- فتوی نمبر: 34-120
- تاریخ: 06 دسمبر 2025
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > روٹی، کپڑے اور رہائش کا بیان
استفتاء
مفتی صاحب ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری شادی 12 جون 2019 کو ہوئی ہے اور اس طرح ہوئی ہے کہ جس گھر میں میری شادی ہوئی ہے اسی گھر میں میری بہن کی شادی بھی ہوئی ہے ۔ میری بیوی حافظہ عالمہ ہے شادی کے چند ماہ بعد وہ ( میری بیوی ) مدرسے میں پڑھانے چلی گئی تھی درمیان میں لڑائی جھگڑے بھی ہوتے رہے اور جرگے بھی ہوتے رہے لیکن جب اس دفعہ ہمارا آخری جرگہ ہوا تو اس میں میرا جو بہنوئی اور سالہ بھی ہے اس نے کہا کہ میں اپنی بیوی کو جو کہ میری ( سائل کی ) بہن ہے اس کو اپنی والدہ سے جو کہ میری ساس ہے ان سے الگ رکھوں گا اور میں نے بھی یہی فیصلہ کیا کہ میں بھی اپنی بیوی کو جو کہ اس کی بہن ہے اس کو الگ رکھوں گا ۔ اور میں نے جرگے میں کہا کہ میری اور میری بیوی کے درمیان جو مشاورت ہوئی ہے وہ فی الحال ( یری بیوی کے ) مدرسے میں رہنے کی ہوئی ہے لیکن جب میں اپنی بیوی کو گاؤں رہنے کا کہوں گا تو میری بیوی کو گاؤں رہنا پڑے گا۔تو سب جرگے والوں نے کہا کہ ٹھیک ہے اس وقت گاؤں جائے گی ۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ جب بھی میری ساس اور میری بہن کی آپس میں لڑائی ہوتی ہے تو وہ میری بہن کو اس بات کا طعنہ دیتی ہے کہ میری بیٹی ( سائل کی بیوی ) خود کما کے ( مدرسہ میں تدریس کے ذریعہ )کھا رہی ہے تیری طرح نہیں ہے ۔اور اس دفعہ پھر لڑائی ہوئی تو پھر طعنہ دیا کہ میری بیٹی کا خرچہ میرا بیٹا اٹھا رہا ہے تیرا بھائی ( سائل ) نہیں اٹھا رہا حالانکہ سارا خرچہ میں خود کر رہا ہوں۔ تو پھر میں نے یہ سوچ کر فیصلہ کیا کہ کب تک میری بہن اور میں اپنی ساس کے طعنے سنتے رہیں گے تو پھر میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ اب میرے گھر رہے گی تو خرچہ ملےگا مدرسے میں رہنے کی صورت میں نہیں ملے گا۔ تو میری بیوی نے مجھے کمینہ اور ذلیل اور برا بھلا کہا اور آ گے سے بدعائیں دی ہیں اور کہا کہ میں کسی صورت گھر نہیں جاتی مدرسے میں رہ کر ہی پڑھاؤں گی اور اگر مدرسے میں مجھ پر خرچہ کیا تو بچی سے بات بھی کراوں گی ورنہ تمھیں شکل بھی نہیں دیکھنے دوں گی۔ میں نے کہا گھر رہی تو ساری ذمہ داریاں اٹھاوں گا لیکن مدرسے میں رہی تو کوئی ذمہ داری نہیں اٹھا تا ۔میرا سوال یہ ہے کہ اس صورت میں یعنی مدرسے میں اپنی بیوی کو خرچہ نہ دینے کی صورت میں میں گناہ گار تو نہیں ہوں گا ۔ اور دوسری بات یہ کہ اس کا رویہ میرے ساتھ بہت بد تمیزی اور سختی کا ہے اور اس نے میری بہن اور والدہ کو کتی کہا ہے ۔
دارالافتاء کے نمبر سے بیوی سے رابطہ کیا گیا تو اس نے درج ذیل بیان دیا ۔
بیوی کا بیان :
پہلی بات یہ ہے کہ مجھے اپنے شوہر سے نان و نفقہ کا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ میرے گاؤں والے گھر میں نہ رہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہاں صرف ایک سرکاری سکول ہے جہاں مڈل تک تعلیم ہے وہاں سرکاری اساتذہ صرف حاضری لگانے آتے ہیں ۔ میں گاؤں سے فاصلے پر طالبات کے مدرسے میں تدریس کرتی ہوں جہاں قریب سکول میں میری بچی تعلیم حاصل کر رہی ہے اس کی تعلیم کی وجہ سے میں یہاں ہوں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ گاؤں میں جہاں ہمارا گھر ہے وہ صرف ایک کمرے کا ہے اور اس محلہ کے اکثر لوگ بچوں کی تعلیم کا مناسب نظم نہ ہونے کی وجہ سے اسلام آباد یا پنڈی میں شفٹ ہو گئے ہیں صرف گرمی کی چھٹیاں گزارنے آتے ہیں ۔ محلے میں آس پاس کوئی نہیں ہے۔میرے شوہر بھی ملازمت کے سلسلے میں ٹیکسلا میں ہوتے ہیں جو کہ گھر سے موٹر سائیکل پر تین گھنٹے کا سفر ہے۔ میں اکیلی عورت سردی کی راتوں میں بچوں کے ساتھ ایسی ویران جگہ کس طرح رہ سکتی ہوں ۔میرے شوہر ٹیکسلا میں اپنے بھائی کے کوارٹر میں رہتے ہیں اور مجھے وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ان وجوہات کی بنا پر میں وہاں نہیں رہ سکتی ۔ اور میرا کوئی خرچے کا مطالبہ بھی نہیں ہے۔
تنقیح از شوہر : وہ محلہ پہلے بے آباد تھا لیکن اب وہ آباد ہوگیا ہے اور یہ بات بیوی کے علم میں بھی ہے ۔ ہمارے بالکل ساتھ والے گھر میں میرے ماموں رہتے ہیں اسی طرح آس پاس قریب قریب اور لوگ بھی رہتے ہیں ۔ دس منٹ سے کم کے فاصلہ پر میری بیوی کے والدین کا گھر ہے ۔ اگر بیوی وہاں آجائے تو میں اس کی خاطر روزانہ موٹر سائیکل پر دو گھنٹہ کا سفر کر کے آنا جانا کر نے کے لیے بھی تیار ہوں ۔ نیز اس کی بہن کا ہمارے گاؤں ہی میں مدرسہ ہے اسی طرح وہاں سکول بھی ہیں بچوں کی دونوںطرح کی تعلیم کا انتظام بھی ہوسکتا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صور ت میں اگر واقعۃ ً شوہر گاؤں میں جس جگہ بیوی کو رہائش دے رہا ہے وہ آباد ہوچکی ہے اور شوہر وہاں رہائش کی بنیادی ضروریات کا بھی انتظام کردے تو اس کے باوجود بیوی اگر شوہر کے گھر میں نہیں آتی تو شوہر کے ذمہ اس کا خرچہ اس وقت تک نہیں ہے جب تک وہ شوہر کے گھر نہ آجائے ۔
فتاوی شامی (3/ 575) میں ہے:
لا نفقة لأحد عشر ……. (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود ولو بعد سفره (قوله وهي الناشزة) أي بالمعنى الشرعي أما في اللغة فهي العاصية على الزوج المبغضة له (قوله ولو بعد سفره) أي لو عادت إلى بيت الزوج بعدما سافر خرجت عن كونها ناشزة بحر عن الخلاصة بأي فتستحق النفقة فتكتب إليه لينفق عليها أو ترفع أمرها للقاضي ليفرض لها عليه نفقة
شامی (3/146) میں ہے
ولیس لها أن تخرج بلا إذنه أصلًا
فتاویٰ ہندیہ(3/3)میں ہے :
الكبيرة إذا طلبت النفقة، وهي لم تزف إلى بيت الزوج فلها ذلك إذا لم يطالبها الزوج بالنقلة….. فإن كان الزوج قد طالبها بالنقلة، فإن لم تمتنع عن الانتقال إلى بيت الزوج فلها النفقة، فأما إذا امتنعت عن الانتقال، فإن كان الامتناع بحق بأن امتنعت لتستوفي مهرها فلها النفقة، وأما إذا كان الامتناع بغير الحق بأن كان أوفاها المهر أو كان المهر مؤجلا أو وهبته منه فلا نفقة لها كذا في المحيط‘
احسن الفتاوی ٰ (5/473) میں ہے :
بیوی کی الگ رہائش کے لیے ایک ایسے کمرہ کا انتظام کرنا شوہر پر فرض ہے جس میں کسی دوسرے کا کوئی دخل نہ ہو شوہر کی طرف سے ایسی رہائش کا انتظام ہونے کے باوجود بیوی اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلے تو وہ ناشزہ ہے اس کا نفقہ شوہر پر نہیں ، اگر شوہر ایسی رہائش کا انتظام نہ کرے تو بیوی بلا اجازت دوسری جگہ جانے سے ناشزہ نہیں بنتی اس لیے اس کا نفقہ شوہر پر واجب ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved