہ بڑے بھائی کی رضاعی ماں ہے )کی چھوٹی بہن سے جائز ہے۔
تو جیہ: مذکورہ صورت میں چونکہ صرف بڑے بھائی نے چچا زاد بہن کا دودھ پیا ہے اس لیے چچا زاد بہن صرف بڑے بھائی کی رضاعی ماں بنی ہے اور اس کی چھوٹی بہن صرف بڑے بھائی کی رضاعی خالہ بنی ہے اور بھائی کی رضاعی خالہ سے نکاح جائز ہے جیسے کہ بھائی کی رضاعی بہن اور ماں سے نکاح جائز ہے لہذا مذکورہ صورت میں چھوٹے بھائی کی چچا زاد بہن (جو کہ بڑے بھائی کی رضاعی ماں ہے) کی چھوٹی بہن سے نکاح جائز ہے۔
الدر المختار (4/348) میں ہے:
(وتحل أخت أخيه رضاعا) يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر.
(و) كذا (نسبا) بأن يكون لأخيه لأبيه أخت لأم، فهو متصل بهما لا بأحدهما للزوم التكرار كما لا يخفى
ہندیہ (1/343) میں ہے:
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة
کفایت المفتی (5/165) میں ہے:
سوال:اگر کسی نے ایک عورت کا دودھ پیا ہو تو پینے والے کے لیے اس کی لڑکی حرام ہوگی یا پینے والے کے اور بھائی بہن کے لیے بھی حرام ہوگی؟
جواب: پینے والے کے لیے اس کی لڑکی حرام ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved