- فتوی نمبر: 34-130
- تاریخ: 07 دسمبر 2025
- عنوانات: خاندانی معاملات > ہبہ و ہدیہ
استفتاء
آپ سے ایک مسئلے کے بارے میں پوچھنا تھا اس کی تفصیل لکھ رہا ہوں اس مسئلہ کی قرآن و حدیث کی روشنی میں میری رہنمائی فرما دیں۔ میں حاجی محمد دین ہوں ۔میری شادی ہوئی اللہ نے مجھے صاحب اولاد کیا ایک بیٹی اور دو بیٹے ہوئے ۔ الحمدللہ میں نے اپنے بچوں کو دین و دنیا کی تعلیم دلوائی اور ان کی شادیاں کر دیں اور الحمدللہ سب صاحب اولاد ہیں ۔ دونوں بیٹے اپنی شادی کے بعد میرے ساتھ کاروبار میں شریک ہوگئےتھے )اس وقت یہ طے نہیں ہوا تھا کہ یہ کس حیثیت سے شریک ہوئے ہیں بس میرےمعاون کے طور پر کام کرتے تھے )۔اور ان کے اخراجات کاروبار سے پورے ہو رہے تھے تقریبا عرصہ نو سال پہلے مجھے فالج کا اٹیک ہوا اور کافی عرصہ میں ذہنی اور جسمانی طور پرسخت بیمار رہا۔ مجھے کچھ نہیں پتا تھا کہ میں کہاں ہوں ،لیکن اب میری طبیعت پہلے سے بہتر ہے اب صرف سہارے کے ساتھ چل سکتا ہوں ، جتنا عرصہ میں ٹھیک تھا اپنا کاروبار کرتا رہا اپنا گھر بنایا جس کا رقبہ تقریبا 10 مرلے ہے جو کہ میرے نام ہے، اس کے علاوہ تقریبا 15 سال پہلے میں نے اپنے کاروبار سے ایک اور پراپرٹی بنائی تھی 10 مرلہ پلاٹ خریدکراس کو تعمیر کیا تھا ۔ جب میں نے یہ پلاٹ خریدا تھا تو اس کی رجسٹری میں نے اپنے دونوں بیٹوں کے نام آدھی آدھی (پانچ پانچ مرلہ )کر دی تھی (خریدا تو اپنی نیت سے ہی تھا البتہ ٹیکس سے بچنے کے لیے ان کے نام کروادیا تھا اور زبان سے کبھی ان کو ہبہ نہیں کیا)اور اس پر بلڈنگ کی تعمیر بھی خود ہی کروائی تھی ۔ اس وقت کاروبار اسی بلڈنگ میں چل رہا ہے ۔پھر قدرت کی طرف سے جب میں بیمار ہو گیا تو بالکل بستر پر آگیا تھا ذہنی اور جسمانی طور پر بالکل مفلوج تھا ۔اس عرصہ میں میرے کاروبار کو میرے دونوں بیٹے اپنی نگرانی میں باہم مشورہ سے چلاتے رہے۔اور گھریلو اخراجات پورے کرتے رہے۔جس وقت میں بیمار ہوا تھا اس وقت تک کاروبار میں کوئی ایسا خاص قرضہ نہیں تھا ۔لیکن اس نو سال کے عرصہ میں جب کاروبار بیٹوں کی نگرانی میں رہا تو ان پر کاروباری قرض چڑھتا گیا اور بڑھتے بڑھتے تقریبا سوا کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ اس دوران حالانکہ میں بستر پر تھا اور کاروباری لین دین مکمل طور پر بیٹے ہی کرتے تھے وہ مجھے وقتا ً فوقتا ً کاروباری تفصیلات بتاتے تو میں اپنی سمجھ کے مطابق ان کو بتاتا کہ کاروبار پر قرض نہ بڑھاؤ ، کاروبار پر جو قرض چڑھا ہے وہ کسی کی کوتاہی کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ کاروبار میں نفع ختم ہوتا گیا البتہ میں متعدد بار بیٹوں کو تنبیہ کرتا رہا کہ صرف اسی کاروبار پر منحصر نہ رہو بلکہ کچھ کاروبار اور بھی شروع کرو جب کہ بیٹے کہتے تھے کہ ہمارے پاس اتنا سرمایہ ہی نہیں تھا کہ مزید کاروبار شروع کیا جاتا ۔
تقریبا ً تین سال پہلے دونوں بیٹے میرے پاس گھر سے متعلق پوچھنے آئے ۔ میں نے ان سے کہہ دیا کہ یہ گھر پانچ پانچ مرلے تم دونوں کا ہے ۔اس گھر کو تم ہی بناؤ اور اس میں رہو۔ میں اور میری بیوی بھی ان کے ساتھ ہی رہتے ہیں ۔ لیکن چونکہ ان کے پاس اس وقت رجسٹری کروانے کی رقم نہیں تھی اس لیے وہ گھر اپنے نام نہیں کروا سکے ۔فی الحال رجسٹری میرے ہی نام ہے تاہم میں اپنے بیٹوں اور بہؤوں کو بٹھا کر زبانی کہہ چکا ہوں کہ یہ گھر اب بھی تمہارا ہے اور بعد میں بھی تمہارا ہے ۔ اس کے بعد میرے چھوٹے بیٹے کا انتقال ہو گیا ۔
میرا اصل سوال یہ ہے کہ نو دس سال کے (میری بیماری کے) زمانہ میں جو قرض کاروبار پر چڑھا ہے اس کی ادائیگی کس کے ذمہ ہے ؟ میرے بیٹوں کے یا میرے ؟ حالانکہ میں تو دس سال پہلے ہی اپنا کاروبار دونوں بیٹوں کو حوالے کر چکا تھا ۔میں اور بیوی دونوں بیمار تھے اور ہمارے اخراجات بیٹے ہی پورے کرتے تھے ۔براہ کرم اس مسئلہ کا قرآن و حدیث کی روشنی میں بتادیں ۔
تنقیح : (1)جس وقت پہلا بیٹا بھی حیات تھا تب زید صاحب نے اپنا گھر دونوں بیٹوں کو زبانی ہبہ کیا تھا اور زید صاحب اور ان کی اہلیہ ابھی تک اسی گھر میں رہائش پذیر ہیں۔
(2) زید صاحب نے اپنے بیٹے خالد کی وفات کے بعد آدھا کاروبار مرحوم بیٹے کے بیٹے کے نام اور آدھا اپنے بیٹے عمر کے نام کر دیا تھا۔لیکن یہ بھی زبانی ہی کیا تھا اور پوتے کو قبضہ بھی نہیں دیا گیا اس وقت اس کی عمر بارہ سال ہے۔(اور یہ ہبہ تقریبا ً سات آٹھ ماہ قبل ہوا تھا ۔ جس وقت یہ کاروبار نام کیا تھا اس وقت کاروبارکے قرضے تقریباً سوا کروڑ کی مالیت کے تھے جبکہ کاروبار کی جگہ کی مالیت اندازا ً دو کروڑ کے لگ بھگ ہوگی اور کاروبار کی مشینری تقریبا ً بیس پچیس لاکھ کی ہوگی ۔)
(3) بیٹا عمر کہتا ہے کہ کاروبار کا قرضہ والد کے ذمہ ہے جبکہ والد کا کہنا ہے کہ میں تو عرصے سے بیمار اور معذور ہوں۔ لین دین میں نے نہیں کیا اور نہ میرے پاس کچھ ہے لیکن مجھے یہ فکر ہے کہ میرے ذمے کسی کا قرض نہ رہے ۔
مجھے اپنے والد کی طرف سے دیے گئے بیان سے اتفاق ہے ۔دستخط عمر
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں قرضہ بھی اُسی کے ذمے ہوگا جسے کاروبار ہبہ/ ہدیہ کیا گیا ہے کیونکہ عرف میں کسی کو چلتا کاروبار دینے کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ یہ کاروبار اس کے مالہ وما علیہ (اس کاروبار کے تمام لین دین) کے ساتھ اسے دیا جارہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved