- فتوی نمبر: 34-209
- تاریخ: 16 دسمبر 2025
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > الاجیر الخاص
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میری نائی والی دوکان ہے اور میرے ساتھ میرا بھائی بھی کام کرتا ہے اور میرے والد کی علیحدہ دوکان ہے اور میرے اور دو بھائی چھوٹے ہیں ایک کاریگر ہوگیا ہے اور دوسرا کام سیکھ رہا ہے غرض ہمارا پورا گھرانہ اس پیشے کے ساتھ وابستہ ہے۔
ہمارے پاس مسلمان اور غیر مسلم آتے ہیں اور بال کٹواتے ہیں اور ڈاڑھی بھی کٹواتے ہیں آیا اس عمل کی جو ہمیں اجرت ملتی ہے یہ جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً: سر اور مونچھوں کے بال کاٹنے کی اجرت لینا جائز ہےالبتہ داڑھی کاٹنے میں یہ تفصیل ہے کہ غیر مسلم کی داڑھی کاٹنے کی اجرت لے سکتے ہیں ،مسلمان کی داڑھی کاٹنے کی اجرت نہیں لے سکتے، البتہ مسلمان کی داڑھی کاٹنے میں جو بلیڈ اور کریم وغیرہ استعمال ہوئی اس کے پیسے لے سکتے ہیں لیکن اس صورت میں بھی داڑھی کاٹنے کا گناہ بہر حال ہو گا اس لیے کوشش کریں کہ مسلمان کی داڑھی کاٹنے سے معذرت کر لیا کریں اور معذرت کرنا مشکل ہو تو کام تبدیل کر لیں اور جب تک کوئی اور کام نہ ملے اس وقت تک دو کام کرتے رہیں (1) داڑھی کاٹنے کے گناہ پر سچے دل سے توبہ و استغفار کرتے رہیں (2) داڑھی کاٹنے میں جو بلیڈ وغیرہ استعمال ہوا ہے اس کی قیمت سے زائد قیمت کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کر دیا کریں۔
شرح النووي على مسلم (14/100)میں ہے:
(أخبرنى عمر بن نافع عن أبيه عن بن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن القزع قلت لنافع وما القزع قال يحلق بعض رأس الصبي ويترك بعض) وفي رواية أن هذا التفسير من كلام عبيد الله القزع بفتح القاف والزاي وهذا الذي فسره به نافع أو عبيد الله هو الأصح وهو أن القزع حلق بعض الرأس مطلقا ومنهم من قال هو حلق مواضع متفرقة منه والصحيح الأول لأنه تفسير الراوي وهو غير مخالف للظاهر فوجب العمل به وأجمع العلماء على كراهة القزع إذا كان في مواضع متفرقة إلا أن يكون لمداواة ونحوها وهي كراهة تنزيه
شامی (9/672) میں ہے:
ويكره القزع وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعا مقدار ثلاثة أصابع كذا في الغرائب
بدائع الصنائع(5/562،ط:دار الکتب العلمیۃ)میں ہے:
وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو
تاتارخانیہ (15/130) میں ہے:
في نوادر هشام عن محمد: رجل إستأجر رجلا ليصور له صورا أو تماثيل الرجال في بيت أو فسطاط فإنى أكره ذلك وأجعل له الأجر، قال هشام: تأويله إذا كان الإصباغ من قبل الأجير
نور الانوار (ص:59) میں ہے:
(والكفار مخاطبون بالامر بالايمان وبالمشروع من العقوبات والمعاملات وبالشرائع في حكم المؤاخذة في الآخرة واما في وجوب الاداء في احكام الدنيا فكذلك عند البعض) يعني انهم مخاطبون باداء العبادات في الدنيا أيضا عند البعض من مشايخ العراق واكثر اصحاب الشافعى وهذا مغلطة عظيمة للقوم (والصحيح انهم لا يخاطبون باداء ما يحتمل السقوط من العبادات) أى المذهب الصحيح لنا ان الكفار لايخاطبون باداء العبادات التى تحتمل السقوط مثل الصلوة والصوم فانهما يسقطان عن اهل الاسلام بالحيض والنفاس ونحوهما
سوال یہ ہے کہ ڈاڑھی مونڈنے کی اجرت حلال ہے یا حرام ؟ آپ کے سابقہ فتوی سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال ہے لیکن منڈوانا گناہ ہے۔ پھر اسی حرام آمدنی سے کوئی چیز خریدنا اور مہمان کو کھلانا جائز ہے یا نہیں جب کہ خریدنے کی حالت میں عقد اور نقد جمع نہ ہو جو امام کرخی کا قول ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کسی مسلمان کا اپنی داڑھی کٹوانا اور کسی دوسرے مسلمان کی داڑھی کاٹنا حرام ہے اور اس کی اجرت بھی حرام ہے ہمارے سابقہ فتویٰ میں بھی یہی لکھا ہے کہ “مسلمان کی داڑھی کاٹنے کی اجرت نہیں لے سکتے” اس عبارت سے آگے جو پیسے لینا جائز لکھا گیا ہے وہ داڑھی کاٹنے میں جو بلیڈ اور کریم استعمال ہوئی ہو صرف اس کی قیمت لینا جائز لکھا ہے یعنی ہمارے سابقہ فتوے میں داڑھی کاٹنے کی اجرت کو حلال نہیں قرار دیا گیا ۔ اور جس اجرت کو ہم نے اپنے فتوے میں حلال نہیں کہا اس سے امام کرخی رحمہ اللہ کے قول کو لیے بغیر کوئی چیز خریدنا اور مہمان کو کھلانا جائز نہیں اور جس کو ہم نے اپنے فتوے میں حلال کہا ہے اس سے کوئی چیز خریدنا اور مہمان کو کھلانا امام کرخی رحمہ اللہ کے قول کو لیے بغیر بھی جائز ہے۔
العرف الشذی (4/162) میں ہے:
وأما تقصير اللحية بحيث تصير قصيرة من القبضة فغير جائز في المذاهب الأربعة
شامی (3/398) میں ہے:
وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد
بدائع الصنائع (5/562) میں ہے:
وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو
شامی (7/518) میں ہے:
توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم …………. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس
الفقہ الاسلامی وادلتہ (10/7945) میں ہے:
إذا أخذ المال أجرة عن عمل محرم فإن الآخذ يصرفه في وجوه الخير ولا يرده إلى من أخذه منه
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved