- فتوی نمبر: 31-260
- تاریخ: 30 دسمبر 2025
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
Miss ****** m apko talaq deta hu
Miss***** m apko talaq deta hu
Miss ****** m apko talaq deta hu
Aaj k bad tumhara mera taluq khatam
Ab mujhay dobara msg na krna
ترجمہ: مس …….. میں آپ کو طلاق دیتا ہوں
مس ………. میں آپ کو طلاق دیتا ہوں
مس ………. میں آپ کو طلاق دیتا ہوں
آج کے بعد تیرامیرا تعلق ختم
اب مجھے دوبارہ میسج نہ کرنا
میرے شوہر نے مجھے ایسے طلاق دی ہے تو کیا ایسے طلاق ہوجاتی ہے؟کیا اس صورت میں رجوع ممکن ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: شوہر اور بیوی کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔
جواب وضاحت: سائلہ بیوی ہے ۔ شوہر کا رابطہ نمبر:*********
بیوی کا بیان:
میرا اور میرے خاوند کا جھگڑا ہوا انہوں نے دو بار مجھ کو طلاق،طلاق بول دیا پھر ہماری صلح ہوگئی اور ہم ساتھ رہنے لگے ،کچھ سال بعد پھر ہمارا جھگڑا ہوگیا اور انہوں نے مجھ کو طلاق ،طلاق بول دیا لیکن بعد میں پچھتاوا ہوا اور ہماری عدت سے پہلے ہی صلح ہو گئی اور ہم ساتھ رہنے لگےاب پھرکچھ سال کے بعد ہمارا جھگڑا ہوا اور انہوں نے میسج پر ہی مجھ کو طلاق دے دی 3 دفعہ لکھ کر میرا نام باقاعدہ لکھ کر تین بار ۔ہمارے چار بچے ہیں ۔ ہمیں حلالہ کے علاوہ رجوع کرنے کا کوئی آسان راستہ بتائیں میں اپنے خاوند سے صلح کرنا چاہتی ہوں ۔
شوہر کا بیان:
شوہر سے دارالافتاء کے واٹس ایپ نمبر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے مندرجہ ذیل بیان دیا:
میرا اور میری بیوی کا جھگڑا ہوا میں نے دو بار اس کو طلاق،طلاق بول دیا پھر ہماری صلح ہوگئی اور ہم ساتھ رہنے لگے ،کچھ سال بعد پھر ہمارا جھگڑا ہوگیا اور میں نے اس کو طلاق ،طلاق بول دیا لیکن بعد میں پچھتاوا ہوا اور ہماری صلح ہو گئی عدت سے پہلے اور ہم ساتھ رہنے لگےاب پھرکچھ سال کے بعد ہمارا جھگڑا ہوا اور میں نے میسج پر ہی اپنی بیوی کو طلاق دے دی 3 دفعہ لکھ کر ۔ میرے چار بچے ہیں ۔ پلیز مجھے کوئی حل بتائیں میں اپنی بیوی سے صلح کرنا چاہتا ہوں۔
وضاحت مطلوب ہے:(1)پہلی دو طلاقوں کے بعد صلح کب ہوئی؟ صلح سے پہلے کتنی ماہواریاں گزر چکی تھیں ؟ (2)دونوں جگہ صلح سے کیا مراد ہے؟دوبارہ نکاح ہوا یا صرف صلح ہوئی ؟(3)دونوں مرتبہ طلاق کے کیا الفاظ بولے تھے؟وہ پورے جملے لکھیں ؟
جواب وضاحت :ماہواری ایک بھی نہیں آئی تھی فورا فورا صلح ہوگئی تھی نکاح نہیں ہوا تھا بس آپس میں ٹھیک ہوگئے تھے۔طلاق کے الفاظ بس یہ ہی تھے کہ طلاق ،طلاق۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہےلہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے ۔
توجیہ:خاوند کے پہلی مرتبہ دو بار “طلاق،طلاق “کہنے سے دو رجعی طلاقیں ہوگئیں تھیں اور عدت میں رجوع کر لینے کی وجہ سے نکاح باقی رہا تھا پھر صلح کے بعد جب شوہر نے دوسری مرتبہ “طلاق،طلاق”کا لفظ بولا تو تین طلاقیں پوری ہوگئیں اور بیوی شوہر پر حرام ہوگئی اور تین طلاقوں کے بعد رجوع یا صلح کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
حاشیہ ابن عابدین (4/444،445) ميں ہے:
ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته اھ۔ ——- ويؤيده ما في البحر لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن عن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لأنه يحتمله كلامه ——- وسيذكر قريبا أن من الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام، فيقع بلا نية للعرف إلخ. فأوقعوا به الطلاق مع أنه ليس فيه إضافة الطلاق إليها صريحا، فهذا مؤيد لما في القنية، وظاهره أنه لا يصدق في أنه لم يرد امرأته للعرف، والله أعلم ۔
الدر المختار(4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل۔
حاشیہ ابن عابدین(4/509،510)میں ہے :
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق۔
بدائع الصنائع (4/460) میں ہے:
أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت۔
بدائع الصنائع(4/479) ميں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]
ہدایہ (2/132) ميں ہے:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها
امداد الفتاوی (5/249)میں ہے:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں، میں نے حالت غصہ میں یہ کلمے کہے ہیں (طلاق دیتاہوں طلاق طلاق) اور میں نے کوئی کلمہ فقرہ بالا سے زیادہ نہیں کہا اور نہ میں نے اپنی منکوحہ کا نام لیا اور نہ اُس کی طرف اشارہ کیا اور نہ وہ اس جگہ موجود تھی اور نہ اُس کی کوئی خطا ہے یہ کلمہ صرف بوجہ تکرار (یعنی نزاع) یعنی میری منکوحہ کی تائی کے نکلے جس وقت میرا غصہ فرو ہوا فورًا اپنی زوجہ کو لے آیا ان دو اشخاص ہیں ایک میرے ماموں اور ایک غیرشخص ہے اور مستورا تیں ہیں ۔
الجواب: چونکہ دل میں اپنی ہی منکوحہ کو طلاق دینے کا قصد تھا؛ لہٰذا تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved