- فتوی نمبر: 31-261
- تاریخ: 30 دسمبر 2025
- عنوانات: عبادات > قربانی کا بیان > عقیقہ کا بیان
استفتاء
1۔کیا عقیقہ کرنا سنت مؤکدہ ہے؟
2۔اگر کوئی استعداد کے باوجود بھی نہیں کرواتا تو گناہ گار ہوگا یا نہیں؟
3۔کیا ساتویں دن عقیقہ کروانا ہی سنت ہے یا زندگی میں کبھی بھی کر سکتے ہیں؟
4۔عقیقہ کے گوشت کے مصارف کون کونسے ہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ عقیقہ کرنا سنت مؤکدہ نہیں بلکہ مستحب ہے ۔
2۔ اگر کوئی استعداد کے باوجود بھی نہیں کرواتا تو گناہ گار نہیں ہو گا ۔
3۔ عقیقہ زندگی میں کبھی بھی کرسکتے ہیں تاہم سب سے افضل یہ ہے کہ ساتویں دن ہو اور یہ نہ ہو سکے تو ساتویں دن کا لحاظ ہو یعنی چودھویں دن کرلیا جائے یا اکیسویں دن کرلیا جائے اسی طرح سات سات دن کے بعد کسی دن بھی کرلیا جائے اور یہ بھی نہ ہوسکے تو کسی بھی دن کرلیا جائے۔
4۔عقیقہ کے گوشت کے مصارف وہی ہیں جو قربانی کے گوشت کے ہیں ۔
اعلاء السنن (117/17 باب العقیقہ) میں ہے:
أنها إن لم تذبح في السابع ذبحت في الرابع عشر، وإلا ففي الحادي والعشرین، ثم هکذا في الأسابیع.
اعلاء السنن (127/17) میں ہے:
یصنع بالعقیقة مایصنع بالأضحیة … وفي قوله: “یأکل أهل العقیقة ویهدونها” دلیل علی بطلان ما اشتهر علی الألسن: أن أصول المولود لایأکلون منها؛ فإن أهل العقیقة هم الأبوان أولًا ثم سائر أهل البیت.
شامی(554/9) میں ہے:
يستحب لمن ولد له ولد أن يسميه يوم أسبوعه ويحلق رأسه ويتصدق عند الأئمة الثلاثة بزنة شعره فضة أو ذهبا ثم يعق عند الحلق عقيقة إباحة على ما في الجامع المحبوبي، أو تطوعا على ما في شرح الطحاوي، وهي شاة تصلح للأضحية تذبح للذكر والأنثى سواء فرق لحمها نيئا أو طبخه بحموضة أو بدونها مع كسر عظمها أو لا واتخاذ دعوة أو لا، وبه قال مالك. وسنها الشافعي وأحمد سنة مؤكدة شاتان عن الغلام وشاة عن الجارية غرر الأفكار ملخصا، والله تعالى أعلم.
امداد الاحکام(190/4) میں ہے:
عقیقہ ساتویں دن کرنا مستحب ہے:
سوال: عقیقہ میں رعایت سات دن یا چودہ یا اکیس دن وغیرہ نہ کرکے جب جی چاہے عقیقہ کروں تو عقیقہ ہوگا یا نہیں؟ حدیث وفقہ میں جو سات دن وغیرہ کی تصریح ہے یہ اس وقت کے واسطے ہے یا نفسِ جواز کے واسطے بیان کی گئی ہے ؟ بادلیل مع حوالہ کتاب معتبرہ تحریر فرماویں۔
الجواب: سات کے عدد کی رعایت محض افضل ہے ورنہ عقیقہ بہر صورت ادا ہو جائے گا ۔
قال في تنقيح الحامدية في احكام العقيقة ج 2 ص 212،213
ولو قدم يوم الذبح قبل يوم السابع أو أخره جاز إلا أن يوم السابع افضل (إلى أن قال) ووقتها بعد تمام الولادة إلى البلوغ فلا يجزي قبلها وذبحها في اليوم السابع يسن والاولى فعلها صدر النهار عند طلوع الشمس بعد وقت الكراهة للتبرك بالبكور وليس من السبعة يوم الولادة خلافا للشيخين ولو ولد ليلا حسبت الذبيحة من الصبيحة ويسن أن يعق نفسه من بلغ ولم يعق عنه اه
اس سے معلوم ہوا کہ سات کے عدد کی رعایت کرنا صرف مسنون ہے ورنہ ادائے عقیقہ میں بغیر اس کے بھی خلل نہیں ہوگا۔
فتاویٰ مفتی محمود (613/9) میں ہے:
سوال:عقیقہ کرنا سنت ہے یا مستحب ہے اگر سنت ہے تو اس کی وضاحت حدیث کے ساتھ کی جائے اور اگر مستحب ہے تو اس کی وضاحت بیان کرے؟
الجواب:جس کے ہاں کوئی لڑکا یا لڑکی پیدا ہو تو مستحب ہے کہ ساتویں دن اس کا نام رکھ دے اور عقیقہ کر دے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved