• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شرکت کی ایک سے زائد اقسام کا معاہدہ کرنا

استفتاء

زید کے پاس ایک لاکھ روپیہ ہے ، عمرو کے پاس بھی ایک لاکھ روپیہ ہے ، اور زید و عمرو دونوں مکانات وغیرہ کے رنگ و روغن کا کام بھی کر سکتے  ہیں ۔  یہ دونوں اس طرح شرکت کرتے ہیں کہ اپنا ایک ایک لاکھ روپیہ ملا کر دو لاکھ سے کریانہ کی ایک دوکان کھول لیتے ہیں۔ اور ساتھ رنگ و روغن کے کام کی ذمہ داری لینے کا معاہدہ بھی کرلیتے ہیں کہ اگر رنگ و روغن کا کوئی کام آئے گا تو وہ بھی لیں گے اور حسب موقع دونوں یا کوئی ایک جا کر رنگ  وروغن کا کام کر آئے گا۔ یوں انکے درمیان شرکت اموال اور شرکت اعمال کا معاہدہ ہو جاتا ہے ۔سوال یہ ہے کہ شرعی لحاظ سے اس میں کوئی مضائقہ یا حرج ہے ؟

وضاحت مطلوب ہے:کیا یہ دونوں معاملے ایک دوسرے کے ساتھ مشروط ہیں؟

جواب وضاحت: ایک دوسرے کے ساتھ مشروط نہیں  ہیں  بلکہ ابھی دکان بنائی ہے اور سوچاکہ یہ کام بھی کر لیتے ہیں لیکن اگر دوسرا کام شروع نہ بھی کیا تو دکان چلتی رہے گی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت جائز ہے کیونکہ مذکورہ صورت  میں  دونوں عقد الگ الگ  ہیں اور ایک عقد دوسرے کے ساتھ مشروط  نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved