- فتوی نمبر: 31-209
- تاریخ: 18 دسمبر 2025
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > صریح الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
ایک آدمی نے فون پر اپنی بیوی سے کہا کہ “میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں” بیوی نے انجان بن کر چار مرتبہ پوچھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہو ، شوہر نے یہ کہا کہ “میں نے تمہیں طلاق دی” اب کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ایک رجعی طلاق واقع ہوچکی ہے جس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر رجوع ہوسکتا ہے اور اگر عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو عدت کے بعد اکٹھے رہنے کے لیے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا جس میں مہر بھی ہوگا اور گواہ بھی ہوں گے۔
نوٹ: رجوع کرنے یا دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر کے ان الفاظ سے کہ “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” ایک رجعی طلاق واقع ہوئی اس کے بعد بیوی کے سوال کرنے پر شوہر نے اسی طلاق کی خبر دی اور طلاق کی خبر دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی اس لیے مذکورہ صورت میں ایک رجعی طلاق واقع ہوئی ہے۔
الاصل لمحمد بن الحسن( 4/472) میں ہے:
لو قال قد طلقتك………. ثم قال له رجل او امراة ما قلت فقال طلقتها …………. فهي واحدة في القضاء وفيما بينه وبين الله تعا لي لان هذا جواب كلامهم
بدا ئع الصنا ئع( 3/163) میں ہے:
ولو قال لامراته انت طالق فقال له رجل ما قلت فقال طلقتها او قال هي طالق فهي واحدة في القضاء ،لان كلامه انصرف الي الاخبار بقرينة الاستخبار
مختصر الطحاوی (5/20) میں ہے:
واذا طلقها بان قال لها …….. قد طلقتك فانه يملك رجعتها فان شاء راجعها قبل انقضاء العدة وان شاء تركها حتى تنقضى عدتها
امدادالفتاوی( 5/289) میں ہے:
سوال: گزارش خدمت آنکہ اگر کسی شخص نے کسی وجہ سے اپنی جورو پر خفا ہوکر یہ کہا کہ اب اسکو اور نہیں رکھوں گا یہ کہہ کر گھر سے روانہ ہوکر دوسرے کسی کے مکان میں چلا آیا تو ایک شخص نے اس سے کہا کہ تونے اپنی بیوی کو چھوڑ دیا جواب میں اس نے کہا کہ ہاں چھوڑ دیا یہ بہت زبان دراز ہے گا لی گلوچ بکتی ہے دوسرے شخص نے پھر اس سے کہا کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو چھوڑ دیاپھر کہا کہ ہاں چھوڑ دیا یہ کسی دن ہوٹل میں رہی تھی تیسرے شخص نے بھی ایسا ہی اس سے پوچھا اس کے جواب میں بھی یہی کہا کہ ہاں چھوڑ دیا تو کیا صورت مسؤل عنہا میں اس شخص کی جورو پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اور اگر طلاق واقع ہوتو ایک طلاق ہوگی یا تین طلاقیں پڑ جائیں گی اور اگر ایک واقع ہوتو وہ رجعی ہوگی یا بائن ؟یہاں کے عرف میں چھوڑدینے کو ایسے محل میں طلاق دینے ہی کے معنی پر استعمال کرتے ہیں دوسرے معنی مراد نہیں ہوتے ۔ والسلام
جواب: صورۃ مسؤلہ میں ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اس لئے کہ زوج کا استفہام بایقاع الطلاق کے جواب میں یہ کہنا کہ ہاں چھوڑ دیا بمقتضائے مطابقہ جواب للسوال انشاء طلاق نہیں ہے اخبار عن انشاء الطلاق ہے جس سےبصورۃ کذب خبر صرف قضاء و بصورۃ صدق دیانۃ بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے
فى البحر عن الفتح : ولو اقر با لطلاق وهو كاذب وقع فى القضاء 1/246 وفى رد المختار عن البحر عن البزازية والقنية :لو اراد به (اي باقرار الطلاق ) الخبر عن الماضى كذبا لا يقع ديانة وان اشهد قبل ذلك لا يقع قضاء 2/694
اور تکرار اخبار گو محتمل تعدد مخبر عنہ ہے لیکن ظاہر یہی ہے کہ تینوں خبریں ایک ہی انشاء کی اور تینوں حکایتیں ایک ہی محکی عنہ کی ہیں اس لئے با وجو د تکرار اخبار طلاق ایک ہی واقع ہوگی ونظيره ما رواه الشامي في رد المختار عن كافي الحا كم واذا قال انت طالق،ثم قيل له ماقلت فقال قد طلقتها او قلت هي طالق فهي طالق واحدة ، لانه جواب 2/755
تو جبکہ جزئیہ مذکورہ میں انشاء طلاق ( جو کہ حکم بوقوع الطلاق میں اصل واعلی ہے اس) کے بعد کا اخبار( باوجود احتمال تعدد انشاء میں اخبار بعد الاخبار کے ساتھ متحد ہونے کے) دال علی تعددالطلاق نہ ہوا تو اخبار عن الانشاء ( جوکہ حکم لوقوع الطلاق میں تابع وادنی ہے اس (کے بعد کا اخبار بدرجہ اولی دال علی التعدد نہ ہوگا اور چونکہ لفظ چھوڑدیا وہاں کے عرف میں ایسے محل میں حسب بیان مستفتی طلاق ہی کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے ، اس لیے یہ صریح فی الطلاق ہوگا اور اس لفظ کے ساتھ اقرار سے بھی طلاق رجعی واقع ہوگی فی تنویر الا بصار
صريحه ما لم يستعمل الا فيه ( ولو با لفارسية در) كطلقتك وانت طالق مطلقة ويقع بها ( اي بهذه الالفاظ وما بمعنا ها من الصريح در) واحدة رجعية وان نوى خلافها او لم ينو 2/704
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved