• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مشترکہ خاندان میں مالی تقسیم

استفتاء

تحریری معاہدہ برائے مالی تقسیم حاکمِ واحد کے لیے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

معاہدہ / بیانِ معاملہ

ہم پانچ بھائی ہیں ، جن کے نام درج ذیل ہیں:

  1. بھائی نمبر 1: زید
  2. بھائی نمبر 2: عمر
  3. بھائی نمبر 3: بکر
  4. بھائی نمبر 4: خالد
  5. بھائی نمبر 5: سمیع

یہ معاہدہ/بیانِ معاملہ حاکمِ واحد / ثالث (مثلاً مفتی صاحب یا دارالافتاء) کی خدمت میں اس غرض سے پیش کیا جا رہا ہے کہ ہمارے درمیان ایک مالی معاملے کا شرعی و عادلانہ فیصلہ فرمایا جائے۔

پس منظر:

  1. شروع میں بھائی نمبر 1 اور بھائی نمبر 2 نے محنت مزدوری کی، اور ان کی کمائی مشترکہ کھاتے میں رکھی جاتی رہی۔
  2. ایک مشترکہ بھینس (جو تمام بھائیوں کی ملکیت تھی) فروخت کی گئی، اور اس رقم سے بھائی نمبر 3 کے لیے ایک دکان خریدی گئی جس میں مال تجارت ڈالا تاکہ وہ اپنا روزگار شروع کر سکے
  3. بعد ازاں بھائی نمبر 4 اور بھائی نمبر 5 بھی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھائی نمبر 3 کے ساتھ کام میں شامل ہو گئے۔
  4. بھائی نمبر 3 نے دکان سے حاصل ہونے والے نفع سے ایک ذاتی مکان، ایک دکان، دو کرایہ کی دکانیں بنائیں جن میں وہ اپنا سامان تجارت رکھ کر کاروبار کر رہا ہےاور ایک دکان بھائی نمبر 4  کے لیے کرائے پر لی گئی جس میں وہ موبائلوں کی خرید وفروخت اور ریپئرنگ کا کام کرتا ہے۔یہ تمام ترقی اس ابتدائی دکان اور مشترکہ سرمائے / قربانی سے ہوئی۔

ہم حاکمِ واحد سے درخواست کرتے ہیں کہ:

  1. کیا دکان سے حاصل ہونے والے نفع اور اس سے بنائی گئی جائیدادیں (مکان، دکانیں) مشترکہ ملکیت میں شامل ہوں گی یا صرف بھائی نمبر 3 کی ذاتی ملکیت تصور ہوں گی؟
  2. اگر یہ مشترکہ ہیں تو ان کی شرعی تقسیم کیسے ہو گی؟محنت و مشقت کا لحاظ بھی کیا جائے گا اور سرمایہ و شراکت داری کا بھی لحاظ کیا جائے گا یا نہیں؟

ہم پانچوں بھائی اس معاہدہ پر راضی ہیں اور اس بات پر متفق ہیں کہ جس فیصلہ تک حاکمِ واحد (ثالث) پہنچے گا، ہم بلا جبر و اکراہ اس کو تسلیم کریں گے۔ہم میں سے ہر ایک کو مکمل موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنی بات بیان کرے۔حاکمِ واحد کا فیصلہ ہمارے لیے شرعی فیصلہ ہو گا۔

وضاحت مطلوب ہے کہ : کیا اس طرح کے معاملات کے بارے میں آپ کے  خاندان کا پہلے سے کوئی عرف ہے؟

جواب وضاحت : نہیں ہے۔

زید:  *********

عمر :*******

بکر:********

خالد:********

سمیع : *********

مستفتی:سمیع *******

تنقیح: (1) سب  بھائی اس تحریر سے متفق ہیں ۔ (  2)جائیداد صرف بھائی نمبر 3 کی محنت سے بنی ہے باقی بھائیوں کی محنت سے نہیں، بھائی نمبر 4 شروع میں بھائی نمبر 3 کے ساتھ کام کرتا رہا پھر فیکٹری میں کام کرنا شروع کیا پھر  اس نے اپنی دکان کھول لی، اور بھائی نمبر 5 اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ بھائی نمبر 3کے ساتھ دکان میں کام کرتا رہا اور  اب4بھائی انہی دکانوں میں کام کررہے ہیں جبکہ ایک بھائی درس وتدریس کرتے ہیں۔اور سوال سب بھائیوں کے کاروبار  کے نفع کی تقسیم کے بارے میں ہے۔

وضاحت مطلوب ہے: 1۔مشترکہ بھینس وراثت میں ملی تھی؟ یا اپنی کمائی سے لی تھی؟ 2۔آپ کی بہنیں ہیں؟ اگر ہیں تو کتنی ہیں؟ 3۔والدین زندہ ہیں یا فوت ہو گئے ہیں؟

جواب وضاحت:1۔بھینس والدین کی تھی اسے بیچ کر اور مزید مشترکہ رقم شامل کرکے کاروبار شروع کیاگیا۔ 2۔ایک بہن ہے۔ 3۔ والدہ حیات ہیں، والد صاحب فوت ہوچکے ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں جو مال و جائیداد کسی بھی بھائی کی محنت سے حاصل ہوا ہے وہ سب میں یعنی تمام بھائیوں،بہنوں اور والدہ میں مشترک شمار ہوگا اور ان میں ان کے وراثتی حصوں کے اعتبار سے تقسیم ہوگا۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں چونکہ ابتداء  میں کاروبار کی بنیاد وراثت کی ایک بھینس تھی جو سب میں اپنے اپنے شرعی وراثتی حصوں کے بقدر مشترک تھی اور اس مشترکہ سرمائے سے کاروبار کرنے کی سب کی طرف سے صراحتاً  یا دلالۃً اجازت بھی تھی اور گھریلو نظام کے مشترک ہونے کی وجہ سے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ سب کی محنت اور عمل بھی مشترک تھا اور ایسی صورت میں فقہاء کی تصریحات کے مطابق نفع میں بھی سب اپنے اپنے وراثتی حصوں کے بقدر شریک ہوں گے اور زیادہ محنت کرنے والے کو اس کی محنت کی الگ سے اجرت نہیں ملے گی جیسا کہ آنے والے حوالوں کے خط کشیدہ عبارات سے معلوم ہوتا ہے۔

نوٹ: اوپر ذکر کردہ جواب اصولی اعتبار سے ہے۔ باقی ہماری ذاتی رائے یہ ہے کہ جس بھائی نے نمایاں طور پر زیادہ محنت کی ہے اور زیادہ تر نفع اس کی محنت سے حاصل ہوا ہے تو سب باہمی رضا مندی سے اسے مناسب طور پر زیادہ حصہ دیں تاکہ اس کی بھی دلجوئی ہو سکے۔

تنقیح الحامدیہ (ص :95) میں ہے:

سئل في اخوة خمسة تلقوا تركة عن ابيهم فاخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة علي قدر استطاعته في مدة معلومة وحصل ربح في المدة  وورد علي الشركة غرامة دفعوها من المال فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وان اختلفوا في العمل والراي كثرة وصوابا

الجواب : نعم اذ كل واحد منهم يعمل لنفسه واخوته علي وجه الشركة ۔۔۔۔ (اقول)۔۔۔۔ وهذه المسئلة تقع كثيرا خصوصا في اهل القري حيث يموت الميت منهم وتبقي تركته بين ايدي ورثته بلا قسمة يعملون فيها وربما تعددت الاموات وهم علي ذلك ۔۔۔۔۔۔ ومما يناسب هذا المقام ما كتبته في حاشيتي ردالمحتار علي الدر المختار في آخر كتاب المزارعة نقلا عن التتارخانية وغيرها مات رجل وترك اولادا صغارا وكبارا وامراة والكبار منها او من امراة غيرها فحرث الكبار وزرعوا في ارض مشتركة او في ارض الغير كما هو المعتاد والاولاد كلهم في عيال المرأة تتعاهدهم وهم يزرعون ويجمعون الغلات في بيت واحد وينفقون من ذلك جملة قال صارت هذه واقعة الفتوي واتفقت الاجوبة انهم ان زرعوا من بذر مشترك بينهم باذن الباقين لو كبارا او اذن الوصي لو صغارا الغلة مشتركة

شامی (4/307) ميں  ہے:

‌يقع ‌كثيرا ‌في ‌الفلاحين ونحوهم أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلا قسمة ويعملون فيها من حرث وزراعة وبيع وشراء واستدانة ونحو ذلك، وتارة يكون كبيرهم هو الذي يتولى مهماتهم ويعملون عنده بأمره وكل ذلك على وجه الإطلاق والتفويض، لكن بلا تصريح بلفظ المفاوضة ولا بيان جميع مقتضياتها مع كون التركة أغلبها أو كلها عروض لا تصح فيها شركة العقد، ولا شك أن هذه ليست شركة مفاوضة، خلافا لما أفتى به في زماننا من لا خبرة له بل هي شركة ملك كما حررته في تنقيح الحامدية.

ثم رأيت التصريح به بعينه في فتاوى الحانوتي، فإذا كان سعيهم واحدا ولم يتميز ما حصله كل واحد منهم بعمله يكون ما جمعوه مشتركا بينهم بالسوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا

فتاوی  الحانوتی ( من کتاب الشرکۃ فی المخطوطۃ علی انترنیت) میں ہے:

سئل فی اخوة اربعة مات ابوهم وترك مالا معلوما فوضعوه في يد احدهم يتصرف علي سبيل الشركة ثم انه مات احدهم فاستمر المال في يد الموضوع في يده علي سبيل الشركة ايضا ثم اذا احدهم اراد اخذ استحقاقه فقال له الذي في يده المال لا اعطيك الا استحقاقك الذي طلع لك من والدك بغير ربح بناء علي ان هذه الشركة فاسدة فهل تكون هذه الشركة صحيحة ويلزم براس المال  مع ما ربح او لا اجاب تكون هذه الشركة صحيحة  ويلزم براس المال  مع ما ربح 

فتاویٰ تاتارخانیہ (26/373) میں ہے:

واذا مات الرجل وترك اولادا صغارا وكبارا وامراة والاولاد الكبار من هذه المراة او من امراة اخري لهذا الميت فعمل الاولاد الكبار عمل الحراثة وزرعوا في ارض مشتركة او في ارض الغير بطريق الكديوري كما هو المعتاد  بين الناس وهولاء الاولاد كلهم في عيال المراة تتاعهد احوالهم وهم يزرعون ويجمعون الغلات في بيت واحد وينفقون من ذلك جملة فهذه الغلات يكون مشتركة بين المراة والاولاد او يكون خاصة للمزارعين فهذه المسالة صارت واقعة الفتوي واتفقت الاجوبة انهم ان زرعوا من بذر مشترك بينهم باذن الباقين ان كانوا كبارا او باذن الوصي ان كان الباقون صغارا كانت الغلات كلها علي الشركة وان زرعوا من بذر انفسهم كانت الغلات للمزارعين وان زرعوا من بذر مشترك بغير اذنهم او بغير اذن الوصي فالغلات للمزارعين

شامی (4/326) میں ہے:

حاصله ‌أن ‌الشركة الفاسدة إما بدون مال أو به من الجانبين أو من أحدهما، فحكم الأولى أن الربح فيها للعامل كما علمت، والثانية بقدر المال، ولم يذكر أن لأحدهم أجرا؛ لأنه لا أجر للشريك في العمل بالمشترك كما ذكروه في قفيز الطحان والثالثة لرب المال وللآخر أجر مثله

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved